نفع بخشی: درخت کی شاخوں میں ہری پتیاں نکلتی ہیں، وہ ایک عرصے تک شاخ کا حسن بنی رہتی ہیں، مگر جیسے ہی ان کی ہریالی ختم ہوتی ہے، درخت ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ درخت سے ٹوٹ کر زمین پر گر پڑتی ہیں، صرف اس لیے کہ وہ مٹی میں مل کر اپنے وجود کو ختم کر لیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کا سبب قانون فطرت ہے: پتی جب تک ہری ہوتی ہے، وہ سورج سے توانائی لے کر درخت کو پہنچاتی رہتی ہے، لیکن ہراپن ختم ہوتے ہی پتی کی یہ صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، اس کے بعد وہ درخت کے لیے ایک غیر مطلوب چیز بن جاتی ہے، یہاں تک کہ درخت اس کو اپنے سے جدا کر کے زمین پر گرا دیتا ہے۔ یہی موجودہ دنیا کا خانون ہے۔
موجودہ دنیا میں نفع اندوزی ایک غیر معلوم لفظ ہے۔ یہاں کی ہر چیز نفع بخشی کے اصول پر قائم ہے، نہ کہ نفع اندوزی کے اصول پر۔ سورج ہمیشہ ہماری دنیا کو ایک طرفہ طور پر روشنی اور حرارت پہنچاتا ہے؛ وہ اپنے لیے ہماری دنیا سے کچھ نہیں لیتا۔ ہوا مسلسل طور پر حرکت میں ہے تاکہ زمین کے چاروں طرف بسے ہوئے لوگوں کو آکسیجن کی سپلائی جاری رکھے، مگر ہوا اس کی کوئی قیمت دنیا والوں سے وصول نہیں کرتی۔
ندیاں پہاڑوں کی بلندی سے اتر کر زمین کے چاروں طرف پھیل جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو زندگی بخش پانی فراہم کریں، مگر یہ ندیاں لوگوں سے اس کا کوئی معاوضہ وصول نہیں کرتیں۔ یہی کائناتی اخلاق انسان کو بھی اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ انسان کو بھی نفع اندوزی کے بجائے نفع بخشی کے اصول پر اپنی زندگی کی تعمیر کرنا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں، وہ عظیم کائناتی قافلے میں شریک ہو جائیں گے، اور جو ایسا نہ کر سکیں، وہ نفع بخشی کے اصول پر چلنے والی اس دنیا میں بے جگہ ہو جائیں گے۔
کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 38۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.