بڑائی کا راز: زمین کے اوپر بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں، ایورسٹ کی چوٹی زمین سے ساڑھے 5 میل اوپر ہے۔ اتنے بڑے بڑے پہاڑ زمین پر کیوں قائم ہیں؟ اس لیے نہیں کہ وہ بخیا چیزوں کے سامنے اپنی بڑائی کا مظاہرہ کریں۔ حتیٰ کہ پہاڑ اپنا سایہ زمین پر ڈال کر یہ اعلان کر رہا ہے کہ بڑا بننے سے اس کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
اس کو تواضع پسند ہے، نہ کہ فخر و ناز۔ پہاڑ کا زمین پر قائم ہونا خدمت کے لیے ہے، نہ کہ عظمت کے لیے۔ وہ زمین کے چاروں طرف اس لیے قائم ہے تاکہ زمین کو متوازن رکھ سکے۔ زمین کے دو تہائی حصے میں گہرے سمندروں کی بنا پر یہ اندیشہ تھا کہ زمین اپنا توازن کھو دے گی اور انسان کے لیے ناقابلِ رہائش بن جائے گی۔
چنانچہ زمین کی خشکی والے حصوں میں پہاڑ ابھر آئے تاکہ نشیب و فراز کے دو طرفہ عمل سے زمین کے توازن کو برقرار رکھیں۔ یہ دنیا کے لیے فطرت کا ایک مقرر اصول ہے: یہاں بہت سی چیزیں ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کو فطرت کی طرف سے کوئی امتیازی خصوصیت دی گئی ہے۔ مگر یہ امتیازی خصوصیت اس لیے نہیں ہے کہ ایک چیز اپنے آپ کو دوسری چیز سے بڑا سمجھے۔ ایک چیز دوسری چیز کے اوپر فخر کرے۔
بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایک اپنی خدمت کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ اپنا حصہ ادا کرے۔ یہی مزاج انسان کو بھی اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔ انسان کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا گیا ہے کہ مختلف انسانوں کو مختلف امتیازی صفتیں دی گئی ہیں۔ یہ امتیازی صفتیں صرف امتیازی کارکردگی کے لیے ہیں۔
وہ اس لیے نہیں ہیں کہ کوئی انسان ان کو پا کر خود پسند بن جائے اور دوسروں کے اوپر اپنی بڑائی جتانے لگے۔ متوازن انسانی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جاننے کے ساتھ دوسروں کو بھی جانے اور ان کا اعتراف کرے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 39۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.