Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Chata Nukta

Urdu · 4 min

چھٹا نکتہ: موجودہ دنیا میں کوئی آدمی اکیلا نہیں ہے؛ یہاں ہر آدمی کو دوسرے بہت سے لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنا ہوتا ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے سڑک کے اوپر ہر آدمی اپنی گاڑی کو دوسری بہت سی گاڑیوں کے ساتھ چلاتا ہے، ایسی حالت میں ردِعمل کی پالیسی کبھی مفید نہیں ہو سکتی۔ اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جو منفی حالات میں مثبت جواب دینا جانے۔ اس معاملے کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ سوامی وویکانند 1863-1902 کے ایک مسیحی دوست نے ان کو جانچنا چاہا۔

اس نے سوامی جی کو اپنے گھر پر بلایا، وہاں ملاقات کے کمرے میں ایک میز تھی۔ مسیحی دوست نے ہر مذہب کی مقدس کتابیں، ایک کے اوپر ایک، اس میز پر رکھ دیں۔ اس کی ترتیب یہ تھی کہ سب سے نیچے ہندوؤں کی مذہبی کتاب گیتا تھی، اور اس کے اوپر دوسرے مذہبوں کی مقدس کتابیں۔ سوامی جی جب اس کمرے میں پہنچے تو ان کے مسیحی دوست نے میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "سوامی جی، میز کے اوپر رکھی ہوئی کتابوں کو دیکھیے، اور اس کے اوپر تبصرہ کیجیے۔

" مسیحی دوست کا اندازہ تھا کہ سوامی جی یہ منظر دیکھ کر بگڑ جائیں گے کہ ان کے مذہب کی کتاب کو سب سے نیچے رکھ دیا گیا ہے، اور دوسرے مذہب کی کتابوں کو اس کے اوپر، کیونکہ اس میں بظاہر ان کے اپنے مذہب کی توہین ہے اور دوسرے مذہبوں کی تعظیم۔ مگر سوامی جی اس کو دیکھ کر غصہ نہیں ہوئے؛ انہوں نے اس معاملے کو ٹھنڈے طریقے سے لیا۔ اس بنا پر وہ اس قابل ہو گئے کہ وہ ایک منفی واقعے کا مثبت جواب دے سکیں۔ وہ کتابوں کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور کہا کہ "بنیاد تو بہت اچھی ہے، the foundation is really good." یہ واقعہ مزید اس بات کی مثال ہے کہ آدمی اگر غصہ نہ ہو اور اعتدال پر قائم رہے تو وہ اپنے 'نہیں' کو 'ہے' بنا سکتا ہے۔

وہ ایک غیر موافق واقعے کو ایک موافق واقعے میں تبدیل کر سکتا ہے۔ ان چند مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ سوچنے کے عمل کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہی کی سطح پر انسان کی ہر کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اعلیٰ زندگی نام ہے اعلیٰ سوچ کا۔

اگر آپ زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنے اندر صحیح سوچ پیدا کیجیے۔ صحیح سوچ ہی کا دوسرا نام صحیح عمل ہے، اور صحیح عمل کا دوسرا نام کامیابی۔ کتاب 'تعمیر حیات' مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 13۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.