امن کی ضرورت 25 جون 1994 کو دہلی میں ایک عرب پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران کسی وجہ سے یہ ذکر آیا کہ اگست کے پہلے ہفتے میں مجھے لندن جانا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کس لیے، میں نے کہا کہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا کہ اس کانفرنس کا موضوعِ بحث کیا ہوگا، میں نے کہا کہ امن، یعنی سلام۔
انہوں نے فوراً کہا: "السلام بين من؟ بين القوي والضعيف، أو بين الظالم والمظلوم؟ " یعنی امن کن لوگوں کے درمیان، کہ طاقتور اور کمزور کے درمیان، یا ظالم اور مظلوم کے درمیان؟ میں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ امن کن لوگوں کے درمیان، اصل مسئلہ یہ ہے کہ امن کس مقصد کے لیے۔
ليست القضية السلام بين من، وإنما القضية هي السلام لأي غرض، لأي غرض. آج کل کے مسلم دانشوروں کے ذہن میں یہ چھایا ہوا ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمان ہر جگہ زیرِ دست ہیں، اور غیر مسلم قومیں ہر جگہ ان پر غالب ہیں۔ ایسی حالت میں جو امن ہوگا وہ دو نامساوی فریقوں کے درمیان ہوگا۔ یہ گویا فریقِ ثانی کے مقابلے میں اپنی موجودہ حیثیت کو تسلیم کر لینا ہے۔
پھر ایسا کھلا ہوا گھاٹے کا معاملہ ہم کیوں کر کر سکتے ہیں؟ مگر یہ سوچ کا غلط رخ ہے۔ صحیح رخ یہ ہے کہ ہم سوچیں کہ آج ہم کو وقفۂ امن کی ضرورت ہے۔ ہم سو برس سے بھی زیادہ عرصے سے فریقِ ثانی سے ٹکراؤ کر رہے ہیں۔
ہمارا یہ ٹکراؤ غیر معمولی قربانیوں کے باوجود صرف ہماری مزید تباہی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مقابلے میں وہ ہتھیار غیر استعمال شدہ پڑا ہوا ہے جو ہمارا سب سے زیادہ طاقتور ہتھیار تھا، یعنی اسلام کی برتر آئیڈیالوجی۔ مگر اس ہتھیار کے استعمال کے لیے معتدل فضا درکار ہے، اور معتدل فضا صرف امن کے حالات میں قائم ہوتی ہے۔
دائی خوم اور مدو خوم کے درمیان معتدل حالات قائم کرنا اسلام کے دعوتی عمل کو زندہ ہونے کا موقع دینا ہے۔ اور جب اسلام کا دعوتی عمل موافق فضا میں جاری ہو جائے تو کوئی چیز نہیں جو اسلام کو غلبے کی منزل تک پہنچنے سے روک سکے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 124۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.