Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Insani Fitrat

Urdu · 3 min

انسانی فطرت۔ ابوالبرکات صاحب، نظام پور، اعظم گڑھ سے، 3 دسمبر 1991 کو دہلی میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں انہوں نے مندرجہ ذیل واقعہ بتایا: ضلع اعظم گڑھ میں ماہل کے قریب ہندوؤں کا ایک گاؤں ہے، اس کا نام ٹکریہ ہے۔ پڑوس کے گاؤں رسول پور سے ایک یادو چوری کی غرض سے یہاں پہنچا۔

رات کا وقت تھا۔ ایک گھر کے پاس پہنچ کر اس نے اس کی کنڈی کھٹکھٹائی، یہ بھی ایک یادو کا گھر تھا۔ اس نے اپنی بھانجی کی اپنے یہاں پرورش کی تھی۔ اس وقت صرف بھانجی گھر میں تھی، اس کا ماما، یعنی ماموں، کسی ضرورت سے باہر چلا گیا تھا۔

کنڈی کھٹکھٹانے کی آواز سن کر لڑکی دروازے پر آئی۔ اس نے سمجھا اس کا ماما واپس آیا ہے۔ تصدیق کے لیے اس نے اندر سے کہا، "ماما"۔ باہر کے آدمی نے یہ سن کر کہا، "ہاں"۔

اس کے بعد لڑکی نے دروازہ کھول دیا، مگر جب دروازہ کھلا تو سامنے کوئی شخص دکھائی نہیں دیا۔ آخر کار وہ دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی۔ کچھ دیر کے بعد دوبارہ دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔ لڑکی دوبارہ دروازے پر آئی اور تصدیق کے لیے پھر کہا کہ "ماما"۔

باہر سے آواز آئی کہ "ہاں"۔ اب لڑکی نے دوبارہ دروازہ کھول دیا۔ معلوم ہوا کہ اس کا ماما واپس آیا ہے۔ ابھی دونوں دروازے ہی پر تھے کہ لڑکی نے کہا کہ "اس سے پہلے آپ دروازہ کھلوا کر کہاں چلے گئے تھے؟

" ماما نے کہا کہ "میں تو اس سے پہلے نہیں آیا"۔ لڑکی نے کہا کہ "پھر کون تھا جس نے اس سے پہلے کنڈی کھٹکھٹائی؟ " یہ بات ہو رہی تھی کہ ایک طرف سے آواز آئی کہ "میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا"۔ ماما نے پوچھا کہ "تم کون ہو؟

" اس نے کہا کہ "میں چور ہوں"۔ ماما نے دوبارہ کہا کہ "جب تم چور ہو تو دروازہ کھلنے کے بعد اندر گھس کر اپنا کام کیوں نہیں کیا؟ " چور نے کہا کہ "اصل یہ ہے کہ جب لڑکی نے اندر سے پوچھا کہ ماما، تو میں نے کہہ دیا کہ ہاں"۔ یہ کہہ کر میں نے اپنے آپ کو لڑکی کا ماما بنا دیا۔

اور ماما کبھی کسی بھانجی کے گھر میں چوری نہیں کر سکتا۔ کتاب: تعمیر حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 54۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.