Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Haqeeqat Pasandi

Urdu · 11 min

حقیقت پسندی: خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کا ایک قول ہے: «ليس العاقل الذي يعرف الخير من الشر، ولكنه الذي يعرف خير الشرّين». ضمّ الهوا لابن الجوزي، صفحہ 8۔ یعنی: دانشمند وہ نہیں ہے جو شر کے مقابلے میں خیر کو جانے، بلکہ دانشمند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے بہتر شر کون سا ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک فرد اور دوسرے فرد، یا ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان، نزاعات پیدا ہوتے ہیں؛ ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات ظہور میں آتے ہیں۔

ایسے مواقع پر ہمیشہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاملے کو طے کرنے کی صورت کیا ہو؟ وہ کون سا رہنما اصول ہے جس کی روشنی میں باہمی نزاعات کو طے کیا جائے؟ ایسے موقع پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ معاملے کو خیر اور شر، یا انصاف اور بے انصافی کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں؛ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے حصے میں شر نہ آئے بلکہ خیر آئے۔ وہ اپنے آپ کو بے انصافی سے بچائیں اور جو انصاف ہے اس کو حاصل کریں۔

لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کے لوگ اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہتے ہیں؛ ساری کوشش کے باوجود آخر میں انہیں شکایت اور نقصان کے سوا کچھ اور نہیں ملتا۔ اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں کوئی بھی شخص اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں لے سکتا۔ اس طرح کے معاملے میں ہر نزاع کے دو فریق ہوتے ہیں۔

کسی بھی فیصلے کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایک فریق کے ساتھ دوسرا فریق بھی اس پر راضی ہو۔ ایک فریق جس چیز کو خیر یا انصاف سمجھتا ہو، اگر دوسرا فریق اس کو تسلیم کرنے پر راضی نہ ہو تو اس کا نتیجہ دو طرفہ ٹکراؤ ہوگا۔ اور ٹکراؤ ہمیشہ مسئلے کو بڑھانے والا ہوتا ہے، نہ کہ اس کو گھٹانے والا۔ ایسی حالت میں دانشمندی کا تقاضا کیا ہے؟

وہ یہ ہے کہ معاملے کو خیر اور شر، یا انصاف اور بے انصافی کی نظر سے نہ دیکھا جائے، بلکہ اس کو ممکن اور ناممکن کی نظر سے دیکھا جائے۔ پھر جو چیز عملی طور پر ممکن ہے، اس کو لیا جائے، اور جو چیز عملی طور پر ناممکن ہے، اس کو چھوڑ دیا جائے۔ اس معاملے کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ 20ویں صدی عیسوی کے وسط میں عربوں اور یہودیوں کے درمیان فلسطین کے مسئلے پر نزاع پیدا ہوئی، جو اس کے بعد 50 برس تک چلتی رہی۔ یہودیوں کا یہ کہنا تھا کہ دو فریقوں کے درمیان امن کا معاہدہ ہو جائے، لیکن عرب اس کے لیے تیار نہ تھے۔

ان کا کہنا یہ تھا کہ امن صرف عدل کی بنیاد پر ہو سکتا ہے؛ عدل نہیں تو امن بھی نہیں۔ مگر بے شمار قربانیوں کے باوجود عربوں کا یہ نظریہ فیل ہو گیا، اور 20ویں صدی کے آخر میں انہوں نے عدل کی شرط کو پسِ پشت ڈال کر صرف امن کے مقصد کے تحت اسرائیل سے معاہدہ کر لیا۔ نظری طور پر یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ جب دو فریقوں میں نزاع کی صورت پیدا ہو جائے تو ان کے درمیان امن کا قیام عدل کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ آئیڈیلزم کے اعتبار سے یہ نظریہ بہت اچھا ہے، مگر عملی اسباب بتاتے ہیں کہ اس قسم کا آئیڈیل کبھی قابلِ حصول نہیں ہوتا۔

اس طرح کے نزاعی معاملات میں دانشمندی یہ ہے کہ آدمی نظری انصاف پر اصرار نہ کرے، بلکہ عملی انصاف پر راضی ہو جائے۔ اصل یہ ہے کہ امن اور انصاف کو ایک دوسرے کے ساتھ بریکٹ کرنا، بجائے خود، غلط ہے۔ اس دنیا میں امن انصاف کے لیے نہیں ہوتا۔ امن کا تعلق مواقعِ کار سے ہے، نہ کہ عدل و انصاف سے۔

امن اس لیے حاصل نہیں کیا جاتا کہ اس کے ساتھ انصاف حاصل ہو جائے، بلکہ امن اس لیے قائم کیا جاتا ہے تاکہ وہ مواقعِ کار حاصل ہوں جن کو استعمال کر کے عدل و انصاف تک پہنچا جا سکے۔ مثال کے طور پر، 1948 میں فلسطین کی جو صورتحال تھی، اس میں عربوں کو فلسطین کا بیشتر حصہ ملا ہوا تھا۔ اس وقت دانشمندانہ پالیسی یہ تھی کہ اس صورتحال کو قبول کر کے یہودیوں سے وہ صلح کر لی جائے جو 50 برس بعد کی گئی۔ اگر ایسا کیا جاتا تو اس کا زبردست فائدہ ہوتا۔

اس طرح عربوں کے لیے ممکن تھا کہ وہ امن قائم کر کے اپنے تعمیر و استحکام کی جدوجہد شروع کر دیں۔ پچھلے 50 برس میں انہوں نے انصاف کے حصول کے نام پر بے شمار دولت ضائع کی ہے، اور لاکھوں قیمتی جانوں کا نقصان کیا ہے۔ قیام امن کی صورت میں ان کا یہ تمام سرمایہ تعمیر و استحکام کے محاذ پر لگ جاتا۔ اس مثبت پالیسی کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ ان تمام چیزوں کو لڑائی کے بغیر کامیاب طور پر حاصل کر لیتے، جس کو وہ لڑائی کے ذریعے ناکام طور پر حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

اس معاملے کی بہترین مثال اسلام کے دورِ اول کا وہ تاریخی واقعہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرک قبائل کے درمیان زبردست نزاع تھی۔ ان مشرکین نے آپ کو آپ کے وطن مکے سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا، اور مسلمانوں کے خلاف دوسری بہت سی ناانصافیاں کر رہے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اگر امن کے حصول کے لیے عدل کی شرط لگاتے تو دونوں فریقوں کے درمیان کبھی امن قائم نہ ہوتا۔

مگر آپ نے یہ کیا کہ عدل و انصاف کے سوال کو الگ کر کے، مشرکین سے گویا امن برائے امن کے اصول پر صلح کر لی۔ اس امن کو آپ نے کام کے ایک موقع کے طور پر لیا، اور اس کو اسلام کی تعمیر و استحکام کے لیے استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف 2 سال کے اندر مزید اضافے کے ساتھ وہ سب کچھ حاصل ہو گیا جس کو آپ نے بظاہر معاہدۂ امن کے وقت کھو دیا تھا۔ دانشمندی کا یہ اصول جس طرح اجتماعی نزاعات کے لیے ہے، اسی طرح وہ انفرادی نزاعات و اختلافات کے لیے بھی ہے۔

انفرادی معاملات میں بھی کامیابی کا واحد طریقہ یہی ہے کہ خیر اور شر، یا صحیح اور غلط کی بنیاد پر معاملات کو طے کرنے کے بجائے، ممکن اور ناممکن کی بنیاد پر ان کو طے کیا جائے۔ گھر کے اندر دو مردوں یا دو عورتوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو تو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا ہے، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ عملی حالات کے اعتبار سے ممکن کیا ہے اور ناممکن کیا ہے۔ حق اور ناحق، یا صحیح اور غلط کی بحث میں پڑنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اختلاف کبھی ختم نہ ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر آپ ممکن پر راضی ہو جائیں تو بیک وقت آپ کو دو فائدے حاصل ہوں گے: اختلاف کا فوری خاتمہ اور مواقعِ کار کا حصول۔

یہی اصول تمام انفرادی نزاعات کے لیے ہے۔ زندگی کی سرگرمیوں کے درمیان ہر شخص کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ اختلاف اور نزاع کی صورتیں پیش آتی ہیں، کبھی مالی اور کبھی غیر مالی۔ ایسے مواقع پر جو شخص حق اور باطل، یا صحیح اور غلط کی بحث چھیڑے، وہ بلاشبہ غیر دانشمند انسان ہے۔ اس کے بجائے جو عملی تقاضوں کو سمجھے اور ان کی رعایت کرتے ہوئے ممکن پر راضی ہو جائے، تو ایسا ہی شخص عقلمند ہے، اور یہی وہ شخص ہے جو اس دنیا میں کامیابی حاصل کرے گا۔

اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی نزاع پیدا ہو تو لوگوں کی تمام تر توجہ اس پر لگ جاتی ہے کہ ازروئے انصاف کیا ہونا چاہیے، یا ان کے نزدیک اس معاملے میں حق کیا ہے، اور پھر اس حق کے حصول کے لیے فریقِ ثانی سے لڑائی چھیڑ دیتے ہیں۔ یہ لڑائی اکثر سالہا سال تک جاری رہتی ہے، اور اکثر کسی مثبت نتیجے تک نہیں پہنچتی۔ اس طرح کے موقع پر دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یہ سوچا جائے کہ مفروضۂ حق کے حصول میں جو وقت اور طاقت خرچ ہوگی، اس کو مقابلہ آرائی سے بچا کر اپنی مثبت تعمیر میں استعمال کیا جائے۔ ٹکراؤ ہمیشہ حق کے حصول کے نام پر کیا جاتا ہے، مگر عملی طور پر ٹکراؤ کا نتیجہ ہمیشہ یہ نکلتا ہے کہ اس کے دوران نہایت قیمتی مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔

اس دنیا میں عقلمندی یہ ہے کہ ہر معاملے میں یہاں عملی نقطۂ نظر اختیار کیا جائے۔ ایک شخص اپنی ذاتی زندگی میں آئیڈیل کو اپنا نشانہ بنا سکتا ہے، مگر جب اجتماعی زندگی کا معاملہ ہو تو اس کو ہمیشہ پریکٹیکل بن جانا چاہیے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 19۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.