Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Chautha Nukta

Urdu · 3 min

چوتھا نکتہ: 1947 سے پہلے کے ہندوستان کا واقعہ ہے۔ ایک گاؤں میں دو زمیندار رہتے تھے، ان میں سے ایک مذہبی تھا اور داڑھی رکھتا تھا، اور دوسرے کے چہرے پر داڑھی نہیں تھی۔ بے داڑھی والے زمیندار نے ایک بار داڑھی والے زمیندار کے یہاں شیرینی کا تحفہ بھیجا۔ داڑھی والے زمیندار نے اس کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ "میں داڑھی منڈوں کا تحفہ قبول نہیں کرتا"۔

بے داڑھی والا زمیندار اس کو برداشت نہ کر سکا۔ اس نے تحفے کی واپسی کو اپنی توہین سمجھا۔ اس کے اندر زبردست انتقام بھڑک اٹھا۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی۔

ایک دوسرے کا کھیت کاٹنا، ایک دوسرے کے آدمی کو قتل کرنا، ایک دوسرے کے خلاف مقدمے چلانا، ایک دوسرے کو بدنام کرنا، اس طرح کی منفی کارروائیاں 25 سال تک جاری رہیں۔ لڑائی کا یہ سلسلہ صرف اس وقت بند ہوا جب کہ دونوں کے گھر کے زیور تک بک گئے۔ دونوں میں یہ سکت ہی نہ رہی کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف مزید کوئی کارروائی کر سکیں۔ انسانی سماج میں زیادہ تر جھگڑے الفاظ سے شروع ہوتے ہیں۔

لوگ مخالفانہ الفاظ سن کر بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی سوچ انتقام کے رخ پر چل پڑتی ہے۔ اور اس کے بعد وہ تمام صورتیں پیش آتی ہیں جن کو آپس کی لڑائی کہا جاتا ہے۔ منفی عمل ہمیشہ منفی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔

اس کا حل یہ ہے کہ منفی حالات میں بھی مثبت سوچ کو قائم رکھا جائے۔ منفی کارروائی کا جواب بھی مثبت انداز میں دیا جائے۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جب بھی آپ کسی ناخوشگوار بات کو سنیں تو یہ سوچیں کہ کیا یہ محض الفاظ کا معاملہ ہے یا وہ حقیقی معنوں میں آپ کو کوئی نقصان پہنچانے والا ہے۔ اگر اس سے کسی حقیقی نقصان کا اندیشہ ہو تو اس کا تدارک کیجیے۔

ورنہ سادہ طور پر صرف یہ کیجیے کہ اس کو نظر انداز کر دیجیے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 11۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.