مستقبل کو دیکھیے: جب آدمی کا ماضی اور حال لُٹ چکا ہو، اس وقت بھی اس کا مستقبل محفوظ رہتا ہے۔ ایک شخص کسی کا ماضی اور حال چھین سکتا ہے، مگر کوئی شخص کسی کا مستقبل چھیننے پر قادر نہیں۔ ماضی کی محرومی واقع ہو چکی، حال کی محرومی واقع ہو رہی ہے، مگر مستقبل وہ زمانہ ہے جو ابھی آنے والا ہے۔ مستقبل میں وہ تمام مواقع مزید اضافے کے ساتھ موجود ہیں جو ماضی اور حال میں آپ کے لیے ممکن تھے۔
اس لیے اگر آپ نے ماضی اور حال کو کھو دیا ہو تو اس کا غم نہ کیجیے؛ مستقبل کے اعتبار سے از سرِ نو اپنے عمل کی منصوبہ بندی کیجیے۔ ہو سکتا ہے کہ آئندہ آپ اتنی بڑی کامیابی حاصل کریں جو ماضی اور حال کے تمام نقصانات کی تلافی کر دے۔ زندگی کے رازوں میں سے ایک راز یہ ہے کہ آدمی کے اندر بھلا دینے کی طاقت ہو۔ اگر آپ کا ماضی اور حال برباد ہو گیا ہو تو اس کو بھلا دیجیے؛ پچھلی بربادی کو بھلانا آپ کے اندر یہ عزم پیدا کرے گا کہ آپ اپنی پوری طاقت کو نئے مستقبل کی تعمیر میں لگا دیں۔
زمانہ اگر ٹھہرا ہوا ہوتا تو آپ کو بھی ٹھہرنا پڑتا؛ اس کے بعد آپ کی محرومی ابدی محرومی بن جاتی۔ مگر زمانہ ٹھہرا ہوا نہیں ہے، زمانہ حرکت میں ہے۔ یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ ایک موقع کے کھوتے ہی دوسرا موقع سامنے آ جاتا ہے۔
ایک امکان کھونے کے بعد آدمی دوسرا امکان پا لیتا ہے، جس کو استعمال کر کے وہ آگے بڑھ جائے۔ موجودہ دنیا میں کوئی آدمی نقصان سے بچ نہیں سکتا؛ یہاں بڑے کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور چھوٹے کو بھی۔ یہاں طاقتور بھی نقصان اٹھاتا ہے اور کمزور بھی۔ اس لیے آپ کبھی نقصان پر بددل نہ ہوں؛ ہر بار گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کی کوشش کیجیے۔
زمانے کا سفر ماضی اور حال پر ختم نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ مستقبل کی طرف جاری رہتا ہے۔ اگر ماضی اور حال کا سرا آپ سے چھوٹ گیا ہو تو آپ مستقبل کا سرا پکڑ لیجیے؛ آپ دوبارہ کامیابی کی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 70۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.