Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Sahi Sabaq lijiye

Urdu · 3 min

صحیح سبق لیجیے: باغ میں گلاب کا ایک پیڑ ہے، اس کی شاخوں میں پھول اگے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ اس کی شاخوں میں کانٹے بھی ہیں۔ پھول کے ساتھ کانٹے کو دیکھ کر ایک شاعر کہتا ہے: "حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے، اگر کانٹوں میں ہو خوئے حریری۔ " یہ صحیح ہے کہ فطرت کی دنیا میں پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں، مگر کانٹوں کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ پھول کی متشددانہ چوکیداری کرے۔

یہ شاعر کی اپنی خیال آرائی ہے، نہ کہ فطرت کا مطلوب سبق۔ پھول کے ساتھ کانٹے کو پیدا کر کے فطرت جو سبق دینا چاہتی ہے، وہ زیادہ صحیح طور پر یہ ہے کہ دنیا میں خوشگوار چیزوں کے ساتھ ناخوشگوار چیزیں بھی ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دونوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ ایک اور شاعر نے یہی دوسرا سبق لیتے ہوئے اس طرح کہا ہے: "گلشن پرست ہوں، مجھے گل ہی نہیں عزیز؛ کانٹوں سے بھی نباہ کیے جا رہا ہوں میں۔

" زندگی اسی نباہ کے آرٹ کا دوسرا نام ہے۔ جس آدمی کا یہ حال ہو کہ وہ پھول کو دیکھ کر خوش ہو اور کانٹے کو دیکھ کر غصہ کرے، وہ موجودہ دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس قسم کا مزاج فطرت کے نقشے کے خلاف ہے۔ اور جو مزاج فطرت کے نقشے کے خلاف ہو، اس کے لیے موجودہ دنیا میں کامیابی مقدر نہیں۔

پھول کا حسن خود اس کی چوکیداری ہے۔ پھول کا حسین اور خوشبودار ہونا یہی اس بات کی کافی ضمانت ہے کہ وہ دنیا کے باغ میں اپنے لیے ایک بہتر جگہ پائے۔ وہ دشمنوں کی دشمنانہ کارروائیوں سے پوری طرح محفوظ رہے۔ اسی طرح اگر انسان اپنے اندر کوئی ممتاز خوبی پیدا کر لے تو وہ اس قابل ہو جائے گا کہ وہ دنیا کے اندر پھول کی طرح جیے۔

کانٹوں کی طرف سے اس کے لیے کوئی خطرہ نہ رہے۔ کتاب: تعمیر حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 37۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.