نواں نکتہ: فنِ تفکیر، یعنی آرٹ آف تھنکنگ، کے سلسلے میں ایک اہم پہلو ہے کہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کو جاننا۔ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بظاہر مشابہ، مگر حقیقتاً وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ اس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض اوقات آدمی کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ مثلاً ایک شخص سروس کرتا ہے اور دوسرا آدمی تاجر ہے؛ سروس کرنے والے آدمی کو مہینہ پورا ہونے پر جو رقم ملتی ہے، وہ پوری کی پوری اس کی اپنی آمدنی ہوتی ہے۔
اگر وہ ملی ہوئی پوری رقم خرچ کر دے تو اس سے اس کی سروس کا کوئی نقصان نہ ہوگا۔ اس کے برعکس، تاجر کے پاس پورے مہینے میں جو رقم آئی، اگر وہ اس پوری رقم کو اپنی ذاتی ضرورت میں خرچ کر دے اور ہر مہینہ ایسا ہی کرتا رہے تو اس کی تجارت ختم ہو جائے گی اور وہ دیوالیہ ہو کر رہ جائے گا۔ کیونکہ تاجر کے پاس جو رقم آتی ہے، اس میں بمشکل 10% اس کی اپنی آمدنی ہوتی ہے۔ بقیہ رقم مارکیٹ کی ہوتی ہے، جس کو اسے دوسروں کو لوٹانا ہوتا ہے۔
ایسی حالت میں ضروری ہے کہ سروس اور تجارت کے فرق کو سمجھا جائے، ورنہ آدمی کو سخت نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس اصول کا تعلق زندگی کے اکثر معاملات سے ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ جب بھی کوئی معاملہ پیش آئے تو ظاہری یا جزوی مشابہت کی بنا پر وہ غیر حقیقی رائے قائم کرنے کی غلطی نہ کرے۔ وہ دو چیزوں کے فرق کو جانے اور اس کے مطابق اپنی رائے قائم کرے۔
جو آدمی اس حکمت کو نہ سمجھے، اس کا حال ایک ایسے ڈرائیور کا ہوگا جو خالی سڑک اور بھری سڑک کے فرق کو نہ جانے اور دونوں جگہ یکساں طور پر اپنی گاڑی دوڑانے لگے۔ کتاب "تعمیر حیات"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 16۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.