Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Panchwan Nukta

Urdu · 2 min

پانچواں نکتہ: اس سلسلے میں ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ انگریز 19ویں صدی میں عراق میں داخل ہو چکے تھے، 1917 میں انہوں نے بغداد کو فتح کیا، اس کے بعد وہاں ایک انگریز کونسلر رہنے لگا۔ انگریز کونسلر جب شروع میں بغداد میں آیا تو صبح کے وقت اس کو محسوس ہوا کہ اس کی رہائش گاہ کے باہر عراقیوں کے شور کی آواز آ رہی ہے۔ انگریز کونسلر نے فوراً اپنے مقامی سیکریٹری کو بلایا، اس نے پوچھا کہ یہ کیسا شور ہے۔ سیکریٹری نے جواب دیا کہ یہ مسلمانوں کی صبح کی نماز کا وقت ہے، اور وہ مسجدوں میں اس کے لیے اذان دے رہے ہیں۔

کونسلر نے دوبارہ پوچھا کہ اس سے برٹش ایمپائر کو کوئی خطرہ تو نہیں۔ سیکریٹری نے جواب دیا کہ نہیں، اس میں خطرے کی کوئی بات نہیں۔ اس کے بعد کونسلر نے کہا کہ پھر وہ جو کر رہے ہیں انہیں کرنے دو، اختلافی معاملات میں یہ بہترین پالیسی ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کے لیے حقیقی خطرہ بن رہا ہو تو ضرور اس سے مقابلہ کیجیے، اور اس کو روکنے کی کوشش کیجیے۔

لیکن اگر وہ بات صرف الفاظ کی حد تک ہو تو، خواہ آپ کے جذبات کتنا ہی مجروح ہوتے ہوں، اس کو نظر انداز کیجیے۔ جذبات کو مجروح ہونا کوئی نقصان کا مسئلہ نہیں ہے۔ جذبات کا مجروح ہونا کوئی نقصان کا مسئلہ نہیں ہے، وہ صرف ایک خیالی بات ہے، اور خیالی بات پر عملی اقدام کرنا دانشمند آدمی کا کام نہیں۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 12۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.