Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Subh ka Intezaar

Urdu · 3 min

صبح کا انتظار۔ ہر شام کے بعد دوبارہ نئی صبح آتی ہے، مگر صبح کو پانے والا صرف وہ شخص ہے جو صبح کے آنے تک اس کا انتظار کرے۔ اس دنیا میں روشن صبح اپنے آپ آتی ہے، مگر انتظار کرنے والے اس کا انتظار نہیں کرتے۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری عجلت پسندی ہے۔

وہ تاریک حالات کو دیکھ کر گھبرا اٹھتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں رات اور دن کا نظام ہر روز اس کو سبق دے رہا ہے کہ روشنی بہرحال آئے گی۔ کوئی تاریکی اتنی لمبی نہیں ہو سکتی جو آنے والی روشن صبح کو آنے سے روک دے۔ دنیا میں تلخیاں بھی ہیں، لیکن تلخیوں کو اگر سہ لیا جائے تو اس کے بعد مٹھاس بھی ضرور آ کر رہتی ہے۔

یہاں آدمی ناکامیوں سے بھی دوچار ہوتا ہے، لیکن ہر ناکامی وقتی ناکامی ہے۔ اگر وقتی ناکامی کی چوٹ برداشت کر لی جائے تو اس کے بعد لازماً وہ مرحلہ آتا ہے جو آدمی کو کامیابی کی منزل پر پہنچا دے۔ موجودہ دنیا میں کسی چیز کو ٹھہراؤ نہیں۔ اسی طرح یہاں کامیابی اور ناکامی کو بھی ٹھہراؤ نہیں۔

یہاں ہر ناکامی کے بعد کامیابی ہے، اور ہر کامیابی کے بعد ناکامی۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ کامیابی پیش آئے تب بھی وہ اعتدال پر قائم رہے، اور ناکامی کا تجربہ ہو تب بھی وہ اعتدال اور توازن کو نہ کھوئے۔ جس طرح صبح اپنے آپ آتی ہے، اسی طرح اس دنیا میں ناکامی کے بعد کامیابی بھی اپنے آپ آتی ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ انتظار کی ہمت کر سکے۔

اس دنیا میں ہر ناکامی ایک وقتی وقفہ ہے، اور ہر کامیابی آئندہ ظاہر ہونے والا لازمی واقعہ۔ جس طرح شام کا آنا یقینی ہے، اسی طرح شام کے بعد صبح کا ظاہر ہونا بھی یقینی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں مایوسی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ کائنات کا پورا نظام جس کے ساتھ ہو، اس کو کسی اور سے اندیشہ کرنے کی کیا ضرورت؟

کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 67۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.