ایک حقیقت: جو شخص ایک معاملے میں غلط ثابت ہو، وہ ہر معاملے میں غلط ہے۔ اس میں صرف اس آدمی کا استثنا ہے جو غلطی کرنے کے بعد شرمندہ ہو اور کھلے دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔ یہ ایک نفسیاتی اصول اور زندگی کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک کل ہے۔
انسان سے کسی غلطی کا سرزد ہونا ایسا ہی ہے جیسے گلاس سے ایک خطرے کا باہر آنا۔ گلاس کے خطرے کو دیکھ کر سمجھا جا سکتا ہے کہ اس کے اندر کیا چیز بھری ہوئی ہے۔ اسی طرح انسان کی ایک روش کو دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بقیہ اعتبار سے وہ انسان کیسا انسان ہے۔ تاہم گلاس میں اور انسان میں ایک فرق ہے: گلاس جامد چیز ہے، اور انسان ایک متحرک مخلوق ہے۔
انسان اس پر قادر ہے کہ غلطی کرنے کے بعد وہ اپنی اصلاح کر سکے۔ اس کا نام توبہ ہے۔ توبہ کی صلاحیت نے انسان کو ایک خود اصلاحی مشین بنا دیا ہے۔ انسان سے جب ایک غلطی ہو، اس وقت اگر اس کا شعور جاگ اٹھے، وہ کسی تحفظ کے بغیر کھلے طور پر اعتراف کر لے کہ میں نے غلطی کی، تو مشینی اصطلاح میں گویا اس نے اپنے نفس کو درست کر لیا۔
وہ دوبارہ ایک نیا انسان بن گیا۔ غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا کوئی سادہ سی بات نہیں، یہ بے حد اہم بات ہے۔ جب آدمی اپنی غلطی کو نہیں مانتا تو اس کے پیچھے کوئی خاص سبب ہوتا ہے، مثلاً بڑائی کا احساس، ذاتی مفاد کا خطرہ، وغیرہ۔ اسی قسم کی ایک یا دوسری کمزوری ہوتی ہے جس کی بنا پر آدمی کھلی ہوئی غلطی کا ارتکاب کرنے کے باوجود اس کا اقرار نہیں کرتا۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام میں غلطی کے اقرار کو بے حد اہمیت دی گئی ہے۔ جب آدمی اپنی غلطی کا اقرار کرتا ہے تو وہ اپنے اندر چھپی ہوئی بہت سی کمزوریوں کو مٹاتا ہے۔ وہ گویا نفسیاتی معنوں میں ایک غسلِ صحت کرتا ہے۔ گندا انسان از سرِ نو ایک پاک صاف انسان بن جاتا ہے۔
یہی معاملہ برعکس صورت میں اس شخص کا ہے جو غلطی کا اعتراف نہ کرے۔ اس کی روح بدستور گندگی میں پڑے رہے گی۔ وہ ہمیشہ پیچھے جاتا رہے گا۔ روحانی میدان میں وہ آگے کی طرف سفر نہیں کر سکتا۔
کتاب "تعمیرِ حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 65۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.