فتح کا راز: جناب جمیل احمد صاحب مدراس نے بتایا کہ وانم بڈی کے ایک مسلمان تاجر، حاجی محمد ابراہیم صاحب نے 1910 میں یہاں ایک اسکول قائم کیا، جو اب ترقی پا کر کالج بن چکا ہے اور کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ حاجی محمد ابراہیم صاحب نے اپنے آپ کو اس اسکول کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ اس وقت مالیات کی سخت کمی تھی، چنانچہ وہ روزانہ اپنے گھر سے اس طرح نکلتے کہ ان کے ہاتھ میں ایک کشکول ہوتا تھا۔ وہ لوگوں سے مل مل کر اسکول کے لیے چندہ مانگتے، کوئی تھوڑا دیتا اور کوئی زیادہ۔
وہ سارا پیسہ اس کشکول سے ڈالتے رہتے، اور شام کو واپس آ کر اس کو اسکول کے حساب میں جمع کر دیتے۔ ایک دن وہ وانم باڈی کے ایک دولت مند تاجر کے پاس پہنچے، حسبِ معمول ان کا کشکول ان کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے مذکورہ مسلمان تاجر سے اسکول کے لیے چندہ مانگا۔ تاجر نے چندہ نہیں دیا۔
اس کے بجائے وہ ابراہیم صاحب کو سخت سست کہتے رہے کہ تم اپنا کاروبار خراب کر کے اسکول کے پیچھے دوڑ رہے ہو۔ محمد ابراہیم صاحب مذکورہ تاجر کی بات کو نہایت خاموشی کے ساتھ سنتے رہے۔ انہوں نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر میں محمد ابراہیم صاحب نے ان سے کہا، "ہر آدمی جو کچھ دیتا ہے، اس کو میں اس کشکول میں ڈال لیتا ہوں۔
آپ نے جو کچھ دیا، اس کو بھی میں میں نے کشکول میں ڈال دیا۔ " یہ کہہ کر انہوں نے مذکورہ تاجر کو سلام کیا اور اطمینان کے ساتھ واپس آ گئے۔ یہ سادہ سا جملہ مذکورہ تاجر کے لیے اتنا سخت ثابت ہوا کہ وہ رات بھر سو نہیں سکے۔ اگلے دن اور رات بھی اگلے دن اور رات بھی ان کی بے چینی بدستور جاری رہی، یہاں تک کہ تیسرے دن انہوں نے حاجی محمد ابراہیم صاحب کو بلایا، ان سے اپنے رویے کی معافی مانگی۔
اس کے بعد انہوں نے گھر کے اندر سے اشرفیاں منگائیں اور ان کا کشکول اشرفیوں سے بھر دیا۔ محمد ابراہیم صاحب اگر مذکورہ تاجر کی بات پر مشتعل ہو جاتے تو بے فائدہ ٹکراؤ کے سوا اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا۔ مگر جب انہوں نے منفی رویے کا جواب مثبت رویے سے دیا تو صرف الفاظ ہی ان کی جیت کے لیے کافی ہو گئے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 126۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.