خدا کا قانون۔ یہ ایک دکاندار کا قصہ ہے، اس کے یہاں گھی کا کاروبار تھا۔ پہلے وہ ایک معمولی خوردہ فروش تھا۔ دھیرے دھیرے اس کا کاروبار بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ گھی کا ہول سیل بیوپاری بن گیا۔
اس کے یہاں ایک منیم جی اکاؤنٹنٹ تھے جو شروع سے ان کے یہاں کام کر رہے تھے۔ منیم جی کا دوپہر کا کھانا روزانہ ان کے گھر سے آیا کرتا تھا۔ ان کا لڑکا روزانہ ٹفن کیریئر میں کھانا لے کر آتا۔ یہ ٹفن کیریئر غیر معمولی طور پر بڑا تھا۔
لوگ مذاق میں منیم جی سے کہا کرتے تھے کہ تم اکیلے کھانے والے ہو اور روزانہ 10 آدمی کا کھانا گھر سے منگاتے ہو۔ یہ معمول برسوں تک جاری رہا، یہاں تک کہ ایک روز ایسا ہوا کہ ان کا لڑکا کھانے کے بعد ٹفن کیریئر لے کر واپس جا رہا تھا کہ وہ دکان کی سیڑھی پر لڑکھڑا کر گر پڑا۔ اس کے ساتھ ہی ٹفن کیریئر بھی گر گیا اور سارے ڈبے کھل گئے، معلوم ہوا کہ ان تمام ڈبوں میں گھی بھرا ہوا تھا۔ دکاندار نے یہ منظر دیکھ لیا۔
وہ فوراً سمجھ گیا کہ منیم جی اتنے بڑے ٹفن کیریئر میں کھانا کیوں منگاتے تھے۔ اس کے بعد وہ منیم جی کو لے کر اندر گودام کے کمرے میں گیا۔ اس نے منیم جی سے کہا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ کتنے زیادہ کنستر یہاں میرے گودام میں بھرے ہوئے ہیں۔ تمہارے ساتھ میرا تعلق شروع سے رہا ہے۔
تم یہ بھی جانتے ہو کہ 15 سال پہلے جب میں نے یہ کاروبار شروع کیا تو میرے پاس پونجی کم تھی۔ میں گھی کا صرف ایک کنستر لا کر اس کو پھٹکر میں بیچتا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے میرا کاروبار بڑھا، یہاں تک کہ آج میں شہر کا ایک بڑا ہول سیل ڈیلر ہوں۔ اب تم اپنی حالت کا اور میری حالت کا مقابلہ کرو۔
تم برسہا برس سے روزانہ اپنے ٹفن کیریئر میں گھی بھر کر یہاں سے لے جا رہے ہو، مگر حال یہ ہے کہ تمہاری جو حالت پہلے تھی وہی حالت آج بھی ہے۔ اور اسی مدت میں مجھ کو خدا نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ اب تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہو کہ لٹنے والا فائدے میں ہے یا لوٹنے والا۔ دنیا کو بنانے والے نے اس دنیا کو جس ڈھنگ سے بنایا ہے، وہ یہ ہے کہ یہاں صرف جائز کمائی کرنے والا ترقی کرے۔
ناجائز کمائی کرنے والا یہاں تباہ و برباد ہو کر رہ جائے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 134۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.