Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Khatima nahi

Urdu · 4 min

خاتمہ نہیں، مواقع نکل جاتے ہیں مگر مواقع ختم نہیں ہوتے۔ یہ موجودہ دنیا کا ایک ایسا سبق ہے جو گویا ہر ذرہ اور ہر پتی سے روزانہ نشر کیا جا رہا ہے۔ ہماری دنیا کو کسی انسان نے نہیں بنایا ہے، بلکہ خدا نے بنایا ہے، جس کی طاقتیں لامحدود ہیں۔ دنیا کو بنانے والا اگر انسان ہوتا تو اس کے امکانات محدود ہوتے، مگر جب لامحدود خدا نے اس کو بنایا ہے تو اس کے امکانات اور مواقع بھی لامحدود ہیں۔

کتنے ہی مواقع آپ کے ہاتھ سے نکل جائیں، کتنے ہی زیادہ امکانات کو آپ کھو دیں، پھر بھی آپ کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ہمیشہ مزید امکانات اور مواقع آپ کے لیے موجود ہوں گے، جن کو استعمال کر کے آپ اپنا مستقبل تعمیر کر سکیں۔ جب مواقع ختم ہونے والے نہ ہوں تو مواقع سے نکل جانے پر افسوس کرنا صرف بے خبر آدمی کا کام ہو سکتا ہے۔ جب ایک سواری چھوٹ کر دوسری سواری ملنے والی ہو تو مسافر اس سواری کا غم نہیں کرتا جو چلی گئی، بلکہ اگلی سواری کا انتظار کرتا ہے تاکہ اس میں بیٹھ کر اپنا سفر جاری کر سکے۔

موجودہ دنیا میں اصل اہمیت کی بات یہ نہیں ہے کہ ایک آیا ہوا موقع آپ کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ دوسرے مواقع بھی، دوسرے مواقع جو ابھی باقی ہیں، ان کو آپ نے پہچانا یا نہیں، اور ان کو استعمال کر کے دوبارہ اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کا جذبہ آپ کے اندر جاگا یا نہیں۔ اگر یہ دوسری بات حاصل ہو جائے تو پہلی بات کی پرواہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زندگی نام ہے ایک موقع کو کھو کر دوسرے موقع کو استعمال کرنے کا۔

اسی طرح دوسرے کامیاب ہونے والوں نے کامیابی حاصل کی ہے، اور اسی طرح آپ بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ کامیابی کا اس کے سوا کوئی طریقہ نہ دوسروں کے لیے ہے اور نہ آپ کے لیے۔ یہ قادرِ مطلق کی شان کے خلاف ہے کہ وہ ایسی دنیا بنائے جہاں مواقع اتنے کم ہوں کہ ایک موقع نکل جانے کے بعد دوسرا موقع آدمی کے لیے باقی نہ رہے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 63۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.