Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Zindagi ki Daud

Urdu · 4 min

زندگی کی دوڑ۔ سمندر میں ان گنت مچھلیاں ہوتی ہیں، چھوٹی بھی اور بڑی بھی۔ یہ مچھلیاں مسلسل طور پر پانی کے اندر دوڑتی رہتی ہیں۔ چھوٹی مچھلی کو ہر لمحہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ بڑی مچھلی اس کو کھا جائے گی۔

چھوٹی مچھلی اگر سمندر سے سوال کرے کہ یہ بڑی مچھلیاں کب تک چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی رہیں گی، تو سمندر کا جواب ہوگا کہ اس وقت تک جب کہ چھوٹی مچھلی اپنے آپ کو اتنا بڑا نہ کر لے کہ وہ بڑی مچھلی کے منہ میں نہ آ سکے۔ زندگی اسی دوڑ کا نام ہے۔ اس دنیا کا پورا نظام اسی دوڑ یا مسابقت کے اصول پر قائم ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ ہم اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کریں۔

اس قسم کا احتجاجی طوفان کسی مفروضہ ظالم کے خلاف نہیں، وہ براہِ راست فطرت کے نظام کے خلاف ہے۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ فطرت کے خلاف کوئی بھی شکایت یا احتجاج کارگر ہونے والا نہیں۔ مزید یہ کہ دوڑ یا مسابقت کا یہ نظام کوئی ظلم و زیادتی کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ہر ایک کے لیے زندگی اور ترقی کا زینہ ہے۔

اگر یہ دوڑ کا نظام نہ رہے تو ہر ایک جمود کا شکار ہو جائے۔ زندگی کی سرگرمیاں تمام کی تمام ٹھپ ہو کر رہ جائیں۔ ہر انسان کی دو حیثیتیں ہیں: ایک بااعتبار امکان اور دوسری بااعتبار واقعہ۔ ایک انسان جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے تو واقعے کے اعتبار سے وہ ایک بچہ ہوتا ہے، مگر امکان کے اعتبار سے وہ ایک پورا انسان ہوتا ہے۔

اسی طرح ہر پیدا ہونے والا واقعہ، اسی طرح ہر پیدا ہونے والا واقعہ کے اعتبار سے ایک غیر عالم آدمی ہوتا ہے، مگر امکان کے اعتبار سے وہ ایک ایسا آدمی ہوتا ہے جو اپنے دماغ میں عمل کا خزانہ سمیٹے ہوئے ہو۔ یہی معاملہ تمام دوسرے پہلوؤں کا ہے۔ ہر آدمی کے اندر غیر معمولی امکانات کا سرمایہ چھپا ہوا ہے۔ یہ امکانات صرف اس وقت واقعہ بنتے ہیں جب کہ وہ زندگی کی دوڑ میں حوصلہ مندانہ طور پر شریک ہو جائے۔

کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 40۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.