Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Taqabul ka masala

Urdu · 3 min

تقابل کا مسئلہ: امریکہ کے ایک سفر میں میری ملاقات کچھ ایسے مسلمانوں سے ہوئی جو ہندوستان سے جا کر امریکہ میں آباد ہو گئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے وطن کو چھوڑ کر یہاں کیوں چلے آئے؟ ہر ایک کا جواب یہ تھا کہ امریکہ میں ہمارے لیے "peace" یعنی امن ہے، اور ہندوستان میں ہمارے لیے "peace" نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ادھوری بات ہے۔

peace کا تعلق کسی ملک سے نہیں، بلکہ peace کی ایک قیمت ہے؛ آپ جہاں بھی وہ قیمت ادا کریں، وہاں آپ کو peace مل جائے گا۔ یہ قیمت adjustment ہے۔ پھر میں نے کہا کہ امریکہ میں بھی مسلمانوں کے لیے وہ تمام مسائل موجود ہیں جو ہندوستان میں ہیں، مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہندوستان میں وہ ان مسائل کو لے کر بے برداشت ہو جاتے ہیں، اور امریکہ میں ان مسائل کے اوپر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں ان کے لیے امن ہے، اور ہندوستان میں ان کے لیے امن نہیں۔

میں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے پرسنل لا میں مداخلت کا مسئلہ ہے، ملازمتوں میں امتیاز کا مسئلہ ہے، درسی کتابوں میں غیر اسلامی مضامین کا مسئلہ ہے، مسجد کی بے حرمتی کا مسئلہ ہے، وغیرہ۔ یہ تمام مسائل امریکہ میں بھی پوری طرح موجود ہیں، مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہندوستان میں ان چیزوں کو لے کر احتجاجی سیاست چلاتے ہیں، اور امریکہ میں ان چیزوں کو نظرانداز کر کے رہتے ہیں۔ مسلمانوں کی روش میں اسی فرق نے بے امنی کا مسئلہ پیدا کیا ہے، نہ کہ دو ملکوں کے فرق نے۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اکثر لوگ غلط تقابل میں مبتلا رہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بیشتر فکری غلطیاں غلط تقابل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ صحیح تقابل سے صحیح فکر بنتا ہے، اور غلط تقابل سے غلط فکر۔ اس دنیا میں صحیح رائے صرف دو لوگ قائم کر سکتے ہیں: جو اس فکری حکمت کو جانیں۔ جو لوگ اس فکری حکمت سے محروم ہوں، وہ صحیح رائے سے بھی محروم رہیں گے۔

کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 31۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.