Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Fitrat se hamahangi

Urdu · 3 min

فطرت سے ہم آہنگی: کوئی آدمی زلزلے سے لڑ نہیں سکتا۔ اس طرح کوئی آدمی فطرت کے قوانین سے لڑ کر موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کی تعمیر نہیں کر سکتا۔ فطرت کے مقابلے میں انسان کے لیے واحد ممکن روش یہ ہے کہ وہ اس سے ہم آہنگی کرے: وہ فطرت کے قوانین سے مطابقت کرتے ہوئے اپنی زندگی کا نقشہ بنائے۔ اس کے بعد دوسرا ممکن بدل صرف تباہی ہے، نہ کہ تعمیر یا ترقی۔

اس دنیا میں اگر آپ اپنے لیے ایک ہرا بھرا درخت چاہتے ہوں تو اس کا آغاز ایک بیج یا ایک چھوٹے سے پودے سے کرنا ہوگا، اور پھر ضروری ہوگا کہ آپ لمبی مدت تک انتظار کریں، اس کے بعد ہی آپ اپنے مطلوب درخت کو پا سکتے ہیں۔ اس قانونِ فطرت کی خلاف ورزی کرنا صرف اس قیمت پر ممکن ہوگا کہ آپ کو اپنا مطلوب درخت کبھی حاصل ہی نہ ہو۔ یہی مثال زندگی کے تمام معاملات پر صادق آتی ہے: آپ جب بھی اپنی زندگی کا کوئی منصوبہ بنائیں تو اپنی خواہشوں اور امنگوں کے ساتھ اس حقیقت کو بھی ضرور ملحوظ رکھیے کہ آپ کو اپنے منصوبے کی تکمیل ایسی دنیا میں کرنی ہے جو آپ کی مرضی کی پابند نہیں۔ آپ کو چاہیے کہ فطرت کے ان خارجی ضابطوں کی رعایت کرتے ہوئے اپنا منصوبہ بنائیں، اور اس سے مطابقت کرتے ہوئے اس کو چلائیں۔

یہی واحد حکمت ہے جس کی تعمیل کر کے اس دنیا میں کسی انفرادی یا اجتماعی منصوبے کو کامیاب کیا جا سکتا ہے۔ دنیا میں کامیابی اسی "مطابقِ فطرت عمل" کا دوسرا نام ہے۔ اس کے مقابلے میں ناکامی یہ ہے کہ آدمی فطرت کے نظام سے مطابقت نہ کر سکے۔ کامیابی 50% اپنی کوششوں کا نام ہے اور 50% فطرت کی موافقت کا نام۔

کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 35۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.