سب سے مشکل، سب سے آسان: "تم نے غلطی کی" اور "میں نے غلطی کی"؛ ان دونوں جملوں میں ظاہر کے اعتبار سے صرف ایک لفظ کا فرق ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ پہلا جملہ کہنے والے کروڑوں انسان دنیا میں موجود ہیں، مگر دوسرا جملہ کہنے والا شاید کوئی ایک شخص بھی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلا جملہ دوسرے شخص کی نفی کرتا ہے، اور دوسرا جملہ خود قائل کی نفی کرتا ہے۔ اور دوسرے کی نفی کرنا بلاشبہ سب سے زیادہ آسان کام ہے، اور اپنی نفی کرنا بلاشبہ سب سے زیادہ مشکل کام۔ موجودہ زمانے کی وہ تمام تحریکیں جن کے گرد انسانوں کی بھیڑ دکھائی دیتی ہے، وہ سب وہی تحریکیں ہیں جو "تم نے غلطی کی" کے نعرے پر اٹھیں۔
تمام مقبول تحریکوں اور بڑے بڑے لیڈروں کی مقبولیت کا واحد راز یہ ہے کہ وہ باہر سے کسی شخص یا قوم کو غلط ثابت کرنے کے لیے اٹھے۔ اگر وہ خود اپنی نفی کرنے کا پیغام لے کر اٹھتے، تو وہ اپنے ماحول میں اجنبی بن جاتے، نہ یہ کہ ان کے گرد انسانوں کی بھیڑ اکٹھا ہو۔ "تم نے غلطی کی" ایک جھوٹا کلمہ ہے، اور "میں نے غلطی کی" ایک سچا کلمہ۔ خدا کا قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں جھوٹا کلمہ جڑ نہ پکڑ سکے، وہ جھاڑ جھنکاڑ بن کر رہ جائے۔
اس کے برعکس، جو کہ سچا کلمہ ہو، وہ خدا کی اس دنیا میں جڑ پکڑتا ہے، وہ زمین میں بھی اپنی جگہ حاصل کرتا ہے، اور آسمان کی وسعتوں میں بھی۔ "میں نے غلطی کی" معرفت کا کلمہ ہے، وہ آدمی کی شخصیت میں ارتقا پیدا کرتا ہے، وہ آدمی کو ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس، "تم نے غلطی کی" ایک سطحی کلمہ ہے، وہ آدمی کو گہرے معنی سے آشنا نہیں کرتا، وہ آدمی کو ایک ایسے کام میں مشغول کر دیتا ہے جو سرے سے کرنے کا کوئی کام ہی نہیں۔ "میں نے غلطی کی" اصلاح ہے، اور "تم نے غلطی کی" تخریب۔
"میں نے غلطی کی" خدا پرستی ہے، اور "تم نے غلطی کی" نفس پرستی۔ "میں نے تم میں غلطی کی" ایک نیکی ہے، اور "تم نے غلطی کی" صرف لیڈری۔ "میں نے غلطی کی" دین داری ہے، اور "تم نے غلطی کی" دنیا داری۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 76۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.