Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Kaamil Tabahi

Urdu · 3 min

کامل تباہی۔ ریمنڈ گرام سوئنگ کا ایک قول ہے، اس نے کہا کہ امن کا بدل جنگ نہیں ہے، امن کا بدل ہلاکت ہے۔ The alternative to peace is not war; it is annihilation. یہ بات پچھلے زمانوں میں بھی صحیح تھی، مگر آج تو وہ آخری حد تک درست اور صحیح ہو چکی ہے۔

جدید ہتھیاروں نے اب اس کو بالکل ناممکن بنا دیا ہے کہ جنگ کے ذریعے کوئی شخص یا قوم کوئی مثبت نتیجہ حاصل کرے۔ اب جو لوگ جنگ کا انتخاب کریں، انہیں پیشگی طور پر جان لینا چاہیے کہ وہ اپنے لیے صرف موت کا انتخاب کر رہے ہیں، نہ کہ زندگی اور ترقی کا۔ اگر آپ کسی مسئلے سے دوچار ہیں تو صبر اور تحمل کے ذریعے اس کے ساتھ نباہ کیجیے، اور جو بھی کوشش کیجیے، لازمی طور پر امن کے دائرے میں رہتے ہوئے کیجیے۔ اس کے بجائے اگر آپ نے جنگ اور ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا تو آپ اپنے مسئلے کو ختم کرنے میں کامیاب تو نہیں ہوں گے، البتہ اپنے آپ کو مزید ناقابلِ حل مسائل اور ناقابلِ تلافی ہلاکت میں مبتلا کر لیں گے۔

مسئلہ آپ کے خیال کے مطابق خواہ کتنا ہی گمبھیر ہو، آپ کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ آپ کے لیے انتخاب صرف دو چیزوں میں ہے: یا تو صورتِ موجودہ کو گوارا کرتے ہوئے پرامن دائرے میں اپنی کوشش جاری کیجیے، یا لڑ بھڑ کر اپنے کو ہلاک کر لیجیے۔ اس کے سوا دوسری کوئی ممکن صورت سرے سے آپ کے لیے موجود ہی نہیں۔ قدیم زمانے میں جنگ کسی مسئلے کو حل کرنے کا وسیلہ ہو سکتی تھی، مگر موجودہ زمانے میں جنگ خود سب سے بڑا مسئلہ پیدا کرنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ موجودہ زمانے کی جنگ جو عمومی تباہی لاتی ہے، وہ تمام تباہیوں سے زیادہ بڑی تباہی ہے۔

اس لیے اب آدمی کو صرف دو میں سے ایک کام کرنا ہے: یا تو وہ پرامن دائرے میں رہتے ہوئے اپنی کوشش انجام دے، یا پھر خاموشی کا طریقہ اختیار کرے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 84۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.