دشواریاں زینہ ہیں، انسان قدرت کا چھپا ہوا خزانہ ہے۔ مشکلات کی ٹھوکریں اس خزانے کو اندر سے باہر لے آتی ہیں۔ پوری تاریخ کا تجربہ ہے کہ وہی لوگ سب سے زیادہ ابھرے، جنہیں سب سے زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بیج جب پھٹتا ہے تو اس کے اندر سے عظیم درخت برآمد ہوتا ہے۔
یہی انسان کی شخصیت کا حال بھی ہے۔ انسان کی شخصیت انسان کی شخصیت پر جب حالات کا دباؤ بڑھتا ہے تو اس کی اندرونی صلاحیتیں ابھرتی ہیں۔ جو چیز پہلے بیچ کے روپ میں چھپی ہوئی تھی، وہ درخت کی صورت میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو مشکل کو صرف مشکل سمجھیں، دوسرے وہ جو مشکل کو چیلنج کی نظر سے دیکھیں۔
مشکل کو مشکل سمجھنا مایوسی کا ذہن پیدا کرتا ہے، اور مشکل کو چیلنج سمجھنے سے یہ ذہن پیدا ہوتا ہے کہ اس کا سامنا کیا جائے۔ اگر آپ مشکل کو صرف مشکل سمجھیں تو آپ کی موجود صلاحیتیں بھی مرجھا جائیں گی۔ آپ کی سوچنے کی طاقت مفلوج ہو جائے گی۔ مگر جب آپ مشکل کو چیلنج سمجھیں تو آپ کے اندر نئی ہمت جاگتی ہے۔
آپ کا ذہن پہلے سے زیادہ کام کرنے لگتا ہے۔ آپ کو نئی نئی تدبیریں سوجھتی ہیں، جن کو استعمال کر کے آپ آگے بڑھ سکیں۔ جس آدمی کو صرف آسانیاں پیش آئیں، وہ محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کی فکر میں سطحیت آ جاتی ہے۔
مگر جس آدمی کو مصیبتوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے، وہ لامحدود انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔ دشواری ایک معلم ہے۔ دشواری سے آدمی ان باتوں کو جان لیتا ہے جن کو کسی درسگاہ میں پڑھایا نہیں جا سکتا۔
دشواری آدمی کے علم میں تجربے کا اضافہ کرتی ہے۔ دشواری آدمی کی سنی یا پڑھی ہوئی بات کو اس کی ذاتی دریافت بنا دیتی ہے۔ زندگی کی دشواریاں زندگی کے زینے ہیں۔ وہ اس لیے ہیں تاکہ آپ کو نیچے سے اوپر لے جائیں، تاکہ وہ آپ کے چھپے ہوئے خزانے کا آپ کو مالک بنا دیں۔
کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 71۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.