← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Eik Waqia
Urdu · 7 min
ایک واقعہ: مسٹر عبدالمحیط خان، ریٹائرڈ جوائنٹ ڈائریکٹر، آج کل فیض آباد میں رہتے ہیں۔ 28 جون 1995 کی ملاقات میں انہوں نے اپنی سروس کے زمانے کے کئی سبق آموز تجربات بتائے۔ ان میں سے ایک تجربہ یہاں درج کیا جاتا ہے: مسٹر ایم خان نے 1955 میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ای ڈگری لی۔ 1963 میں چندولی ضلع بنارس کے پرائیویٹ پولی ٹیکنیک میں ایک جگہ خالی ہوئی۔
یہ سینئر لیکچرر کی جگہ تھی۔ اس کے ساتھ کامیاب امیدوار کو الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کا عہدہ بھی سنبھالنا تھا۔ اس کا انٹرویو بنارس کے کمشنر جے بی ٹنڈن کی سرکاری رہائش گاہ پر تھا۔ کمشنر صاحب چندولی پولی ٹیکنیک میں بحیثیت عہدہ اس کی مینیجنگ کمیٹی کے صدر بھی ہوتے تھے، چنانچہ وہ بھی انٹرویو میں شریک تھے۔
انٹرویو بورڈ کے ایک رکن پروفیسر رام سرن تھے۔ دوسرے رکن پروفیسر گیرولا تھے۔ پروفیسر گیرولا بنارس ہندو یونیورسٹی میں مسٹر خان کے استاد رہ چکے ہیں۔ پروفیسر رام سرن نے مسٹر خان سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ انسٹرومنٹ ٹرانسفارمر کیا ہوتا ہے؟
مسٹر خان، "Do you know that is instrument transformer? " مسٹر خان نے ابھی سوال کا جواب نہیں دیا تھا کہ پروفیسر گیرولا نے مسٹر ٹنڈن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب سے بہتر امیدوار ہیں۔ ان کے لیے انٹرویو دینے کا کوئی سوال نہیں۔ "He is the best candidate.
There is no question of interview. " اس کے بعد انہوں نے اسے ایم خان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر خان، آپ جا سکتے ہیں۔ "Mister Khan, you can go. " پروفیسر شرعن جنہوں نے سوال کیا تھا، وہ خاموش رہے۔
مسٹر خان اپنے کاغذات لے کر کمرے سے باہر آ گئے۔ ایک ہفتے کے بعد ان کو حسبِ قاعدہ اپائنٹمنٹ لیٹر مل گیا۔ وہ چندولی پولی ٹیکنیک میں سینئر لیکچرر مع ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ الیکٹریکل انجینئرنگ مقرر ہوئے۔ اس کے بعد ان کی ترقی ہوتی رہی، یہاں تک کہ وہ جوائنٹ ڈائریکٹر ان ٹیکنیکل ایجوکیشن کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔
آج کل اکثر نوجوان یہ کہتے ہوئے ملیں گے کہ روزگار نہیں، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قابلِ روزگار افراد نہیں۔ قابلِ روزگار افراد نہیں، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قابلِ روزگار افراد نہیں۔ مسٹر اے ایم خان کے ساتھ مذکورہ واقعہ اسی لیے پیش آیا کہ انہوں نے محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی، ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوئے۔ تعلیم کے دوران ان کا کردار نہایت عمدہ رہا۔
پروفیسر گیرولا اور دوسرے متعلق لوگوں کے درمیان ان کی تصویر نہایت عمدہ بنی۔ اسی کی وہ قیمت تھی جو مذکورہ شاندار واقعے کی صورت میں انہیں ملی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر ادارہ اور ہر دفتر اچھے کارکنوں کو چاہتا ہے، کیونکہ اس کے بغیر اس کا کام درست طور پر نہیں چل سکتا۔ کوئی بھی آدمی اپنا دشمن نہیں۔
اس لیے کوئی بھی آدمی اچھے کارکن کو نظرانداز کرنے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اچھا اور قابلِ اعتماد کارکن دوسروں کی ضرورت ہے۔ آپ دوسروں کی ضرورت بن جائیے، اور پھر آپ کے لیے روزگار حاصل کرنا کچھ بھی مشکل نہ ہوگا۔ اس دنیا کا نظام دو طرفہ لین دین پر چل رہا ہے۔
یہاں شکایت اور احتجاج اور مطالبے کی کوئی قیمت نہیں۔ اس دنیا کا سادہ اصول یہ ہے کہ جتنا دینا اتنا پانا۔ اگر آپ روزگار حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے آپ کو دوسروں کے لیے مفید بنائیے۔ اپنے اندر وہ مہارت پیدا کیجیے جس کی دوسروں کو ضرورت ہے۔
اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ آپ کو روزگار تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد روزگار خود آپ کو تلاش کرے گا۔ حتیٰ کہ یہ حال ہو جائے گا کہ آپ آگے ہوں گے اور روزگار آپ کے پیچھے۔
جب بھی آپ دنیا میں کوئی جگہ چاہیں اور دنیا والے آپ کو وہ جگہ دینے پر تیار نہ ہوں، تو دوسروں کی شکایت نہ کیجیے، بلکہ یہ یقین کر لیجیے کہ آپ کے اندر کوئی کمی ہے جس کی بنا پر آپ دوسروں کے لیے قابلِ قبول نہ ہو سکے۔ اور پھر اس کمی کو دور کرنے میں لگ جائیے۔ اس کے بعد آپ کو دوسروں سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ کتاب: تعمیر حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 122۔