پہلا نکتہ: زندگی ایک آرٹ ہے، جو لوگ اس آرٹ کو جانیں، وہی اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ جو لوگ اس آرٹ سے بے خبر ہوں، ان کے لیے اس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔ اس آرٹ کو اگر ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو اس کو مثبت طرز فکر، یعنی positive thinking، کہا جا سکتا ہے۔ یعنی ردعمل کی نفسیات سے اوپر اٹھ کر کھلے انداز میں سوچنا، اور پھر غیر متاثر ذہن کے تحت رائے قائم کر کے اپنا منصوبہ بنانا۔
مثبت طرز فکر کے برعکس وہ طرز فکر ہے جس کو منفی طرز فکر، یعنی negative thinking، کہا جا سکتا ہے۔ مثبت طرز فکر اگر اپنی فکری صلاحیتوں کو عمل میں لانے کا نام ہے، تو منفی طرز فکر یہ ہے کہ آدمی کی اپنی فکری صلاحیت ارتقا نہ کر سکے، وہ صرف خارجی احوال کے زیرِ اثر سوچے اور اسی کے مطابق اپنی رائے بنائے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو زندگی کا سارا معاملہ صحیح سوچ یا غلط سوچ کا معاملہ ہے۔ صحیح سوچ کامیابی کا ذریعہ ہے، اور غلط سوچ ناکامی کا ذریعہ۔
یہی اصول افراد کے لیے ہے، اور یہی اصول قوموں کے لیے بھی۔ آدمی نے اگر اپنے ذہن کو بند نہ رکھا ہو تو صحیح فکر کو پانا کچھ بھی مشکل نہیں۔ آدمی کی خود اپنی فطرت اس کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ کائنات میں بکھری ہوئی نشانیاں اسی کا سبق دیتی ہیں۔
تاریخ کے تجربات ہی پیغام دے رہے ہیں۔ تمام علوم اس کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں صحیح طرز فکر سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو آنکھ رکھتے ہوئے نہ دیکھے، کان رکھتے ہوئے نہ سنے، جو عقل رکھتے ہوئے سمجھنے سے انکار کر دے۔ کتاب "تعمیر حیات" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 8۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.