Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Aghyaar se Taavun

Urdu · 3 min

اغیار سے تعاون: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکے سے مدینے کی طرف ہجرت کی، تو یہ ایک بہت نازک سفر تھا۔ یہ سفر مکے کے مشرکین کے ظلم و تشدد کی وجہ سے کرنا پڑا تھا۔ اس کے باوجود، اس سفر کے لیے آپ نے جس گائیڈ کا انتخاب کیا، وہ مکے کا ایک غیر مسلم عبداللہ بن عریقت تھا۔ اسی غیر مسلم گائیڈ نے آپ کی رہنمائی کرتے ہوئے آپ کو مکے سے مدینہ پہنچایا۔

اس سنت سے معلوم ہوا کہ دوسروں سے تعاون لینے میں مسلم اور غیر مسلم کا فرق کرنا درست نہیں۔ اس طرح کے تعاون کے معاملے میں اہمیت دیکھی جائے گی، نہ کہ رشتہ اور مذہب۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی پالیسی ہمیشہ اختیار کی۔ مثال کے طور پر، بدر کی لڑائی کے بعد 70 کی تعداد میں غیر مسلم گرفتار کر کے مدینہ لائے گئے۔

یہ لوگ اس زمانے کے لحاظ سے پڑھے لکھے تھے۔ چنانچہ آپ نے اعلان کیا کہ ان میں سے جو شخص مدینے کے 10 بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دے، اس کو ہم رہا کر دیں گے۔ اس طرح گویا اسلام کی تاریخ میں خود رسول اللہ کے حکم سے جو پہلا اسکول کھولا گیا، اس کے تمام کے تمام ٹیچر غیر مسلم تھے۔ زندگی کے معاملات میں اس اصول کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

کسی کام میں ساتھی اور کارکن کا انتخاب کرتے ہوئے اگر یہ دیکھا جائے کہ وہ اپنے مذہب کا ہے یا غیر مذہب کا، یا اپنی برادری کا ہے یا غیر برادری کا، تو اس سے کام کا معیار ختم ہو جائے گا۔ اس طرح کبھی کوئی کام اعلیٰ معیار پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ کام کو کام کے طور پر دیکھا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ جو کام کرنا ہے، اس کام کے لیے زیادہ بہتر اور زیادہ کارآمد کون لوگ ہو سکتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایسے معاملات میں میرٹ کی بنیاد پر افراد کا انتخاب کیا جائے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ میرٹ کی بنیاد پر انتخاب کرنے سے اصل کام کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ اور جب کسی اور چیز کو انتخاب کی بنیاد بنایا جائے، تو اسی چیز کو فروغ حاصل ہوگا جس کو انتخاب کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ کتاب تعمیر حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 101۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.