Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-Hayat
Tameer-e-Hayat

Dusra Nukta

Urdu · 5 min

دوسرا نکتہ: کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سوچنے والا حیوان ہے، یعنی thinking animal ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کی تمام کارروائیاں اس کی سوچ کے تابع ہوتی ہیں۔ آدمی پہلے سوچتا ہے، اس کے بعد وہ عمل کرتا ہے۔ سوچ اگر درست ہو تو عمل بھی درست ہوگا، اور اگر سوچ درست نہ ہو تو عمل بھی شروع سے آخر تک غلط ہو کر رہ جائے گا۔

صحیح سوچ سے صحیح آغاز ملتا ہے، اور صحیح آغاز صحیح نتیجے تک پہنچاتا ہے۔ سیب یا کوئی پھل جب اپنی شاخ سے ٹوٹتا ہے تو وہ ہمیشہ زمین پر گرتا ہے۔ یہ واقعہ ہزاروں سال سے ہو رہا تھا، مگر وہ لوگوں کو بس ایک عادی واقعہ نظر آتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس میں سوچنے کی کوئی بات نہیں، کیونکہ جو ہو رہا ہے وہی ہونا چاہیے۔

نیوٹن وفات 1643-1727، غالباً پہلا شخص تھا جس نے سیب کے پھل کو شاخ سے ٹوٹ کر نیچے گرتے ہوئے دیکھا، تو وہ سوچنے لگا کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس کے ذہن میں بظاہر ایک انوکھی بات آئی: سیب شاخ سے ٹوٹ کر اوپر کیوں نہیں گیا، وہ نیچے کیوں آیا۔ یہ سوچ بظاہر انوکھی تھی، مگر اس کے ذریعے نیوٹن اس حقیقت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا کہ زمین میں قوتِ کشش یعنی gravitational pull ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اوپر کی چیز ہمیشہ نیچے آتی ہے، نیچے کی چیز کبھی اوپر نہیں جاتی۔

اسی طرح ہزاروں سال سے انسان کو بظاہر یہ دکھائی دیتا تھا کہ زمین ایک مسطح میدان کی طرح چپٹی ہے۔ ظاہری مشاہدے میں یہ نظریہ درست معلوم ہوتا تھا، چنانچہ اس کو ایک مسلمہ کے طور پر مان لیا گیا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ایک گہری سوچ والا آدمی سمندر کے کنارے ساحل پر کھڑا ہوا تھا۔ دور سمندر افق سے ملتا ہوا نظر آتا تھا۔

اچانک اس نے دیکھا کہ سمندر کے دوسرے سرے پر ایک نشان برآمد ہوا۔ یہ ایک بحری جہاز کا مستول، یعنی mast، تھا۔ دھیرے دھیرے مستول اوپر اٹھتا گیا، یہاں تک کہ پورا جہاز سطحِ سمندر پر دکھائی دینے لگا۔ وہ آدمی سوچنے لگا کہ ایسا کیوں ہوا۔

زمین اگر چپٹی یعنی flat ہوتی تو جہاز دور سے بھی بیک وقت پورا دکھائی دیتا، اور قریب سے بھی پورا۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلے وہ دھندلا دکھائی دیتا اور بعد کو وہ صاف نظر آتا۔ مگر جب ایسا ہوا کہ جہاز پہلے تھوڑا سامنے آیا، اور اس کے بعد دھیرے دھیرے پورا جہاز دکھائی دیا، اس سے اس آدمی نے سمجھا کہ زمین میں خم یعنی curvature ہے، یعنی زمین تختے کے مانند نہیں ہے بلکہ گیند کے مانند ہے۔ چنانچہ زمین کے خم کے ساتھ جہاز اوپر اٹھتا رہا، یہاں تک کہ وہ پوری طرح سامنے آ گیا۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی میں سوچنے کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہی کے ذریعے تمام نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ سوچ ہی کے ذریعے منصوبہ بندی ممکن ہوتی ہے۔ سوچ ہی کے ذریعے ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

سوچ ہی کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی شخص ماضی اور حال پر غور کر کے مستقبل کے لیے زیادہ بہتر نقشہ بنا سکے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 9۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.