Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Seekhn-e-ka mizaaj

Urdu · 3 min

سیکھنے کا مزاج۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ہر ایک سے کچھ نہ کچھ سیکھتے تھے۔ كان يتعلم من كل أحد. اس معاملے کی ایک مثال روایات میں اس طرح آئی ہے کہ ایک بار انہوں نے ایک صحابی سے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے امیرالمومنین، کیا آپ کبھی ایسے راستے سے گزرے ہیں جس کے دونوں طرف کانٹے دار جھاڑیاں ہوں؟ حضرت عمر نے کہا کہ ہاں۔ انہوں نے پوچھا کہ پھر ایسے موقع پر آپ نے کیا کیا؟ حضرت عمر نے کہا کہ میں نے اپنے دامن سمیٹ لیے اور بچتا ہوا نکل گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہی تقویٰ ہے۔ ذلك التقوى. تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 75۔ حضرت عمر کا یہی طریقہ عام معاملات میں بھی تھا۔

وہ اونٹ والوں سے اونٹ کی بات پوچھتے تھے، اور بکری والوں سے بکری کی بات۔ اسی طرح ان کو جو شخص بھی ملتا، اس سے اسی کے میدان کی بات دریافت کرتے۔ اس طرح وہ ہر ایک سے اس کے معلومات کے دائرے میں سوال کرتے، اور اس سے نئی نئی باتیں دریافت کرتے۔ موجودہ زمانے میں اس کو اسپرٹ آف انکوائری کہا جاتا ہے۔

سائنسی نقطۂ نظر سے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی لوگ زیادہ بڑے عالم بنتے ہیں جن کے اندر یہ متجسسانہ اسپرٹ موجود ہو۔ اس قسم کی اسپرٹ ہر ایک کے لیے انتہائی ضروری ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا کوئی اونچی سطح کا آدمی۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ سننے سے زیادہ سنانے کے شوقین ہوتے ہیں۔

مگر اس قسم کا مزاج علم کی ترقی میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ ایسے لوگ کبھی زیادہ بڑی علمی ترقی حاصل نہیں کر سکتے۔ جب آپ بولتے ہیں تو آپ وہیں رہتے ہیں جہاں کہ آپ ہیں۔ مگر جب آپ سنتے ہیں تو آپ اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔

صحیح علمی مزاج یہ ہے کہ آدمی بولنے سے زیادہ سنے۔ وہ جب بھی کسی سے ملے تو سوالات کر کے اس سے معلومات لینے کی کوشش کرے۔ معلومات کا خزانہ ہر طرف اور ہر جگہ موجود ہے۔ مگر وہ صرف اس شخص کے حصے میں آتا ہے جو اس کو لینے کے آداب کو جانتا ہو۔

کتاب تعمیر حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 103۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.