Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Bayan-e-Haqeeqat

Urdu · 3 min

بیانِ حقیقت: ایک صورت یہ ہے کہ آپ اپنی بات کو دلیل سے ثابت کریں، دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو سادہ طور پر بلا دلیل بیان کریں۔ انگریزی کا ایک مثل ہے کہ ایک واضح بیان مضبوط ترین استدلال ہے۔ A clear statement is an argument in itself. جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ بہت سی حدیثوں میں یہی دوسرا انداز اختیار کیا گیا ہے۔

اس کے باوجود وہ اتنی مؤثر ہیں کہ انہوں نے کروڑوں لوگوں کے اندر انقلاب پیدا کر دیا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ کہ ایک واضح بیان سننے والے کے لیے بذاتِ خود دلیل بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے ایک بیان کے ساتھ فطرت خود اضافہ کر کے اس کو مکمل کر لیتی ہے۔

دلیل کی کمی انسان کی فطرت خود پورا کر لیتی ہے۔ تمام حقیقتیں انسان کی فطرت کے اندر موجود ہیں۔ وہ انسان کے لاشعور میں پیدائشی طور پر رکھ دی گئی ہیں۔ آدمی جب کسی حقیقت کو مانتا ہے تو وہ اس کو اس لیے مانتا ہے کہ وہ اس کی پیدائشی معرفت کے ساتھ مطابقت کر رہی ہے۔

ایک بیان جب سننے والے کی اپنی فطرت کے ساتھ مطابقت کر رہا ہو تو اس کے بعد اس کی حاجت نہیں رہتی کہ اس کو ثابت کرنے کے لیے دلیل و برہان پیش کی جائے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کو پیاس لگی ہوئی ہو، اس کو پانی کا ایک گلاس پیش کیا جائے تو اس کی ضرورت نہیں کہ پانی کی اہمیت پر اس کے سامنے تقریر کی جائے۔ یا علمی دلائل کے ذریعے ثابت کیا جائے کہ پانی انسان کے لیے ضروری اور مفید ہے۔ آدمی کے اندر پانی کا احساس اس کو اس سے مستغنی کر دیتا ہے کہ وہ پانی کی اہمیت سمجھنے کے لیے دلیل کا طالب ہو۔

اسی طرح دینِ فطرت کا مجرد بیان بھی پوری طرح مؤثر ہو سکتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ وہ فی الواقع بیانِ حقیقت ہو، اس میں کسی غیر فطری چیز کی آمیزش نہ کی گئی ہو۔ وہ اصل واقعے سے اتنا زیادہ مطابقت رکھتا ہو کہ وہ معرفتِ فطری کا بے لاگ اظہار بن جائے۔ وہ اپنے صحتِ بیان کی بنا پر پورے معنوں میں فطرتِ انسانی کا مثنی بن گیا ہو۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 49۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.