Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Tarbiat ke Marahil

Urdu · 3 min

تربیت کے مراحل: انسان امکانی طور پر اشرف المخلوقات ہے، مگر یہ درجہ صرف اس کو ملتا ہے جس نے اپنی محنت سے اس امکان کو واقعی بنایا ہو۔ انسان کا معاملہ عین وہی ہے جو اس دنیا میں دوسری چیزوں کا معاملہ ہے؛ مثلاً لوہا ایک دھات ہے جس کو زمین سے نکالا جاتا ہے، وہ اپنی ابتدائی صورت میں صرف ایک کچی دھات یعنی اور ہے۔ زمین سے نکالنے کے بعد اس پر کئی مزید مراحل گزرتے ہیں، حتیٰ کہ اس کو انتہائی گرم انچ میں پگھلایا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ ترقی کر کے وہ چیز بن جاتا ہے جس کو فولاد یعنی اسٹیل کہا جاتا ہے۔

اسی طرح انسان بھی ابتدا میں گویا ایک کچی دھات ہوتا ہے، اس کے اندر ایک اعلیٰ انسان بننے کی تمام امکانی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں، مگر ابتدائی انسان صرف اس وقت اعلیٰ اور ترقی یافتہ انسان بنتا ہے جبکہ وہ ان تمام مراحل سے گزرے جو خانون کے مطابق اس کے لیے ضروری ہیں۔ ان مراحل میں سب سے اہم چیز صبر و تحمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے ساتھ جب مشکلات پیش آئیں تو ان سے بھاگنے کے بجائے وہ حوصلہ مندانہ طور پر ان کا سامنا کرے۔ لوگوں کی طرف سے اس کو تلخ تجربات پیش آئیں، مگر وہ غصہ اور نفرت میں مبتلا نہ ہو، بلکہ مثبت جذبات کے ساتھ وہ ان کو برداشت کرے۔

زندگی کے سفر میں اس کو نقصان اور ناکامی سے سابقہ پیش آئے، اس کے باوجود وہ بے ہمت نہ ہو۔ ہر بار وہ نئے عزم کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے۔ زندگی کے یہی وہ تجربات ہیں جو انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بناتے ہیں، جو انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو باہر لا کر اس کو ایک کامل انسان بنا دیتے ہیں۔ زندگی کے ناخوشگوار تجربات کسی انسان کے لیے تربیتی مراحل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس تربیتی کورس سے گزرے بغیر انسان کا اعلیٰ انسان بننا ممکن نہیں۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 36۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.