Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Fitri Tareeqa

Urdu · 3 min

فطری طریقہ: جب بھی قومی تعمیر کا کوئی ایسا منصوبہ سامنے لایا جائے جس میں لمبی مدت کی جدوجہد کے بعد نتیجہ نکلنے والا ہو، تو لوگ فوراً کہہ دیتے ہیں کہ "اس میں تو بہت وقت لگے گا" اور ہم کو لمبے انتظار کا موقع نہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک الٹا تبصرہ ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو دیر طلب منصوبوں سے گھبرا کر فوری تدبیروں کی طرف دوڑنا، منزل پر پہنچنے کی مدت کو اور لمبا کرنا ہے۔ دیر طلب منصوبہ دیر طلب منصوبہ تو بہرحال ایک وقت پر مکمل ہو جاتا ہے، مگر مختصر راستوں پر دوڑنا صرف وقت ضائع کرنا ہے، کیونکہ ایسے راستے کبھی اپنے مسافر کو منزل تک نہیں پہنچاتے۔

جو شخص درخت کی بڑی بڑی شاخوں کو گاڑ کر آناً فاناً اپنے سامنے ایک ہرا بھرا باغ دیکھنا چاہتا ہو، اس کو پودے لگا کر باغبانی کا طریقہ بتائیے تو اس کی سمجھ میں اس قسم کی شجرکاری کبھی نہیں آئے گی۔ وہ کہے گا کہ یہ تو بہت لمبا منصوبہ ہے، حالانکہ اگر مستقبل کے لحاظ سے دیکھیے تو خود اسی کا منصوبہ غیر متناہی طور پر لمبا ہے۔ کیونکہ شاخیں گاڑنے والے کو تو ہزار سال میں بھی باغ دیکھنا نصیب نہیں ہو سکتا، جبکہ پودے لگانے والے کے لیے بہرحال ایک ایسا وقت آتا ہے جب کہ وہ ہرے بھرے باغ کا مالک بن جائے، خواہ یہ وقت 25 برس بعد آئے یا 50 برس بعد۔ جس طرح باغبانی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں، اسی طرح زندگی کی تعمیر میں بھی کوئی شارٹ کٹ نہیں۔

یہ کام بہرحال طویل المدت منصوبہ ہی کے ذریعے ہوگا، خواہ ہم اس کو آج شروع کریں یا آج کے بہت دنوں بعد اس وقت شروع کریں جب کہ کام کا پہلا قیمتی موقع ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ہو۔ فطرت کا یہ طریقہ کسی انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے، وہ خود خدا کا بنایا ہوا ہے۔ جس خدا نے دنیا کو بنایا ہے، اسی نے اس کے لیے یہ قانون بھی وضع کیا ہے: انسان جس طرح اپنے رہنے کے لیے کوئی اور دنیا پیدا نہیں کر سکتا، اسی طرح اس کے لیے ناممکن ہے کہ وہ اپنے لیے کوئی اور قانون وضع کر سکے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 46۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.