تیسرا نکتہ: انسانی سماج میں ہمیشہ باہمی جھگڑے جاری رہے ہیں۔ ان جھگڑوں کا وجود کوئی لازمی چیز نہیں؛ یہ خود سوچنے والے انسان کے اوپر ہے کہ وہ چاہے تو اپنے آپ کو جھگڑوں میں پھنسائے، اور چاہے تو اپنے آپ کو ان سے محفوظ رکھے۔ یہ معاملہ فرد کے لیے بھی ہے اور قوموں اور حکومتوں کے لیے بھی۔ مجھے ایک صاحب کا قصہ معلوم ہے، انہوں نے تجارت کی اور اس میں کافی کامیاب رہے۔
ان کا ایک رشتہ دار، جس نے انہی کے ساتھ تجارت شروع کی تھی، وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کو اس کامیاب تاجر سے حسد ہو گیا۔ ایک شخص نے مذکورہ کامیاب تاجر کو بتایا کہ آپ کا فلاں رشتہ دار آپ کے خلاف ایسا اور ایسا کہتا ہے۔ تاجر نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اس نے کئی بار اپنی بات کو دہرایا۔ آخر میں اس نے کہا کہ میں آپ کو بار بار بتا رہا ہوں کہ آپ کا فلاں رشتہ دار آپ کے خلاف بری بری باتیں پھیلا رہا ہے، مگر آپ اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیتے۔ مذکورہ تاجر نے نہایت اطمینان سے کہا، "یہ ان کا پرابلم ہے، میرا پرابلم تو نہیں۔ " مذکورہ تاجر نے اپنے حاسد رشتہ دار کی بات کو سنا اور ٹال دیا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کے درمیان مزید کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ بات لفظوں پر ختم ہو گئی۔ اس کے برعکس، اگر یہ تاجر مذکورہ رشتہ دار کی بات پر بھڑک اٹھتا تو دونوں کے درمیان ایسی لڑائی چھڑ جاتی جس میں دونوں کی تباہی یقینی تھی۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 10۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.