مقابلے کی اہمیت: آدتیہ وکرم برلا، آن جہانی گھنشیم داس برلا کے پوتے تھے۔ 1 اکتوبر 1995 کو بالٹی مور، امریکہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 51 سال تھی۔ وہ 8,000 کروڑ روپیہ کے انڈسٹریل ایمپائر کے چیئرمین تھے۔
انہوں نے اپنی غیر معمولی لیاقت کے ذریعے اپنے کاروبار کو ہندوستان سے لے کر بیرونی ملکوں تک پھیلا دیا تھا۔ مسٹر آدتیہ برلا نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ انہوں نے بہت پہلے اس بات کو محسوس کر لیا تھا کہ تحفظ یعنی پروٹیکشن کی پالیسی انڈیا کی صنعت کے لیے مفید نہیں ہے۔ وہ کہتے تھے کہ بزنس میں صرف اس وقت ترقی ہو سکتی ہے جبکہ وہ بین الاقوامی معیار پر ٹہر سکے۔
Business can progress only when it is internationally competitive. Competitive وہ نہایت حوصلہ مند انسان تھے۔ ان کے بارے میں ایک شخص نے کہا کہ دنیا ان کی مارکیٹ تھی اور اعلیٰ کارکردگی ان کا طریقہ تھا۔ The world was his market, and efficiency was his strategy.
وہ ہندوستانی گورنمنٹ کی تحفظ کی پالیسی کے برابر خلاف تھے۔ انہوں نے ایک بار کہا کہ ہم مقابلے سے نہیں ڈرتے بلکہ خود مقابلہ خود مقابلے کو ہم سے ڈرنا چاہیے۔ We are not afraid of competition; let competition be afraid of us. یہی اس دنیا میں زندگی اور ترقی کا راز ہے۔
خدا نے اس دنیا کا نظام مقابلے کے اصول پر قائم کیا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بڑی جگہ صرف اسی کو ملتی ہے جو مقابلے کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔ تحفظ اور مراد کے ذریعے اس دنیا میں کوئی بڑی کامیابی ملنا ممکن نہیں۔ مسائل کا سامنا کرنا آدمی کی قوت کو بڑھاتا ہے۔
وہ ایک عام انسان کو غیر معمولی انسان کے درجے تک پہنچا دیتا ہے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 98۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.