Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Haar ke bad Jeet

Urdu · 4 min

ہار کے بعد جیت، شکست خواہ کتنی ہی بڑی ہو، وہ ہمیشہ وقتی ہوتی ہے۔ اور دوبارہ زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے اس کو فتح میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز عارضی ہے، اسی طرح ہار بھی عارضی ہے۔ اس دنیا میں کوئی ہار مستقل ہار نہیں۔

ہارنے کے بعد آدمی کے لیے دو راستے ہیں: ایک یہ کہ وہ جنگ ہارنے کے بعد ہمت بھی ہار جائے، وہ پست ہمت ہو کر بیٹھا رہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ یہ سوچنے میں لگ جائے کہ میں ہارا تو کیوں ہارا۔ وہ فریقِ ثانی کے جیتنے کا سبب اور اپنے ہارنے کا سبب معلوم کرے۔ یہ دوسری سوچ آدمی کے ذہن کو کھولتی ہے، اس کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ زیادہ اعلیٰ تیاری کے ساتھ دوبارہ اقدام کر سکے۔

اور جو شخص ایسا کرے، وہ پہلی بار نہیں تو دوسری بار ضرور کامیاب ہو کر رہتا ہے۔ اس دنیا میں ناکامی کے ساتھ کامیابی لگی ہوئی ہے، اور کامیابی کے ساتھ ناکامی وابستہ ہے۔ جو شخص ناکام ہو جائے، اس کے اندر دوبارہ اٹھنے کے لیے نیا عزم جاگتا ہے۔ اس کے دماغ کے نئے نئے گوشے بیدار ہو جاتے ہیں۔

دوسری طرف جو آدمی کامیاب ہوا ہو، اس کی زندگی میں ٹھہراؤ آ جاتا ہے۔ وہ اطمینان کی نفسیات میں مبتلا ہو کر سو جاتا ہے۔ اس طرح ہارنے والے کے لیے ہار نئی زندگی کا سبب بنتی ہے۔ اور جو آدمی جیتتا ہے، اس کی جیت اس کو سلا کر زندگی سے محروم کر دیتی ہے۔

آدمی اگر اس حقیقت کو جانے تو وہ کبھی مایوس نہ ہو۔ وہ ناکامی کے بعد کبھی بددلی کا شکار نہ ہو، خواہ اس کی ناکامی بظاہر کتنی ہی زیادہ بڑی کیوں نہ ہو۔ یہ دنیا ہارنے کے بعد جیتنے اور جیتنے کے بعد ہارنے کا کھیل ہے۔ اس دنیا میں کامیاب کھلاڑی وہ ہے جو کھیل پر نظر رکھے، نہ کہ ہار اور جیت میں کھو کر رہ جائے۔

شکست وقتی حادثہ ہے، شکست مستقل بربادی نہیں۔ شکست آپ کو باہر کی چیزوں سے محروم کرتی ہے، وہ آپ کے اندر کی چیزوں کو آپ سے نہیں چھینتی۔ آپ اپنے اندر کی چیزوں کو لے کر دوبارہ نئی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 62۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.