← Tameer-e-HayatTameer-e-Hayat
Ghalat soach ka masala
Urdu · 14 min
غلط سوچ کا مسئلہ: ماہنامہ الرسالہ کے ایک قاری لکھتے ہیں، آپ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ آدمی کے لیے جب کامیابی کا ایک موقع ختم ہو جائے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس کے بعد دوسرا موقع وہیں اس کے لیے موجود رہتا ہے جس سے وہ اپنی ترقی کا سفر دوبارہ شروع کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ آدمی کس طرح جانے کہ یہاں اس کے لیے دوسرا موقع موجود ہے؟ سہیل احمد، نئی دہلی۔ نئے موقع کو پہچاننے کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ آدمی بند ذہن کے تحت نہ سوچے، بلکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کے لیے تیار ہو۔
وہ دوسروں کو قصوروار ٹھہرانے کے مزاج سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا لے۔ اس کی ایک مثال ہندوستان کے مسلمان ہیں؛ 1947 سے پہلے ہمارے لیڈر اور ہمارے اخبارات مسلمانوں کو یہ بتاتے تھے کہ ہندوستان میں ان کا مقابلہ ہندو اکثریت سے ہے، یہاں وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔ 1947 میں تقسیم کے بعد بھی یہی ذہن باقی رہا؛ تمام بولنے والے اور لکھنے والے لوگ مسلمانوں کو یہی منفی سبق دیتے رہے۔ کچھ لوگ اس حد تک گئے کہ انہوں نے کہنا شروع کیا کہ یہاں کا اکثریتی فرقہ، ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں، اس ملک کو دوسرا اسپین بنانا چاہتا ہے۔
اس غوغا آرائی نے مسلمانوں کے ذہن کو اتنا زیادہ بگاڑا کہ وہ سمجھنے لگے کہ ہندوستان میں ان کے لیے کامیابی اور ترقی کے مواقع سرے سے موجود ہی نہیں۔ میں 1947 سے اس کے خلاف لکھتا اور بولتا رہا ہوں۔ آخرکار، آزادی کے تقریباً 40 سال بعد، مسلمانوں کا ذہن بدلنا شروع ہوا۔ اب ان کی سمجھ میں آیا کہ ہندوستان میں ان کے لیے ہر قسم کے مواقع کھلے ہوئے ہیں، چنانچہ اب یہاں کے مسلمان ہر میدان میں مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ اس دنیا کا نظام فطرت کے قوانین کے تحت چلتا ہے، نہ کہ کسی متعصب فرقے کے منصوبوں یا سازشوں کے تحت۔ کوئی فرقہ یا گروہ بالفرض چاہے بھی تو، فطرت اس کے راستے میں رکاوٹ بن جائے گی، اور وہ تاریخ کے پہیے کو الٹی طرف گھمانے میں کامیاب نہ ہوگا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، اس دنیا کا نظام فطرت کے اٹل قانون کے تحت چل رہا ہے، نہ کہ کسی گروہ کی سازش کے تحت۔ فطرت کے اس قانون کا ایک حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ وہ اکثر حالات میں کمزور فریق کا ساتھ دیتا ہے؛ وہ نام نہاد بڑے گروہ کے مقابلے میں چھوٹے گروہ کی حمایت کرتا ہے۔
یہ قانون قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: "کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئیں ہیں" (البقرہ، سورہ نمبر 2، آیت 249)۔ ایک کمزور گروہ اپنے مقابلے میں طاقتور گروہ سے کیوں کر بڑھ جاتا ہے؟ اور فطرت کا قانون کس طرح اس کا مددگار بنتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خالق—خالقِ فطرت نے پیدائشی طور پر ہر انسان کے اندر عطا امکانات رکھ دیے ہیں۔
ہر آدمی پیدائشی طور پر غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہے، مگر ابتدائی طور پر یہ صلاحیت سوئی ہوئی حالت میں ہوتی ہے۔ یہ تمام اعلیٰ امکانات اس کے اندر بالقوہ طور پر موجود ہوتے ہیں۔ یہ انسان کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اس بالقوہ یعنی پوٹینشل کو بالفعل یعنی ایکچول میں تبدیل کرے۔ یہاں دوبارہ فطرت کا قانون یہ ہے کہ یہ تبدیلی دباؤ کے ذریعے ہوتی ہے۔
یعنی کسی فرد یا گروہ کے اوپر حالات کا جتنا زیادہ دباؤ پڑتا ہے، اتنا ہی زیادہ اس کی چھپی ہوئی صلاحیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ یہ عین وہی فطری معاملہ ہے جو مثال کے طور پر گنے کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر گنّا رس سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ ہر گنّا رس سے بھرا ہوا ہوتا ہے، مگر معمول کے حالات میں یہ رس گنے سے باہر نہیں آتا۔
گنے کا رس صرف اس وقت اندر سے نکل کر باہر آتا ہے جبکہ اس پر غیر معمولی دباؤ پڑے۔ گنے کو اگر آپ نرم روئی میں رکھ دیں تو اس کا رس کبھی باہر نہیں آئے گا۔ لیکن جب آپ گنے کو کرشر میں ڈالتے ہیں تو اس کے اندر بھرا ہوا میٹھا رس نکل کر باہر آ جاتا ہے۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔
انسان بھی ہمیشہ دباؤ کے حالات میں ترقی کرتا ہے۔ یہی اصول فرد کے لیے بھی ہے، اور یہی اصول جماعت کے لیے بھی۔ اس معاملے کو مشہور برطانوی مؤرخ آرنلڈ جے ٹوائن بی نے اپنی کتاب "مطالعۂ تاریخ" یعنی "A Study of History" میں کامیابی کے ساتھ واضح کیا ہے۔ 12 جلدوں کی اس کتاب میں اس نے بتایا ہے کہ تاریخ کی تمام بڑی بڑی تہذیبوں کو جو لوگ وجود میں لائے، وہ اقلیت میں تھے۔
یہ دراصل اقلیتی گروہ ہے جو تاریخ کے تمام بڑے بڑے واقعات کے پیچھے کام کرتا رہا ہے۔ ٹوائن بی کے مطابق اس کا اصول یہ ہے کہ اکثریتی گروہ کی طرف سے اقلیتی گروہ کو چیلنج پیش آتا ہے۔ یہ چیلنج اقلیتی گروہ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اکثریتی گروہ کے مقابلے میں زیادہ کام کرے۔ وہ اپنے وجود کو باقی رکھنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو دوسروں سے زیادہ استعمال کرے۔
حالات کا یہ دباؤ اقلیتی گروہ کو ابھارتا ہے، یہاں تک کہ وہ ہیروانہ کردار ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ٹوائن بی نے فطرت کے اس اصول کو تاریخ کی 21ویں تہذیبوں کی عملی مثال سے ثابت کیا ہے۔ فطرت کا یہی قانون ہندوستانی مسلمانوں پر ساتھ دکھاتا ہے۔ 1947 سے پہلے ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔
وہ اپنی سیاسی مصلحت کے تحت ملک کے چھوٹے اور بڑے گروہ کے درمیان ایک موازنہ یعنی بیلنس قائم کیے ہوئے تھے۔ 15 اگست 1947 کو جب ہندوستان آزاد ہوا اور یہاں جمہوری دور آیا، تو انگریز کا قائم کردہ موازنہ ٹوٹ گیا۔ اب مسلمانوں کی حیثیت اقلیتی گروہ کی ہو گئی، اور ہندوؤں کی حیثیت اکثریتی گروہ کی۔ اس کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو گئے جو انگریزوں کے زمانے میں موجود نہ تھے۔
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بظاہر یہ ایک مسئلہ تھا، مگر فطرت کے قانون کے مطابق وہ ایک چیلنج تھا۔ اپنے نتیجے کے اعتبار سے، وہ مسلمانوں کی چھپی ہوئی قوتوں کو بیدار کرنے کے ہم معنی تھا۔ بیداری کا یہ عمل ابتدائی طور پر 1947 کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا، مگر اپنے پہلے دور میں وہ غیر شعوری حالت میں عمل کرتا رہا۔ اس کے بعد دوسرا دور آیا، اور بیداری کا یہ عمل شعوری طور پر شروع ہو گیا۔
اب یہ عمل اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ہر جگہ اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے دہلی میں مسلمانوں کا ایک جلسہ ہوا۔ اس کا موضوع تھا: "مسلمانوں کا معاشی پچھڑا پن کیوں؟ " یہاں مختلف مقررین نے اظہارِ خیال کیا۔
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ مفروضہ بجائے خود غلط ہے کہ اس ملک کے مسلمان پچھڑ گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ اصل حقیقت برعکس طور پر یہ ہے کہ اس ملک کے تقریباً ہر مسلمان نے 1947 کے بعد ترقی کی ہے۔ میں نے کہا کہ صنعتی انقلاب کے بعد ساری دنیا میں، اور خود ہندوستان میں، ایک اقتصادی انفجار یعنی "Economic Explosion" آیا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ایک قسم کا خلافِ زمانہ خیال ہے کہ مسلمانوں کو اقتصادی اعتبار سے پچھڑا ہوا گروہ بتایا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا بیان بظاہر ہی قابلِ رد ہے۔ پھر میں نے اپنی تقریر میں حاضرین کو براہِ راست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جو مسلمان اس حال کے اندر موجود ہیں، ان میں سے ہر مسلمان کی اقتصادی حالت 1947 کے مقابلے میں آج زیادہ بہتر ہے۔ اور اگر آپ میں سے کسی کا معاملہ اس سے مختلف ہو تو وہ کھڑا ہو کر میرے اس بیان کی تردید کرے۔ حاضرین میں سے کسی ایک مسلمان نے بھی یہ نہیں کہا کہ 1947 میں میری جو معاشی حالت تھی، اس کے مقابلے میں آج میری حالت خراب ہو چکی ہے۔
میں نے اس معاملے کا باقاعدہ سروے کیا ہے، اور اپنی کتاب "ہندوستانی مسلمان" میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق ہندوستان کا تقریباً ہر مسلم ادارہ، ہر مسلم جماعت، ہر مسجد اور ہر مدرسہ 1947 کے مقابلے میں آج 10 گنا اور چوگنا ترقی کر چکا ہے۔ تقریباً ہر مسلم خاندان 1947 کے مقابلے میں آج زیادہ بہتر زندگی گزار رہا ہے۔ تعلیم اور اقتصادیات کے میدان میں ہندوستانی مسلمان 1947 کے مقابلے میں آج بہت زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔
یہ ترقی اتنی عام ہو چکی ہے کہ کسی بھی مسلم خاندان کا جائزہ لے کر اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ اس معاملے کی ایک چشم کشا مثال وہ ہے جو جولائی 1999 میں سامنے آئی۔ نیویارک کے مشہور اقتصادی میگزین "فوربس" نے ساری دنیا کے ارب پتیوں کا سروے کیا۔ اس سلسلے میں اس نے ہندوستان کے ارب پتیوں کا بھی سروے کیا۔
اس سروے کے نتائج "فوربس" میگزین کے شمارہ 5 جولائی 1999 میں شائع ہوئے۔ اس کے بعد وہ ہندوستان کے تمام اخباروں، مثلاً "ٹائمز آف انڈیا"، "ہندوستان ٹائمز" وغیرہ میں نقل ہوئے۔ فوربس میگزین کے سروے کے مطابق اس وقت ہندوستان کے ارب پتیوں میں اس وقت ہندوستان کے ارب پتیوں یعنی "Billionaires" میں جو آدمی نمبر 1 پر ہے، وہ بنگلور کا ایک مسلمان ہے جس کا نام عظیم ہاشم پریم جی ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے 10 انتہائی بڑے دولت مندوں میں سے 3 آدمی مسلمان ہیں۔
"Intelligent Investor" کے شمارہ 14 جولائی 1999 میں یہ رپورٹ "At the Top" کے عنوان سے چھپی ہے۔ "ٹائمز آف انڈیا" نئی دہلی کے شمارہ 27 جون 1999 میں یہ رپورٹ "Very Rich" کے عنوان سے چھپی ہے۔ دوسرے اخباروں میں یہ رپورٹ "Richest Indian" وغیرہ عنوانات کے تحت شائع ہوئی ہے۔ کتاب "تعمیرِ حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 26۔