اخلاقی پستی؟ سر سید احمد خان کو ان کے مخالفین نے "انگریز کا پٹھو" کہا، اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد کو ان کے مخالفین نے "ہندوؤں کا ایجنٹ" بتایا۔ اس کی کیا وجہ تھی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان مخالفین نے دیکھا کہ انگریز سر سید احمد خان کا احترام کرتے ہیں، اسی طرح انہوں نے دیکھا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کو ہندوں کے درمیان ایک قابلِ احترام حیثیت حاصل ہے۔
یہ مخالفین اپنے عناد کی وجہ سے یہ اعتراف کرنا نہیں چاہتے تھے کہ غیر مسلموں کے درمیان انہیں جو احترام ملا ہے، وہ ان کی کسی ذاتی خوبی کا نتیجہ ہے۔ اس لیے انہوں نے ان شخصیتوں کو مذکورہ قسم کے القاب دے دیے، تاکہ یہ ظاہر کر سکیں کہ انہوں نے یہ درجہ محض اپنی ابن الوقتی کے ذریعے حاصل کیا ہے، نہ کہ اپنی کسی واقعی لیاقت کے ذریعے۔ اس قسم کا قول بظاہر ایک تنقید ہے، مگر حقیقتاً وہ کمینگی ہے۔ اور کمینگی بلاشبہ تمام غیر اخلاقی حرکتوں میں سب سے زیادہ بری اور ذلیل حرکت ہے۔
تنقید ہر آدمی کا فطری حق ہے۔ ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ دوسرے آدمی میں کوئی غلط بات دیکھے تو برملا اس کا اظہار کرے۔ مگر یہ حق مدلل اختلافِ رائے کے لیے ہے، نہ کہ عیب جوئی اور الزام تراشی کے لیے۔ جو لوگ اختلاف کے وقت کمینگی کی سطح پر اتر آئیں، وہ خود اپنے بارے میں زیادہ شدت کے ساتھ وہی الزام ثابت کر رہے ہیں جس کو وہ دوسرے کے اوپر چسپاں کرنا چاہتے تھے۔
کردار کی یہ قسم ہر دور میں پائی گئی ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحابِ رسول کے زمانے میں بھی ایسے پست افراد موجود تھے۔ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، اور وہ بدستور اسی طرح باقی رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے، جبکہ لوگوں سے یہ موقع ہی چھن جائے گا کہ وہ کسی کے اوپر جھوٹا الزام لگائیں یا کسی کی کردار کشی کریں۔ صحت مند اختلاف سراپا خیر ہے، مگر الزام تراشی سراپا شر ہے۔
جس سماج میں الزام تراشی کا رواج ہو، لوگ ایک دوسرے کو برا القاب دینے لگیں، وہ سماج کمینہ اخلاقیات کی تربیت گاہ بن جاتا ہے۔ اور کسی سماج کے لیے اس سے زیادہ بری حالت اور کوئی نہیں۔ کتاب "تعمیر حیات"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 85۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.