Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Daswan Nukta

Urdu · 2 min

دسواں نکتہ: اس سلسلے کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو اس طرح تربیت دے کہ وہ گرد و پیش کے واقعات سے سبق لے سکے۔ سبق لینے کا مزاج ایک طرف آدمی کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے، اور دوسری طرف وہ اس کو غیر ضروری نقصان سے بچاتا ہے۔ ایک نوجوان نے شہر میں ایک دکان کھولی۔ کچھ دنوں کے بعد اس میں چوری ہو گئی۔

ایک بزرگ نے نوجوان سے اس کی تفصیل پوچھی۔ نوجوان نے بتایا کہ مجھ کو تجربہ نہیں تھا، میں نے دکان میں ایک معمولی تالا لگا دیا، وہ نہایت آسانی سے کھل سکتا تھا۔ چنانچہ کوئی شخص رات کو آیا اور تالا کھول کر اطمینان کے ساتھ چوری کی اور بھاگ گیا۔ بزرگ نے کہا کہ اس معاملے میں خود تجربہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

سینکڑوں لوگوں کا تجربہ موجود ہے کہ دکان میں مضبوط تالا لگانا چاہیے۔ دکان میں معمولی تالا لگانا چور کو چوری کی دعوت دینا ہے۔ ہماری دنیا اسباق اور نصیحتوں سے بھری ہوئی ہے۔ ہر طرف کوئی نہ کوئی ایسی چیز موجود ہے جس سے آدمی اپنے لیے مفید سبق لے سکے اور بہتر انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔

ضرورت صرف یہ ہے کہ چیزوں کو کھلی آنکھ سے دیکھا جائے اور کھلے ذہن کے ساتھ ان پر غور کیا جائے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 17۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.