Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Danishmand kaun

Urdu · 5 min

دانش من کون؟ ایک برطانوی مصنف، ولیم رالفنگ، کا قول ہے کہ دانشمند وہ ہے جو چیزوں کی اضافی قدر کو جانے۔ The wise man is is he who knows the relative value of things. اس قول کا مطلب کیا ہے؟

اس کو مثال سے سمجھیے: ایک طالب علم کو امتحان دینا ہے، وہ وقت کے مطابق اپنے گھر سے اسکول کے لیے روانہ ہوتا ہے۔ راستے میں ایک جاہل لڑکا اس سے الجھ جاتا ہے اور اس کو گالی دیتا ہے، جس کے نتیجے میں طالب علم کو غصہ آ جاتا ہے۔ اب طالب علم اگر غصہ ہو جائے اور مذکورہ لڑکے سے انتقام لینے کے لیے اس سے الجھ جائے، تو عین ممکن ہے کہ اس جھگڑے میں اتنی زیادہ دیر ہو جائے کہ وہ وقت پر امتحان حال تک نہ پہنچے، اور نتیجہ اس کا ایک سال ضائع ہو جائے۔ اسی طرح ایک شخص کو ضروری سفر کرنا ہے، وہ گھر سے روانہ ہوتا ہے تاکہ ریلوے اسٹیشن پہنچے، اور ٹرین پر سوار ہو کر وقت پر اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے۔

لیکن جب وہ گھر سے نکلا تو راستے میں ایک شخص سے اس کا جھگڑا ہو گیا۔ اب اگر وہ دیر تک اس آدمی سے جھگڑتا رہے، تو عین ممکن ہے کہ اس کو اتنی زیادہ دیر ہو جائے کہ جب وہ ریلوے اسٹیشن پہنچے تو اس کو معلوم ہو کہ اس کی ٹرین چلی گئی۔ ان مثالوں پر غور کیجیے: مذکورہ دونوں شخصوں کا ایک مسئلہ وہ تھا جو خود مقامِ واقعے پر موجود تھا، یعنی ایک شخص کا انہیں گالی دینا یا زیادتی کرنا۔ یہ معاملے کا وہ پہلو تھا جو براہِ راست عین موقع کے وقت دکھائی دے رہا تھا۔

اس کے ساتھ وہاں ایک چھپا ہوا پہلو بھی تھا جو بظاہر مقامِ واقعے پر موجود نہ تھا، مگر ایک صاحبِ بصیرت آدمی غور کر کے اسے جان سکتا تھا۔ وہ یہ کہ اگر ان جاہلوں سے ٹکراؤ کیا جائے اور ان کو سزا دینے کی کوشش کی جائے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک اور انتہائی اہم مصلحت تباہ ہو جائے گی۔ یعنی وقت پر امتحان حال یا ریلوے اسٹیشن نہ پہنچنا، اور محض ایک وقتی نوعیت کی جذباتی تسکین کی خاطر زیادہ بڑے فائدے سے اپنے آپ کو محروم کر لینا۔ مذکورہ قول میں اسی دوسرے، یا بظاہر دکھائی نہ دینے والے پہلو کو، معاملے کا اضافی پہلو کہا گیا ہے۔

معاملے کا ابتدائی پہلو، یعنی زیادتی کرنے والے کی زیادتی، ہر آنکھ والا دیکھتا ہے، مگر معاملے کے دوسرے پہلو یا اضافی قدر یعنی relative value کو وہی شخص دیکھے گا جو گہری بصیرت کا حامل ہو اور اپنے اقدام کا فیصلہ عقلی غور و فکر کے تحت کرتا ہو، نہ کہ محض وقتی جذبات کے تحت۔ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں اکثر معاملات میں یہ دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں۔ غیر دانشمند آدمی صرف سامنے کی صورتحال کو دیکھ پاتا ہے اور اس کے مطابق کارروائی کر کے اپنے معاملے کو بگاڑ لیتا ہے۔ دانشمند انسان وہ ہے جو معاملے کے دیگر پہلوؤں کو دیکھ سکے، جو سامنے کی صورتحال سے اوپر اٹھ کر ان حقیقتوں کا ادراک کر لے۔

اگرچہ جو مقامِ واقعے پر موجود نہیں، مگر آخر کار ظاہر ہو کر وہی فیصلہ کن بن جائیں گے۔ موجودہ دنیا اسی دانشمندی کا امتحان ہے۔ جو آدمی اس اعتبار سے دانشمند ثابت ہو، وہی اس دنیا میں کامیاب ہوگا۔ اور جو آدمی اس دانشمندی کا ثبوت نہ دے سکے، اس کے لیے یہاں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

کتاب: تعمیر حیات، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 23۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.