خدمت میں عزت پٹنہ کے جناب محمد منہاج اختر ایم اے، پیدائش 1979، سے یکم جنوری 1997 کو ملاقات ہوئی۔ وہ ایک تاجر ہیں اور پٹنہ میں رہتے ہیں۔ ٹیلی فون نمبر 654462۔ انہوں نے بہار کا ایک واقعہ بتایا: ایک باپ کے دو لڑکے تھے، ایک لڑکے نے تعلیم کی طرف رخ کیا، محنت کرتے کرتے وہ ڈاکٹر بن گیا۔
اس کے بعد اس نے پریکٹس کر لی اور الگ گھر لے کر اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہنے لگا۔ دوسرا لڑکا تعلیم حاصل نہ کر سکا، وہ جاہل رہ گیا۔ آخر کار انہوں نے آخر کار لوگوں کے مشورے سے اس نے بستی کے اندر حجامت کی دکان کر لی۔ ڈاکٹر بیٹے کو آبادی کے اندر معزز حیثیت حاصل ہو گئی۔
ڈاکٹر بیٹے کو آبادی کے اندر معزز حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس کے مقابلے میں حجام بیٹا لوگوں کے درمیان ایک غیر معزز فرد بن کر رہ گیا۔ کچھ لوگوں نے ان کے والد سے کہا کہ حجام بیٹا آپ کے ساتھ رہتا ہے، اس بنا پر آپ کو اکثر لوگ فلاں حجام کا والد کہنے لگے ہیں۔ آپ اپنے اس بیٹے کو گھر سے نکال دیجئے، اس کے بعد لوگ خود ہی آپ کو ڈاکٹر صاحب کے والد کہنا شروع کر دیں گے، اور پھر آپ کو سماج کے اندر باعزت جگہ حاصل ہو جائے گی۔
مذکورہ شخص نے جواب دیا، میں خود اس کو پسند نہیں کرتا کہ مجھ کو حجام کا والد کہا جائے، اور یقینا اب تک میں اس کو گھر سے نکال چکا ہوتا، مگر مجبوری یہ ہے کہ گھر کا خرچ وہی چلاتا ہے۔ اگر میں اس کو گھر سے نکال دوں تو گھر کا کام چلنا ہی مشکل ہو جائے گا۔ یہ خدمت کا کرشمہ ہے، خدمت یعنی سروس اپنے اندر معجزاتی تاثیر رکھتی ہے۔ آپ خواہ کچھ بھی ہوں، آپ اگر آپ لوگوں کی خدمت کرنے لگیں، لوگوں کی حاجتوں میں ان کے کام آئیں، ماحول کے اندر آپ کی تصویر یہ بن جائے کہ آپ سے لوگوں کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، تو آپ کسی مزید کوشش کے بغیر خود لوگوں کے درمیان عزت اور برتری کا مقام حاصل کر لیں گے۔
خدمت کرنا لوگوں کا دل جیتنا ہے، اور جو آدمی لوگوں کا دل جیت لے وہ سب کچھ پا لیتا ہے، اس کے بعد کوئی اور چیز پانے کے لیے باقی نہیں رہتی۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 125۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.