Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Ikhtelaaf

Urdu · 3 min

اختلاف اختلاف ایک پرچہ امتحان ہے؛ کسی سے آپ کا اختلاف پیدا ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ اللہ نے آپ کو ایک نازک آزمائش میں ڈال دیا، تاکہ یہ جانے کہ آپ سچے مومن ہیں یا سچے مومن نہیں ہیں۔ اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں رکھنا سچے اہلِ ایمان کا طریقہ ہے۔ جو لوگ اختلاف کو تخریب کاری کے درجے تک پہنچا دیں، وہ بلاشبہ ایمان و اسلام سے نکل گئے۔ آدمی جب اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں رکھے، تو اس کا امکان ہوتا ہے کہ تبادلہ خیال کے دوران دونوں میں سے کسی کے اوپر سچائی کھل جائے۔

اور اس طرح جو بھٹکے ہوئے مسافر کی مانند تھا، وہ دوبارہ صحیح راستے پر آ جائے۔ مگر جب ایک آدمی اختلاف کو تخریب کاری تک پہنچا دے، تو اس کے بعد گمراہی کے گڑھے میں گرنے کے سوا کوئی انجام اس کے لیے باقی نہیں رہتا۔ ایسے آدمی کا دماغ منفی سوچ کا کارخانہ بن جاتا ہے؛ وہ دلیل اور الزام تراشی کے فرق کو سمجھنے کی اہمیت کھو دیتا ہے۔ وہ منصفانہ اختلاف کی حد سے گزر کر ظالمانہ اختلاف کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔

وہ خدا کی پکڑ کے احساس سے غافل ہو جاتا ہے۔ وہ صرف اپنی انا کو رہنما بنا لیتا ہے۔ اب اس کا مقصد حق کو قائم کرنا نہیں ہوتا، بلکہ صرف اپنی ذات کو قائم کرنا اس کا اول و آخر مقصد بن جاتا ہے۔ وہ خدا کی رحمت سے دور ہو کر پوری طرح شیطان کی گرفت میں آ جاتا ہے۔

اختلاف پیدا ہونا بالکل فطری ہے، مگر اختلاف کو تخریب کاری بنانا سراسر ظالمانہ فعل ہے۔ جو لوگ اختلاف کو تخریب کاری بنائیں، ان کے لیے سخت خطرہ ہے کہ وہ خدا کی شدید پکڑ میں آ جائیں۔ عین ممکن ہے کہ آخرت میں ان سے کہہ دیا جائے کہ آج تم نے دنیا کی زندگی میں شیطان کو اپنا رہنما بنایا۔ اب آخرت کی خدائی نعمتوں میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔

اختلاف کے وقت عدل پر قائم رہنا آدمی کے لیے جنت کا دروازہ کھولتا ہے۔ اور اختلاف کے وقت عدل و انصاف سے ہٹ جانا آدمی کو جہنم کے دروازے پر پہنچا دیتا ہے۔ کتاب تعمیر حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 55۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.