Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Athwan Nukta

Urdu · 2 min

آٹھواں نکتہ: آدمی پیدائشی طور پر معیار پسند، یعنی آئیڈیلسٹ ہے۔ وہ ہمیشہ اعلیٰ معیار کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں خیر برتر کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں خیر برتر کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔

اس قسم کی معیار پسندی نظری طور پر بہت اچھی معلوم ہوتی ہے، مگر عملی طور پر وہ صرف تباہ کن ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کوئی آدمی اس دنیا میں اکیلا نہیں ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو دوسرے لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنا ہوتا ہے۔ ہر آدمی کا اپنا انٹرسٹ ہے۔

ہر آدمی کی اپنی مصلحتیں ہیں۔ ہر آدمی فائدہ اور نقصان کا اپنا ذاتی نظریہ رکھتا ہے۔ اس صورتحال نے موجودہ دنیا میں ہر ایک کے لیے معیار طلبی کو ناقابلِ حصول بنا دیا ہے۔ اس بنا پر اس دنیا میں قابلِ عمل صورت صرف ایک ہے، اور وہ دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی، یعنی ایڈجسٹمنٹ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں آدمی کے لیے جو انتخاب، یعنی چوائس ہے، وہ خیر اور شر کے درمیان نہیں ہے، بلکہ وہ چھوٹی برائی، یعنی لیسر ایول، اور بڑی برائی، یعنی گریٹر ایول کے درمیان ہے۔ اب کسی انسان کے لیے معقول روش یا صحیح طرزِ فکر یہ ہے کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ بڑی برائی کو چھوڑ دے اور چھوٹی برائی پر راضی ہو جائے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 15۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.