فطرت کے خلاف؟ شری گرو گولوالکر آر ایس ایس کے دماغ سمجھے جاتے ہیں، انہوں نے یکساں سول کورٹ کے تصور کی مکمل مخالفت کی ہے۔ ان کی یہ مخالفت مذہب کی بنیاد پر نہیں ہے، بلکہ فطرت کی بنیاد پر ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یکساں سول کورٹ سرے سے قابلِ عمل ہی نہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک غیر فطری اسکیم ہے۔
انہوں نے کہا کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے، نیچر ابہارس یونیفارمٹی۔ اس بات کا تعلق صرف یکساں سول کورٹ سے نہیں ہے، بلکہ پوری زندگی سے ہے۔ زندگی کا نظام پورا کا پورا فطرت کے اصولوں پر قائم ہے۔ یہ فطری اصول خواہ یہ فطری اصول خود اپنے زور پر قائم ہیں، اور وہ ابد تک قائم رہیں گے۔
کسی بھی شخص یا حکومت کے لیے صرف یہ موقع ہے کہ وہ فطرت سے موافقت کرے، وہ کسی بھی حال میں اس سے لڑ نہیں سکتا۔ فطرت سے لڑنا ایسا ہی ہے جیسے بھونچال سے لڑنا، اور کون ہے جو بھونچال سے لڑ کر کامیابی کی امید کر سکے؟ تاریخ میں بار بار ایسا ہوا ہے کہ کسی شخص یا گروہ کو اقتدار مل گیا تو اس نے سمجھا کہ ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اس بھرم کے تحت انہوں نے بڑے بڑے اقدامات شروع کر دیے۔
انہوں نے چاہا کہ زندگی کے مروجہ نقشے کو توڑ کر خود اپنی پسند کے مطابق اس کا ایک نقشہ بنائیں، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی ہر طاقت کے حصے میں صرف ناکامی آئی۔ فطرت کا نظام جس طرح پہلے قائم تھا، اسی طرح وہ بعد کو بھی قائم رہا۔ چنگیز خان سے لے کر نادر خان تک، اور ہٹلر سے لے کر اسٹالن تک، اور پھر موجودہ زمانے کے آمروں اور ڈکٹیٹروں تک، ہر ایک اسی کا مصداق ثابت ہوئے ہیں۔ اس معاملے میں پوری تاریخِ انسانی میں کسی کا کوئی استثنا نہیں۔
انہی فطری اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ اس دنیا میں امن کے لیے بقا ہے، جنگ کے لیے بقا نہیں۔ یہاں عدل کو جماؤ ملتا ہے، ظلم کو نہیں۔ یہاں تواضع کو جگہ ملتی ہے، گھمنڈ کو نہیں۔ یہ دنیا فراخ دلی کو قبول کرتی ہے، تنگ نظری کو نہیں۔
یہ فطرت کا اٹل خانون ہے۔ اس خانون سے کسی کا ٹکرانا ایسا ہی ہے جیسے کہ وہ پتھر کی چٹان سے اپنا سر ٹکرانے لگے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 48۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.