Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Haqeeqat Pasandi

Urdu · 3 min

حقیقت پسندی: اگر آپ میدان میں ہوں اور بارش آ جائے تو آپ بھاگ کر سائے کے نیچے چلے جاتے ہیں۔ یہ پسپائی نہیں ہے، بلکہ حقیقت پسندی ہے۔ اسی طرح اگر زلزلہ آ جائے تو آپ گھر سے نکل کر کھلے میدان میں آ جاتے ہیں۔ یہ بھی پسپائی نہیں ہے، بلکہ ایک فطری حقیقت کا اعتراف ہے۔

جہاں انسان کا اور فطرت کا معاملہ ہو، وہاں مسئلے کا حل صرف اعتراف ہوتا ہے، نہ کہ ٹکراؤ۔ بارش اور زلزلے کا نظام جو خالقِ فطرت نے دنیا میں رکھ دیا ہے، انسان اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ انسان صرف یہ کر سکتا ہے کہ اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچانے کی تدبیر کرے۔ اور اس کے نقصان سے بچنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ اعراض کا اصول اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کی زد سے ہٹا دیا جائے۔

اسی لیے آپ بارش کے وقت سائے میں آ جاتے ہیں، اور زلزلے کے وقت میدان میں۔ ٹھیک یہی معاملہ صبر اور اعراض کے اصول کا بھی ہے۔ صبر و اعراض کا رویہ کسی قسم کی بزدلی یا پسپائی نہیں ہے، وہ سادہ طور پر صرف حقیقت پسندی ہے۔ اس کی ضرورت اس لیے ہے کہ خالقِ فطرت نے انسان کو امتحان کی غرض سے آزادی عطا کی ہے۔

انسان اپنی آزادی کا استعمال کبھی صحیح کرتا ہے اور کبھی غلط۔ اب آپ کیا کریں؟ اگر آپ ہر انسان سے لڑنے لگیں تو لوگوں سے آپ ان کی آزادی چھین نہیں سکتے، کیونکہ یہ آزادی ان کو خود مالکِ کائنات نے دے رکھی ہے۔ لوگوں کی آزادی چھیننے کی بے فائدہ کوشش کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ آپ اپنے راستے کو کھوٹا کر لیں گے۔

ایسی حالت میں صرف ایک ہی ممکن رویہ ہے، اور وہ وہی ہے جس کو صبر کہا جاتا ہے۔ یعنی لوگوں کی طرف سے اگر کبھی تلخی اور ناگواری پیش آ جائے تو اس سے اعراض کرتے ہوئے اپنا سفرِ حیات جاری رکھا جائے۔ صبر و اعراض دوسروں کا مسئلہ نہیں، وہ خود اپنا مسئلہ ہے۔ بے صبری آدمی کے سفر کو روک دیتی ہے، اور صبر اس بات کو ممکن بناتا ہے کہ آدمی کی زندگی کا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ جائے۔

کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 53۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.