ساتواں نکتہ: سوچ کی غلطی کی ایک مثال وہ ہے جس کو سنائی طرزِ فکر، یعنی ڈائیکاٹمس تھنکنگ، کہا جا سکتا ہے۔ یعنی کسی معاملے میں صرف دو صورت کے دائرے میں سوچنا، جبکہ وہاں تیسری زیادہ بہتر صورت بھی موجود ہو۔ مثلاً ایک شخص آپ کے خلاف بدزبانی کرے، وہ آپ کے وقار کو مجروح کرے، ایسی صورتحال میں لوگ عام طور پر برداشت نہیں کر پاتے۔ وہ غصہ ہو کر فریقِ ثانی سے لڑ جاتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ برداشت کرنا بزدلی ہے، اور اس کے مقابلے میں لڑ جانا بہادری، بہادرانہ دفاع۔ اب چونکہ بزدلی کے مقابلے میں بہادری زیادہ بہتر چیز معلوم ہوتی ہے، اس لیے وہ اس روش کو چھوڑ دیتے ہیں جس کو وہ بزدلی سمجھتے ہیں، اور اس روش کو اختیار کر لیتے ہیں جس کے متعلق ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ ایک بہادرانہ روش ہے۔ مگر یہ سوچ کی غلطی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ صورتحال میں ایک تیسری ممکن روش بھی ہے، اور وہ اس کو نظرانداز کر دینا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مشتعل ہو کر لڑنے میں اپنا وقت ضائع نہ کرے، بلکہ وہ اپنے آپ کو مثبت عمل پر قائم رکھے۔ یہ تیسری روش عین وہی چیز ہے جس کو ایک مشہور مقولے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: "کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے"۔ یہ محض ایک اخلاقی بات نہیں، بلکہ یہ زندگی کی ایک اہم حقیقت ہے۔ یہ دنیا طرح طرح کے لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔
اس بنا پر اس دنیا میں بار بار ناخوشگوار تجربے پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں آدمی اگر ہر ناپسندیدہ بات پر بھڑکتا رہے، وہ ہر اشتعال انگیزی پر مشتعل ہو جائے، تو وہ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو دوسروں کے خلاف کارروائی میں ضائع کرتا رہے گا، جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ اپنی قوت اور اپنی صلاحیت کو مکمل طور پر صرف اپنی مثبت تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس دنیا میں آدمی کے پاس وقت بہت کم ہے۔
اس کے ساتھ اس کے وسائل بھی بہت محدود ہیں۔ ایسی حالت میں کوئی بھی شخص اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ دوسروں کو سبق سکھانے یا ان سے بدلہ لینے کے لیے ان کے پیچھے دوڑتا رہے۔ ایسی روش کی قیمت آدمی کو یہ دینی پڑتی ہے کہ اس کی اپنی تعمیر و ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 14۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.