آغاز و انجام: اگر آپ نے اپنے آغاز کو پایا تو آپ اپنے اختتام کو بھی پا سکتے ہیں، کیونکہ صحیح آغاز ہی کا دوسرا نام صحیح اختتام ہے۔ آدمی اگر صحیح رخ پر چل پڑے تو وہ منزل پر پہنچ کر رہتا ہے۔ منزل پر نہ پہنچنا ہمیشہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ آدمی نے اپنے سفر کا آغاز الٹی سمت میں کر دیا ہو۔ کائنات کا پورا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں جب بھی کوئی شخص ایک درست عمل کا آغاز کرے تو پوری کائنات اس کو تکمیل تک پہنچانے میں لگ جائے۔
باغبان ایک بیج زمین میں ڈالتا ہے تو دنیا کا پورا نظام اس کو پروان چڑھانے میں لگ جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے کمال کے درجے کو پہنچ کر پورا درخت بن کر کھڑا ہو جائے۔ اسی طرح اس دنیا میں جب کوئی آدمی ایک صحیح عمل کا آغاز کرتا ہے تو دنیا کا پورا نظام اس کی مدد پر آ جاتا ہے۔ ہر چیز اس کا ساتھ دینے لگتی ہے تاکہ وہ اپنے عمل کو اس کی تکمیل کے مرحلے تک پہنچا سکے۔ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس کا شروع کیا ہوا عمل ترقی نہیں کر رہا ہے تو اس کو خود اپنی کارکردگی اور اپنے منصوبے پر نظرِ ثانی کرنا چاہیے۔
یقینی طور پر اس کی اپنی طرف کوئی کوتاہی ہوگی جس نے اس کے شروع کیے ہوئے عمل کو مطلوبہ انجام تک پہنچنے نہیں دیا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اقدام کرنے سے پہلے خوب اچھی طرح سوچ لے۔ وہ حقیقت پسندانہ جائزے کے بعد اپنا منصوبہ بنائے، اور جب اپنے منصوبے پر عمل درآمد شروع کرے تو اپنے آپ کو اس میں لگانے میں کوئی کمی نہ کرے۔ آدمی نے اگر ان شرطوں کو پورا کر دیا تو اس کے بعد مستقبل میں جو چیز برآمد ہوگی وہ وہی ہوگی جس کی طلب وہ اپنے سینے کے اندر لیے ہوئے ہے۔
ڈور کے ابتدائی سرے کو پانا ہی ڈور کے آخری سرے کو پا لینا ہے۔ ڈور کے ابتدائی سرے کو مضبوطی سے تھام لیجیے، اس کے بعد ڈور کا آخری سرا بھی آپ کے ہاتھ میں آ کر رہے گا، وہ آپ سے جدا ہونے والا نہیں۔ صحیح اختتام کے سوا صحیح آغاز کی اور کوئی منزل نہیں۔ کتاب: تعمیر حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 69۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.