Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Tareekhi mod par

Urdu · 3 min

تاریخی موڑ پر: امریکہ میں 18ویں صدی میں ایک جنگ پیش آئی جس کو "War of Independence 1775-83" کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد امریکہ میں ایسے لیڈر ابھرے جنہوں نے جنگ کے بجائے امن کی حمایت کی۔ انہی میں سے دوسرا امریکی صدر جان ایڈمس ہے، جس کو غیر سیاسی سیاست دان یعنی non-political politician کہا جاتا ہے۔ 1783 میں پیرس معاہدے کے تحت جب برطانیہ نے اس کو آزادی دے دی، تو اس کے بعد امریکہ نے اپنا راستہ بدل دیا۔

اب سارا زور تعلیم، سائنسی ریسرچ، انڈسٹری، سٹی پلاننگ، اور نئی نسل کی کردار سازی پر دیا جانے لگا۔ یہی واقعہ جاپان میں بھی پیش آیا، جس کو وہ لوگ "عمل معکوس" یعنی reverse course کا نام دیتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ تک جاپان عسکریت کے راستے پر چل رہا تھا، مگر دوسری عالمی جنگ کے تجربات کے بعد اس نے اپنا راستہ بدل دیا۔ اب اس نے جنگ کے طریقے کو مکمل طور پر چھوڑ دیا؛ اس کے بجائے اس نے تعلیم کے میدان میں اپنی تمام توجہ موڑ دی۔

سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کو اپنا نشانہ بنا لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 40 سال میں تاریخ بدل گئی۔ عمل معکوس کا یہ مرحلہ ہر قوم کے لیے پیش آتا ہے: جو لوگ ایسا کریں وہ کامیاب رہتے ہیں، اور جو لوگ ایسا نہ کر سکیں وہ ناکام ہو کر رہ جاتے ہیں۔ امریکہ اور جاپان دونوں اس عمل معکوس کو اختیار کرنے کی مثال ہیں۔

دوسری طرف انڈیا ہے؛ آزادی کے بعد مہاتما گاندھی نے انڈیا کو اسی راستے پر چلانا چاہا تھا، مگر انڈیا عمل معکوس کے اس رخ پر نہ چل سکا۔ اسی لیے اس کو ترقی بھی حاصل نہ ہو سکی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے بھی اب یہی وقت آ گیا ہے: وہ لمبی مدت سے اغیار سے شاکی ہو کر ان کے ساتھ بے فائدہ مقابلہ آرائی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے تھے۔ اب ضرورت ہے کہ اس خارجی پالیسی کو ترک کر دیا جائے اور اس کے بجائے داخلی پالیسی اختیار کی جائے۔

یعنی اپنی کوتاہیوں کا اقرار کرتے ہوئے خود اپنی تعمیر میں ساری توجہ لگا دی جائے۔ مسلمانوں کے مسائل کا یہی واحد حل ہے، اور اس کو انہیں ہمہ تن اختیار کر لینا ہے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 104۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.