دو قسم کے انسان: منفی نفسیات میں جینے والا انسان تاریخ کا معمول ہوتا ہے، اور ایجابی نفسیات میں جینے والا انسان تاریخ کا عامل۔ اول الذکر انسان کو تاریخ کے حالات بناتے ہیں، ثانی الذکر انسان وہ ہے جو حالات سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے، وہ خود ایک نئی تاریخ بناتا ہے۔ دنیا میں ہمیشہ ناخوشگوار حالات ہوتے ہیں، ہمیشہ ایسے اسباب پیش آتے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہو۔ ایسے موقع پر جو لوگ ردعمل کی نفسیات میں مبتلا ہو جائیں، وہ گویا تاریخ کا معمول بن گئے، وہ اپنے آس پاس کے حالات کا شکار ہو کر رہ گئے۔
ایسے لوگ ہمیشہ احتجاجی کارروائیوں میں مشغول رہتے ہیں، وہ کوئی مثبت کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔ اس کے برعکس انسان وہ ہے جو حالات سے اوپر اٹھ کر سوچے، جو ردعمل کے بغیر خود اپنی آزادانہ سوچ کے تحت اپنی رائے بنائے۔ ایسا انسان گویا تاریخ کے اوپر ہے، وہ اس حیثیت میں ہے کہ دنیا سے متاثر ہونے کے بجائے خود دنیا کی صورت گری کرے، وہ تاریخ کا عامل بن جائے۔ تمام حیوانات تاریخ کی پیداوار ہیں، مگر انسان کا مقام یہ ہے کہ وہ اپنی جدوجہد سے تاریخ بنائے، وہ خود اپنی ذات سے تاریخ ساز بن جائے۔
منفی نفسیات کسی انسان کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جو آدمی منفی نفسیات میں مبتلا ہو، وہ گویا اپنے حالات کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے آپ کو منفی رجحانات اور ردعمل کی نفسیات سے بچائے، وہ گویا خارجی دنیا کے حملوں کے باوجود زندہ رہا، اس نے اپنی ہستی کو فنا ہونے سے بچا لیا۔ منفی نفسیات کی بنیاد آدمی کے باہر ہوتی ہے، اور مثبت نفسیات کی بنیاد آدمی کے اندر۔
منفی نفسیات والا انسان دوسروں کے اوپر کھڑا ہوتا ہے، اور مثبت نفسیات والا انسان خود اپنی ذات پر۔ یہی واقعہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ دونوں میں سے کون ہے جس کو اعلیٰ انسان کا لقب دیا جا سکے۔ سب سے زیادہ محروم اور نادان وہ شخص ہے جس کے لیے اس دنیا میں عامل بننے کا موقع تھا، اس کے باوجود وہ صرف معمول بن کر رہ گیا۔ کتاب تعمیر حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 75۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.