Maulana Wahiduddin Khan
22 min left
0:00

← Tajdeed-e-Deen
Tajdeed-e-Deen

علم کلام

Urdu · 22 min

موجودہ علم کلام اسلام کے علمی ارتقاء میں زبردست رکاوٹ ثابت ہوا ہے۔ اسلامی علم کلام کی بنیاد حقائقِ فطرت پر ہے، مگر عباسی دور میں اسلامی علم کلام کو یونانی فلسفے پر ڈھال دیا گیا۔ یہی انحراف ہے جس نے علم کلام کو اس کی موجودہ شکل میں مفید عنصر کے بجائے مضر عنصر بنا دیا ہے۔ علم کلام اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اسلامی دعوت و تعلیم کی ایک معاون شاخ ہے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ مخاطب جس اسلوب میں مانوس ہے، اور جن اصطلاحوں میں بات کو سمجھنا چاہتا ہے، اسی اسلوب اور اسی اصطلاح میں اس کے سامنے خدا کے ابدی پیغام کو پہنچایا جائے۔ اس کی اسی اہمیت کی بنا پر امام غزالی 1059 تا 1111 نے علماء کے تعلیمی نصاب میں خالص دینی موضوعات کے ساتھ مددگار علم کے طور پر معقولات کا جوڑ لگایا تھا، تاکہ اسلامی درسگاہوں سے ایسے لوگ تیار ہوں جو ایک طرف دین کا بخوبی علم رکھتے ہوں، دوسری طرف وقت کے علمی معیار پر اسلام کی نمائندگی کر سکیں۔ مگر علم کلام، عین اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک زمانی علم ہے؛ وہ اسلام کی دائمی حقیقت کو زمانی اصطلاحوں میں بیان کرتا ہے۔ اس لیے اس کی اہمیت اس وقت خود بخود ختم ہو جاتی ہے جبکہ وہ زمانہ ختم ہو جائے جس کے اندر وہ وجود میں آیا تھا۔

مگر یہاں بھی اسی انسانی کمزوری نے کام کیا جس کے اثرات ہمیں دوسری چیزوں میں نظر آتے ہیں: وہ یہ کہ کوئی چیز جب ایک بار وجود میں آ جائے اور اس کے ساتھ کچھ قابلِ احترام شخصیتوں کے نام وابستہ ہو جائیں، تو دھیرے دھیرے وہ مقدس بننا شروع ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جبکہ اس میں ترمیم و اصلاح کی بات سوچنا بھی لوگوں کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ گناہ ہو۔ یہی حال اسلام کے اس کلامی لٹریچر کا ہوا جو عباسی دور میں پیدا ہوا تھا۔ یہ علم کلام اس وقت اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ جو علوم اسلام کے لیے چیلنج بن کر ظاہر ہوئے تھے، وہ خود اسلام کے خادم بن گئے۔ مگر زمانے کی تبدیلی نے اب ان کی اہمیت قطعی طور پر ختم کر دی ہے۔

آج معقولات کے نام سے جو چیز ہمارے دارالعلوموں میں پڑھائی جاتی ہے، اس کو نامعقولات کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ اس کی بنیاد ایسے عقلی قیاسات پر قائم ہے جو آج مشاہدہ اور تجربے کے ذریعے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ جو چیز محض ایک وقتی تدبیر کی حیثیت رکھتی تھی، اس کو بعد کے لوگوں نے دینی نصاب کا مستقل جز بنا لیا۔ اس طرح اگرچہ اسلام کا متن نہیں، مگر اسلام کا نظامِ تعلیم ٹھیک اسی غلطی کا شکار ہو گیا جس کا شکار عیسائیوں نے اپنی کتاب مقدس کو بنایا تھا۔

یہی وہ صورتحال ہے جس نے اسلام کے اس امکان کو بروئے کار آنے نہیں دیا کہ وہ موجودہ زمانے میں ایک برتر فکری قوت کی حیثیت سے ظاہر ہو سکے۔ ہمارے دینی مدارس نہایت اخلاص کے ساتھ ایسے انسان تیار کرنے میں مصروف ہیں جو صرف 500 برس پہلے کی دنیا میں کام کر سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ موجودہ بدلے ہوئے زمانے میں اسلام کا فکری اظہار نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے ذہن و مزاج کی وجہ سے صرف یہی کر سکتے ہیں کہ اسلام کی کمتر نمائندگی کر کے یہ ثابت کریں کہ اسلام دورِ سائنس سے قبل کی چیز ہے، وہ آج کے انسان کے لیے نہیں۔

موجودہ زمانے میں اٹھنے والی بعض تحریکوں نے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر وہ تحریکیں جنہوں نے اسلام کی تعلیمات کو سیاسی اصطلاحوں میں بیان کیا، ان تحریکوں سے وقتی فائدے بھی ہوئے، مگر بدقسمتی سے ان تحریکوں میں آغاز ہی سے خرابی شامل ہو گئی۔ یہ تحریکیں بااعتبارِ حقیقت متکلمانہ تحریکیں تھیں جو انیسویں صدی کے مغربی افکار کے ہنگامے میں اس لیے اٹھیں کہ اسلام کو لوگوں کے لیے قابلِ قبول بنائیں۔ مگر ان کے پرجوش داعیوں نے صرف اس پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ اسلام کو سیاسی زبان میں بیان کرتے، بلکہ انہوں نے تفسیر اور سیرت بھی اسی نہج پر مرتب کر ڈالی۔

حتیٰ کہ یہ اعلان بھی کر دیا کہ مختلف زمانوں میں جو انبیاء آئے، وہ اسی لیے آئے تھے کہ دنیا میں خدا کی سیاسی حکومت قائم کریں۔ اس طرح انہوں نے اپنے کلامی لٹریچر کو دین کی تشریح کا عنوان دے دیا۔ یہ نہ صرف دین میں ایک جسارت تھی، بلکہ اس کے ذریعے سے انہوں نے اپنے پیروؤں کو دوبارہ اسی جمود میں مبتلا کر دیا جس میں ہمارے قدیم دینی ادارے مبتلا چلے آ رہے تھے۔ انیسویں صدی کا سیاسی اندازِ فکر، جس میں یہ لٹریچر پیدا ہوا تھا، دوسری جنگِ عظیم کے ساتھ ختم ہو گیا۔

اب ضرورت تھی کہ نئے ذہنی تقاضوں کی روشنی میں دوسرا کلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔ مگر یہ گروہ آج بھی بے سود طور پر اسی سیاسی لٹریچر کی تلاوت میں مصروف ہے جس طرح عربی مدارس یونانی معقولات کے درس و تدریس میں۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے اس لٹریچر کو دین کی مطلق تشریح سمجھ رہا ہے، نہ کہ محض وقتی طور پر پیدا شدہ علم کلام۔ صلیبی جنگوں کے زمانے میں شام و مصر میں ہتھیار تیار کرنے کی جو بھٹیاں بنائی گئی تھیں، آج ان کا کہیں وجود نہیں ہے کیونکہ وقت گزرنے کے بعد ان کی اہمیت ختم ہو گئی۔

اسی طرح قدیم معقولات کو بھی اسلام کی علمی فہرست سے خارج ہو جانا چاہیے تھا۔ جو چیز وقتی ضرورت کے تحت آتی ہے، وہ وقت ختم ہونے کے بعد خود بخود چلی جاتی ہے۔ مگر قدیم معقولات سے ہم ابھی تک نجات حاصل نہ کر سکے۔ اس کی وجہ قدیم معقولات کا ہماری فنون کی کتابوں میں شامل ہو جانا ہے۔

جس زمانے میں یہ اجنبی علوم اسلام کے معاشرے میں داخل ہوئے، یہ وہی زمانہ تھا جبکہ اسلامی علوم کی تدوین ہو رہی تھی۔ قدیم منطقی انداز لوگوں کے لیے اتنا مذہور کن ثابت ہوا کہ انہوں نے سمجھا کہ اسلامی علوم کی تدوین کے لیے بھی یہی انداز سب سے زیادہ موزوں ہے۔ چنانچہ اسلامی فنون کی کتابیں قدیم منطقی انداز میں لکھی جانے لگیں۔ اس واقعے نے قدیم منطق کو اسلامی کتب خانے کا لازمی جز بنا دیا۔

کسی بھی عالم کو باآسانی اس رائے سے متفق کیا جا سکتا ہے کہ قدیم معقولات کو مدارسِ دینیہ کے نصاب سے خارج کر دیا جائے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ فوراً ہی یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ ہماری کتبِ فنون کو سمجھنے والے لوگ کیسے تیار ہو سکیں گے؟ قدیم معقولات کو دنیا سے مٹا دیا جائے تو قرآن و حدیث کو سمجھنے میں کسی کو زحمت نہ ہوگی۔ کیونکہ قرآن و حدیث کی ترتیب قدیم منطق کی اصطلاحات میں کی ہی نہیں گئی ہے۔

مگر علمِ عقائد اور اصولِ فقہ کی بنیادی کتابوں کو کوئی شخص بخوبی طور پر سمجھ نہیں سکتا جب تک قدیم منطقی اصطلاحات سے اس کو آگاہی نہ ہو۔ یونانی معقولات، جس کو اب خود یونان بھی چھوڑ چکا ہے، دین کے ساتھ جوڑنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ دین میں تدبر اور دینی مسائل کو بیان کرنے کا ایک ایسا نہج بن گیا جو رسول اللہ کی سنت اور صحابہ کرام کے انداز سے بالکل مختلف تھا۔ حنفیہ نے امام کے پیچھے فاتحہ کی قرأت کے ترک کا فتویٰ دیا ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی کے سامنے اس مسلک کے خلاف یہ حدیث پیش کی گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اصحاب سے کہا: "شاید تم لوگ امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے قرأت کرتے ہو۔

" انہوں نے کہا: "ہاں یا رسول اللہ۔ " آپ نے فرمایا: "لا تفعلوا إلا بأم القرآن" یعنی "نہ پڑھو سوا سورہ فاتحہ کے۔ " مولانا رشید احمد گنگوہی نے حنفی مسلک پر اس اعتراض کو رد کرتے ہوئے جواب دیا: "هذا دليل الإباحة لا دليل الوجوب" یعنی "نفحة العنبر" یہ اباحت کی دلیل ہے، نہ کہ وجوب کی دلیل۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے اس بات کی کہ بعد کے زمانے میں ہمارے یہاں مذہبی بحث و گفتگو کا جو انداز پیدا ہوا، وہ کس طرح اسلام کے ابتدائی سادہ اسلوب سے ہٹا ہوا تھا۔

چنانچہ وہی شخص آج عالم سمجھا جاتا ہے جو اس قسم کی فنی زبان اور منطقی اسلوب میں دینی مسائل کو بیان کر سکتا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی مباحث کا یہ انداز فنی حیثیت سے بظاہر بڑا وقیع معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ دین وہ نہیں جس کو عرب کے پیغمبر ہمارے لیے چھوڑ کر گئے تھے۔ آپ نے فخر کے ساتھ فرمایا تھا: "نحن أمة أمي" یعنی "ہم تو سیدھی سادی امت ہیں" یعنی "بعثت بالحنیفية السمہى" یعنی "میں سہل دین کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔

" مگر یہودیوں اور عیسائیوں کی اتباع میں ہم نے دین کو ایک پیچیدہ فن بنا ڈالا، جس طرح انہوں نے موسیٰ اور عیسیٰ کے دین کو فن بنا دیا تھا۔ اس فنی دین کا غیر دینی ہونا اسی سے واضح ہے کہ صحابہ کرام میں سے کوئی بزرگ اگر آج زندہ ہوں تو وہ ہمارے مدارسِ عربیہ میں سے کسی مدرسے میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز نہیں کیے جا سکتے۔ کیونکہ آج ان مدارس میں علمِ حدیث جس طرح پڑھایا جاتا ہے، وہ اس کے لیے بالکل ناموزوں ثابت ہوں گے، حتیٰ کہ نعوذ باللہ شاید خود اللہ کے رسول بھی۔ خالص علمی اعتبار سے بھی بحث کا یہ طریقہ موجودہ زمانے میں بے وزن ہو چکا ہے۔

قدیم منطق کی بنیاد ذہنی قیاس آرائیوں پر قائم تھی، مگر موجودہ زمانے میں منطق کی بنیاد سائنس ہے جو حقیقی حوالوں اور واقعاتی تجزیے سے کسی بات کو ثابت کرتی ہے۔ مگر مدارسِ دینیہ میں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، وہ چونکہ قدیم منطقی اسلوب پر لکھی گئی ہیں اور اساتذہ اپنے درسوں میں اسی اسلوب پر مسائل کی تشریح کرتے ہیں، اس لیے ان اداروں سے جو افراد تربیت پا کر نکلتے ہیں، وہ اپنے طرزِ فکر اور اندازِ استدلال کے اعتبار سے موجودہ زمانے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔ وہ منطقی اسلحے سے لیس ہونے کے باوجود آج کے انسان کو علمی اور منطقی طور پر اپنا دین سمجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ آج کی دنیا میں جب وہ داخل ہوتے ہیں تو وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں، یا جرات کر کے اسلام کے داعی بننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی اسلامی تشریحات آج کے علمی انسان کو یہ غلط تاثر دیتی ہیں کہ اسلام صرف قدیم دور کے انسان کو مطمئن کر سکتا تھا۔

آج کے انسان کے ذہنی اطمینان کے لیے اس کے پاس کچھ نہیں۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ "اللہ تدبیرِ امر کر رہا ہے اور تفصیلِ آیات بھی" یعنی "سورہ رعد آیت 2"۔ تدبیرِ امر سے مراد کائناتی انتظام ہے جس کے خارجی پہلوؤں کے علم کا نام سائنس ہے۔ تفصیلِ آیات سے مراد وحی ہے جس کا آخری اور مکمل متن قرآن کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔

علمِ کلام اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ الہامی علم اور کائناتی علم کی وحدت کو سمجھا جائے۔ نامعلوم کائنات کو معلوم کائنات کی مدد سے قابلِ فہم بنایا جائے۔ اس حیثیت سے دیکھیے تو اسلامی علمِ کلام کا کوئی قدیم و جدید نہیں۔ یہ متکلمینِ اسلام کی غلطی تھی جس نے علمِ کلام میں قدیم و جدید کی تقسیم پیدا کی۔

علمِ کلام حقیقتاً قرآنی عقلیات کو مرتب کرنے کا نام تھا۔ مگر عباسی دور کے متکلمین نے اس کو انسان کی وضع کردہ فلسفیانہ عقلیات پر ڈھالنے کے ہم معنیٰ سمجھ لیا۔ یہی وہ غلطی ہے جس نے علمِ کلام میں قدیم و جدید کے تصورات پیدا کیے۔ کیونکہ فلسفیانہ عقلیات قیاسی ہونے کی وجہ سے تغیر پذیر تھیں، جبکہ قرآنی یا کائناتی عقلیات میں تغیر و تبدل کا کوئی سوال نہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کا طریقِ استدلال تمام تر کائناتی ہے۔ وہ محسوس واقعات کے ذریعے غیر محسوس حقائق پر استدلال کرتا ہے۔ قرآنی علمِ کلام کی بنیاد زمین و آسمان کے ان قوانین پر ہے جو اٹل ہیں، جن میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اس لیے قرآنی علمِ کلام بھی اٹل ہے۔

اس میں تبدیلی کا کوئی سوال نہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآنی علمِ کلام بھی قرآنی اعتقادیات کی طرح غیر تغیر پذیر ہے۔ مگر جب علمِ کلام کو انسان کے پیدا کردہ علوم کی بنیاد پر مرتب کیا گیا تو فی الفور علمِ کلام میں قدیم و جدید کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ کیونکہ یہ علوم تمام تر قیاس کی بنیاد پر تھے، وہ کبھی یکساں نہیں رہ سکتے۔

بیسویں صدی کے نصف آخر میں، اگر کلی طور پر نہیں تو ایک خاص حد تک، ہم اس پوزیشن میں ہو گئے ہیں کہ علمِ کلام کو اس کی قطعی اور افاقی شکل میں مرتب کر سکیں۔ قدیم زمانے میں عالمِ افلاک اور علمِ افلاک دونوں الگ الگ چیزیں تھیں۔ عالمِ افلاک حقائق پر مبنی تھا اور علمِ افلاک قیاسات پر۔ آج یہ دونوں چیزیں ایک ہوتی جا رہی ہیں۔

یہی معاملہ قرآن کا ہے۔ قدیم زمانے میں قرآن اور علمِ کلام دونوں الگ الگ تھے۔ قرآن آیاتِ محکمات پر مبنی تھا اور علمِ کلام فلاسفہ کے قیاسات پر۔ آج علمِ انسانی کے ارتقاء نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ قرآن اور علمِ کلام دونوں کو ایک کیا جا سکے۔

اگر کوئی چیز ہے جس کو علمِ کلامِ جدید کہا جائے تو وہ یہی علمِ کلام ہے جس کو مرتب کیا جانا چاہیے، اگرچہ وہ ابھی تک مرتب نہیں کیا گیا ہے۔ یہاں میں مختصر طور پر چند کاموں کا ذکر کروں گا جو علمِ کلام کی جدید ترتیب و تدوین کے سلسلے میں ہم کو انجام دینا ہے۔ نمبر ایک: سب سے پہلا کام قرآن کی بنیاد پر ایک نظریۂ علم کو مرتب کرنا ہے، یعنی طریقِ استدلال کا علم۔ قدیم زمانے میں قیاسی مفروضات و مسلمات پر استدلال کیا جاتا تھا۔

تحقیق و تجربے کے جدید طریقوں کے ظہور میں آنے کے ابتدائی زمانے میں مشاہداتی استدلال پر زور دیا گیا۔ مگر آئن سٹائن کے بعد علمِ انسانی کا جو دور شروع ہوا ہے، اس میں زیادہ سے زیادہ یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ حقیقت اپنی آخری صورت میں انسان کے لیے ناقابلِ مشاہدہ ہے۔ اب یہ بات تقریباً مان لی گئی ہے کہ انسان کی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے مشاہداتی استدلال اس کے لیے ممکن نہیں۔ ہم صرف اس پوزیشن میں ہیں کہ استنباطی استدلال قائم کر سکیں۔

ہم حقائق کو دیکھ نہیں سکتے۔ ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ ظاہر... ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ ظاہرِ اشیاء پر غور کر کے یہ مستنبط کریں کہ یہاں فلاں چیز پائی جانی چاہیے۔ اب موجودہ زمانے میں ایک نیا نظریۂ علم وجود میں آیا ہے جو حیرت انگیز طور پر قرآنی نظریۂ علم کے عین مطابق ہے۔

قرآن میں کہا گیا تھا کہ انسان کو علمِ قلیل یعنی سورہ بنی اسرائیل آیت 85 دیا گیا ہے۔ اس لیے اس کو بالواسطہ علم پر قناعت کرنا چاہیے، نہ کہ وہ براہِ راست علم کے لیے اصرار کرنے لگے۔ اس طرح وحی اور علمِ انسانی دونوں ایک نقطے پر پہنچ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید نظریۂ علم نے قرآنی طرزِ استدلال کو جدید اصطلاح میں عین سائنٹیفک استدلال کا درجہ دے دیا ہے۔

موجودہ زمانے میں علمِ کلام کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ وہ اس اہم ترین دریافت کو مدون کرے۔ نمبر دو: دوسرا کام قرآنی علم الاثار کی تدوین ہے۔ قرآن میں پچھلے انبیاء اور گزری ہوئی تہذیبوں کا ذکر ہے۔ یہ قرآن کا وہ حصہ ہے جس کو ایام اللہ یعنی سورہ ابراہیم آیت 5 کہا گیا ہے۔

تاریخِ انسانی کے یہ واقعات قرآن کے نقطۂ نظر سے بے حد اہم ہیں۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ وہ ہر دور میں اپنا نمائندہ بھیجتا ہے اور اپنے اٹل قوانین کی بنیاد پر قوموں کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ اگرچہ تاریخ کا مضمون ہے، مگر قرآن میں اس کا ذکر معروف تاریخی انداز میں نہیں ہے، بلکہ دعوتی اور اجمالی انداز میں ہے۔

ان واقعات کے بارے میں قرآن سے باہر جو ریکارڈ ہے، وہ قدیم زمانے میں بڑی حد تک لامعلوم تھا۔ اس لیے قدیم زمانے میں قرآن کے ان اجزاء کی تدوین خالص تاریخی انداز میں ممکن نہ تھی۔ اب ان واقعات سے متعلق بے شمار دبے ہوئے ریکارڈ دریافت ہو گئے ہیں۔ اس طرح اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ایام اللہ کے بارے میں قرآنی حوالوں کو منضبط کیا جائے، قرآن کی دعوت کو تاریخ کی زبان میں مدون کر دیا جائے۔

نمبر تین: تیسرا کام آیاتِ افاق یعنی سورہ حامم السجدہ آیت 53 کو جدید دریافتوں کی مدد سے ترتیب دینا ہے۔ قرآن کے مطابق کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو اپنے خالق کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور اس حکمت کو بتاتی ہیں جس کے تحت یہ کارخانہ بنایا گیا ہے۔ قرآن میں بار بار ان نشانیوں کے حوالے دیے گئے ہیں اور ان سے قرآن کی دعوت کو مدلل کیا گیا ہے۔ تاہم یہ حوالے اشاراتی زبان میں ہیں۔

قدیم زمانے میں ایسی معلومات حاصل نہ تھیں جن سے ان اشارات کو تفصیلی انداز میں سمجھا جا سکے۔ اب سائنس کے ارتقاء نے یہ مواد بڑی حد تک جمع کر دیا ہے۔ شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہو کہ سائنس موجودہ زمانے میں اسلام کی تھیالوجی بن چکی ہے۔ تاہم اس کو مدون کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔

ضرورت ہے کہ خدا کی یہ نشانیاں جو طبیعی دنیا میں چھپی ہوئی ہیں، جو طبیعی دنیا میں چھپی ہوئی ہیں، ضرورت ہے کہ خدا کی یہ نشانیاں جو طبیعی دنیا میں چھپی ہوئی ہیں، جدید دریافتوں کی مدد سے ان کو مفصل شکل میں مرتب کیا جائے۔ نمبر چار: قرآن کے استدلالی حصے کا ایک پہلو وہ ہے جس کو آیاتِ انفس یعنی سورہ حامم السجدہ آیت 53 کہا گیا ہے، یعنی نفسیاتِ انسانی کے اندر خدا کی نشانیاں۔ یہ جز بھی قدیم زمانے میں بڑی حد تک مخفی تھا۔ صوفیاء نے اس پہلو سے بہت کچھ لکھا ہے، مگر وہ علمی حقائق سے زیادہ قیاسات پر مبنی ہے۔

اور اس کا بڑا حصہ موجودہ زمانے میں بے قیمت ہو چکا ہے۔ تاہم علم النفس کی تحقیقات نے موجودہ زمانے میں بہت سی ایسی معلومات فراہم کر دی ہیں جن کی روشنی میں قرآن کے اشارات کو، اگر پوری طرح نہیں تو بڑی حد تک، مفصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام اگر علمی سطح پر ہو جائے تو وہ قرآنی نظریات کے حق میں ایک عظیم نفسیاتی تصدیق ثابت ہوگا۔ نمبر پانچ: آخر میں میں ایک ایسے علمی کام کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو رواجاً علمِ کلام میں شمار نہیں کیا جاتا، حالانکہ مقاصد کے اعتبار سے اس کو علمِ کلام کا سب سے اہم جز ہونا چاہیے۔

یہ ہے سائنٹیفک انداز میں اسلام پر تعارفی لٹریچر تیار کرنا۔ موجودہ زمانے میں اسلام پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں، مگر تقریباً تمام کتابوں پر کسی نہ کسی طرح کلامی انداز غالب رہا ہے۔ تفسیر، سیرت، عام اسلامی لٹریچر کا جو ذخیرہ موجودہ زمانے میں تیار ہوا ہے، تقریباً سب کا سب علمِ کلام کے خانے میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ان کتابوں کی علمی قدر و قیمت کیا ہے، خود یہ بات عصری تقاضے کے خلاف ہے کہ تفسیر اور سیرت کو علمِ کلام بنا دیا جائے۔

موجودہ زمانہ آزادیِ فکر کا زمانہ ہے۔ آج کا انسان یہ چاہتا ہے کہ اصل بات کسی تعبیری یا کلامی اضافے کے بغیر اس کے سامنے رکھ دی جائے، اور جانچنے پرکھنے کا معاملہ خود قاری کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ کتابوں کے ہجوم کے باوجود ساری دنیا میں نئی اسلامی کتابوں کی مانگ ہے۔ آج کا انسان اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے، مگر ایسی کتابوں کے ذریعے جن میں اسلام کو اس اسلوب میں پیش کیا گیا ہو جس کو موجودہ زمانے میں سائنٹیفک اسلوب کہا جاتا ہے۔

آج کا انسان عقلیاتی اسلوب سے زیادہ سائنٹیفک اسلوب کا دل دادا ہے، مگر بدقسمتی سے کسی بھی اسلامی زبان میں اب تک سائنٹیفک اسلوب رواج نہ پا سکا۔ سائنٹیفک اسلوب سے مراد معروف کلامی اسلوب نہیں ہے، بلکہ ایسا سادہ اور مثبت اسلوب ہے جس میں زبان و بیان دونوں اعتبار سے حقیقت نگاری کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔ موجودہ زمانے میں ہمارے لکھنے والوں نے بے شمار کتابیں اسلام پر لکھی ہیں، مگر میرے علم کی حد تک کسی بھی زبان میں کوئی ایسا تعارفی سیٹ تیار نہیں ہوا ہے جس میں سادہ، مثبت اور حقیقت پسندانہ انداز میں اسلام کی تعلیمات اور پیغمبرِ اسلام کی سیرت کو مرتب کیا گیا ہو۔ حالانکہ آج سب سے زیادہ ضرورت اسی قسم کی کتابوں کی ہے۔

میں یہ کہنے کی جرات کروں گا کہ اگر ہم کچھ اور نہ کریں، صرف اتنا کریں کہ تعلیماتِ قرآن، سیرت، حدیث، حالاتِ صحابہ اور تاریخِ اسلام، نہ کہ تاریخِ فتوحات، پر خالص علمی اسلوب اور حقیقت نگاری کی زبان میں کتابوں کا ایک سیٹ تیار کر دیں اور اس کو تمام زبانوں میں چھاپ دیں، تو ہم علمِ کلام کے مقصد کو کم از کم آج کی دنیا میں زیادہ بہتر طور پر حاصل کر سکیں گے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.