← Tajdeed-e-DeenTajdeed-e-Deen
وصفی زبان
Urdu · 18 min
تصوف کا ابتدائی محرک یہ تھا کہ فقہِ ظاہر کی طرح ایک فقہِ باطن بنائی جائے اور اس کے قواعد وضع کیے جائیں، مگر یہ ایک کیفی حقیقت کو وصفی زبان، یعنی ڈسکرپٹیو لینگویج، میں بیان کرنا تھا۔ فنی اصطلاحات کی زبان کسی شے کے صرف خارجی پہلوؤں کا احاطہ کر سکتی ہے، اس لیے بندے اور خدا کے درمیان تعلق جیسے معاملے کو فن کا موضوع بنانا دین میں ایک قسم کے عملِ تفریق کو جگہ دینا تھا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے کیفیتِ محبت کے بیان کے لیے ریاضیاتی زبان کو استعمال کیا جائے؛ اس کوشش نے عبادتِ الہی کے کیفی پہلو کو اس کے خارجی مظاہر سے الگ کر دیا۔ ذکر نے ورد کی صورت اختیار کر لی، اور کثرتِ ذکر کے معنی یہ ہو گئے کہ کچھ مخصوص الفاظ کو تسبیح کے دانوں پر بتکرار دہرایا جاتا رہے۔
اسی طرح تدبرِ قرآن: سورہ محمد، آیت 24، تلاوتِ قرآن بن گیا، کیونکہ متصوفانہ ذوق کے مطابق مقداری پیمانے میں ناپنے کی چیز تلاوت ہے، نہ کہ تدبر و تفکر۔ یہی وجہ ہے کہ متصوفانہ اذکار کی طویل فہرست میں ہم "اللہ" اور "لا الہ الا اللہ" جیسے الفاظ کا ذکر تو پاتے ہیں، مگر دوسری بہت سی چیزیں جن کے ذکر کو دین میں بے حد اہمیت دی گئی ہے، اس فہرست میں درج نہیں۔ مثلاً آخرت: سورہ مدثر، آیت 55؛ نعمتِ الہی: سورہ مائدہ، آیت 20؛ اعلیٰ رب: سورہ اعراف، آیت 69؛ موت: اکثرو ذکر ہادم اللذات وغیرہ۔ کیونکہ اللہ اللہ کا ورد تو کیا جا سکتا ہے، مگر آخرت آخرت، نعمت نعمت، اعلیٰ اعلیٰ، موت موت کا ورد ایک بے معنی بات ہے۔
جب تعلق مع اللہ ایک خارجی طور پر قابلِ بیان چیز بن گیا تو اس کے بعد بالکل فطری طور پر یہ ہوا کہ اس کے حصول کے خارجی طریقے وضع ہونے شروع ہو گئے؛ محض قیاس کی بنیاد پر یہ فرض کر لیا گیا کہ انسان کے بدن میں 6 مقامات ہیں جہاں انوار و برکات بھرے ہوتے ہیں۔ ان کو لطائفِ ستہ کا نام دیا گیا: اول لطیفِ قلبی، جس کی جگہ بائیں پستان کے نیچے ہے؛ دوسرا لطیفِ روحی، جس کا مقام دائیں پستان کے اوپر ہے؛ تیسرا لطیفِ نفس، جس کا مقام ناف کے نیچے ہے؛ چوتھا لطیفِ سری، جس کا مقام سینے کے درمیان ہے؛ پانچواں لطیفِ خفی، جس کا مقام ابرو کے اوپر ہے؛ چھٹا لطیفِ اخفیٰ، جس کا مقام ام الدماغ ہے۔ اس مفروضے کی بنا پر عجیب عجیب قسم کے اشغال، ضربات، اور مراقبے وضع کیے گئے، جن کا مقصد یہ تھا کہ ان مقاماتِ انوار پر زور ڈال کر ان کو جاری کیا جائے تاکہ سارا جسم اللہ اللہ پکارنے لگے۔ مثال کے طور پر ایک طریقہ یہ ہے کہ دونوں آنکھیں اور دونوں لب بند کر کے سانس کو ناف کے نیچے سے نکال کر قلب میں حبس کریں، اور "لا" کو تصور میں ناف سے اٹھا کر گلے تک پہنچا کر "الہ" کو گلے سے لطیفِ روحی کے مقام تک لا کر "الا اللہ" کی ضرب خوب زور سے اس طرح دل پر لگائیں کہ ضرب کا اثر تمام لطیفوں تک پہنچ جائے۔
اس طرح کی بے شمار چیزیں حیرت انگیز جسارت کے ساتھ وضع کی گئیں، اور ان کو دین کے عبادتی نظام میں معاون ذریعے کی حیثیت سے داخل کر دیا گیا۔ تاہم معاون ذریعے کا لفظ بھی محض رعایتی تھا، کیونکہ بعض ظاہری کرشموں کی وجہ سے عام طور پر یہ ذہن بن گیا کہ معروف دینی طریقوں کے مقابلے میں یہ طریقے حصولِ مقصد کے لیے زیادہ مفید ہیں۔ ایک مشہور بزرگ فرماتے ہیں کہ خدا تک پہنچنے کے تین طریقے ہیں، جن میں سے ایک طریقہ صوم و صلوۃ اور تلاوتِ قرآن وغیرہ کا ہے، مگر "روندگانِ ای راہ روندگانِ ای راہ در زمانِ طویل بمقصود رسند" اس راہ کے چلنے والے بہت لمبی مدت میں اپنی منزلِ مقصود کو پہنچتے ہیں۔ تصوف کے طریقے کی حمایت کرتے ہوئے ایک اور بزرگ لکھتے ہیں: إنها خيرُ طريقٍ وأسرعُها للبلوغِ إلى غايةِ تزكيةِ النفسِ وتربيةِها بين التصوفِ والحياة.
دمشق، 1963۔ 33۔ نفس کی تربیت و تزکیے کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے یہ زیادہ بہتر اور تیز تر طریقہ ہے۔ ہمارے بزرگوں کو یہ غلط فہمی صرف اس لیے ہوئی کہ انہوں نے کیفیتِ نفسی اور کیفیتِ عادی میں فرق نہیں کیا۔
رگِ کیماس کو دبانا اور اعوجاجِ عنق اور پاسِ انفاس جیسے عملیاتی طریقوں کی مدد سے کچھ مخصوص الفاظ یا آوازوں کو خاص طرح سے ادا کرنے کی مشق کرنا، یہ نتیجہ دکھا سکتا ہے کہ وہ الفاظ یا آوازیں انسان کے طبعی وظائف میں غیر شعوری طور پر شامل ہو جائیں۔ مگر اس لفظی ورزش کا اسلام سے کیا تعلق؟ اس قسم کی کوئی مشق کسی کے اندر یہ طبیعت پیدا کر دے کہ وہ اپنے دل کی دھڑکنوں یا سانس کے آنے جانے میں اللہ اللہ کی آواز سننے لگے، تو یہ کسی بھی درجے میں وہ چیز نہیں ہے جس کو قرآن میں ذکر کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک واہمہ ہے۔
قلب اور تنفس تو درکنار، کسی مشین کی کھٹکھٹ کی آوازیں قلب اور تنفس تو درکنار، کسی مشین کی کھٹکھٹ کی آواز میں آواز ملا کر اگر آپ "حق حق" کہنے لگیں تو کچھ دیر کی مشق کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوگا گویا مشین سے کھٹکھٹ کی نہیں، حق حق کی آواز آ رہی ہے۔ مگر شدید ترین غلط فہمی ہوگی کہ اس قسم کے واہمے کو ذکر سمجھ لیا جائے۔ ذکر تو ایک اعلیٰ ترین نفسیاتی کیفیت ہے جو آدمی کے شعور کا، نہ کہ عادت کا، حصہ بن کر اس کے پورے وجود میں شامل ہو جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کسی بچھڑے بچھڑے ہوئے محبوب کی یاد کسی کی ہستی میں سما جائے اور اس کو دائمی طور پر بے چین کر دے۔
دین میں اس اضافے کا لازمی نتیجہ ایک اور شدید تر بدعت کا وجود میں آنا تھا، اور وہ ہے مرشدِ کامل کا عقیدہ۔ جب اللہ سے تعلق قائم کرنے کے طریقے صرف وہ نہ رہے جو قرآن و سنت میں درج ہیں، بلکہ ایسے طریقے نسبتاً زیادہ زود اثر دریافت ہو گئے جو کچھ خاص لوگوں ہی کو معلوم تھے۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ شغلِ بساط بلاواسطہ طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خواجہ معین الدین چشتی کو ملا تھا، جس کے ذریعے انہیں معراجِ باطنی حاصل ہوئی۔ تو دین نے بالکل فطری طور پر علمِ سینہ کے بجائے علمِ علمِ سفینہ کے بجائے علمِ سینہ کی حیثیت اختیار کر لی۔
اب ایسے لوگوں سے نسبت حاصل کرنا ضروری ہو گیا جو پراسرار طور پر روحانی علوم کے مالک تھے اور اپنے مریدوں کو اس کی نسبتِ خاص منتقل کر سکتے تھے۔ اسی کے ساتھ خود شیوخ کو بھی یہ ضرورت تھی کہ وہ اپنے اندر ایسی تسخیری قوت پیدا کریں جس کے ذریعے وہ عالمِ خیال میں اپنے قلب سے مرید کے قلب پر ضرب لگا سکیں اور اس کے دل کو انوار و برکات سے بھر دیں۔ یہ قوت محض نماز و روزے کے ذریعے نہیں آ سکتی تھی۔ یہ تقاضا انہیں زیادہ سے زیادہ عملیات کی طرف لے گیا۔
اب ایسے بزرگ پیدا ہونے لگے جو اس قسم کا کرشمہ دکھا سکتے تھے کہ ایک نظر سے آدمی کو تڑپا دیں اور ایک توجہ سے قلوب کو بدل ڈالیں۔ اس طرح عیسائی رہبانوں اور ہندو جوگیوں کا فنِ تسخیر اسلامی لباس اختیار کر کے دینِ محمدی میں داخل ہو گیا۔ یہاں پہنچ کر کہنوت یعنی گروڈم پوری طرح اسلام میں داخل ہو گیا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میری امت میں کہنوت کا کوئی وجود نہیں۔ قرآن میں اس کو خدا کے سوا اس کے بندوں کو رب بنانا قرار دیا گیا تھا۔
شیوخ کے تصوف کے بارے میں نہایت مبالغہ آمیز تصورات پیش کیے جانے لگے، مثلاً "الشیخ فی قومہ کنبی فی امتہ" شیخ اپنی قوم میں ایسا ہی ہے جیسے نبی اپنی امت میں۔ اور "من اراد ان یجلس مع اللہ فلیجلس مع اہل التصوف" جو اللہ کے پاس بیٹھنا چاہتا ہے وہ صوفیاء کے پاس بیٹھے۔ شیوخ کے شعبدوں اور کرامات کی داستانیں اتنی کثرت سے پھیلائی گئیں کہ وہ زبان و ادب کا جز بن گئیں۔ بالکل بے اصل قسم کی موضوع کا بالکل بے اصل قسم کی موضوع کہانیوں کو لوگ اس طرح دہرانے اور یقین کرنے لگے گویا یہ بالکل واقعہ ہیں۔
بزرگوں کی مجالس و مباحث کا بڑا حصہ اسی قسم کی محیر العقول داستانوں پر مشتمل رہنے لگا، حتیٰ کہ وہ یہ بھی بھول گئے کہ اس قسم کی کہانیاں بیان کر کے غیر شعوری طور پر وہ لوگوں کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہمارے بزرگ صحابہ کرام سے بھی زیادہ بلند مرتبے لوگ تھے۔ کیونکہ صحابہ میں سے کسی کے بارے میں اس قسم کے چمتکار ثابت نہیں۔ صحابہ کے بعض خارقِ عادت واقعات جو صحیح روایات میں آتے ہیں، وہ ہرگز کرامت کے واقعات نہیں ہیں۔ ان کی حیثیت اہلِ ایمان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی نصرت کی ہے۔
کرامت بطور ایک شخصی صفت کے قطعاً ایک غیر اسلامی تصور ہے۔ اسلام میں جو چیز ثابت ہے وہ صرف دعا اور اس کی مقبولیت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی نصرت ہے۔ یہ نصرت بلاشبہ صحابہ کرام کو حاصل ہوئی اور آج بھی مسلمانوں کو حاصل ہو سکتی ہے، بشرطیکہ وہ صحابہ والے کام کو لے کر اٹھیں۔ صحابہ کی کرامتوں اور موجودہ زمانے کے بزرگوں کی کرامتوں کا فرق اسی سے واضح ہے کہ صحابہ کی کرامتوں نے عرب و عجم سے باطل کا استحصال کر دیا تھا، جبکہ ہمارے بزرگوں کا حال یہ ہے کہ کرامات کی مفروضہ دنیا میں تو جن و انس، نباتات و حیوانات سب کو وہ مسخر کیے ہوئے نظر آتے ہیں۔
مگر حقیقت کی دنیا میں ان کی بے بسی کا یہ حال ہے کہ ان کے چاروں طرف باطل طاقتیں اسلام اور ملتِ اسلام کو روند رہی ہیں، اور وہ ان کے دفعیہ کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ بزرگ پرستی، دوسرے لفظوں میں بزرگی کی گدی وجود میں آنے کا فتنہ یہیں نہیں رکا۔ کرامات اور شعبدوں کی فرضی داستانیں، جو تمام مجالسِ تصوف کا سب سے نمایاں جز ہوتی ہیں، انہوں نے لوگوں کے ذہن کو اس قدر توہماتی بنا دیا کہ اب وہ اپنے بزرگوں کو عام انسانوں سے الگ ایک مستقل طبقہ فرض کرنے لگے۔ جس طرح انبیاء و ملائکہ عام انسانوں سے الگ ایک طبقہ ہوتے ہیں، ان کو خدا کا مختار و مصطفیٰ فرض کر لیا گیا، اور ان کی طرف ایسے ایسے فضائل منسوب کرنے لگے جو مضحکہ خیز حد تک بے معنی تھے۔
اسی میں سے اولیاء اللہ کا مروجہ تصور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اولیاء اللہ کی دو قسمیں ہیں: ایک اہلِ ارشاد، دوسرے اہلِ تکوین۔ اول الذکر خدا کے وہ چنے ہوئے لوگ ہیں جن کے سپرد مخلوق کی ہدایت، قلوب کی اصلاح و تربیت، اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے طریقوں کی تعلیم ہوتی ہے۔ ان اولیاء میں جو اپنے زمانے میں سب سے افضل ہو، وہ قطب الارشاد کہلاتا ہے۔
ثانی الذکر سے مراد وہ اولیاء اللہ ہیں جن کے سپرد مخلوق کی معاش کی اصلاح، دنیا کا انتظام، اور مصائب کا دفع کرنا ہوتا ہے۔ یہ خدا کے اذن کے تحت اپنی باطنی قوت سے ان امور کی درستی کرتے رہتے ہیں۔ ان میں جو سب سے اعلیٰ اور دوسروں کے اوپر حاکم ہوتا ہے، اس کو قطب التکوین کہتے ہیں۔ گویا اہلِ ارشاد انبیاء کے مماثل ہیں، اور اہلِ تکوین فرشتوں کے مماثل، جن کو مدبرات الامر کہا گیا ہے۔
حیرت انگیز بات ہے کہ اتنا بڑا عقیدہ بے شمار لوگوں نے نہایت اخلاص کے ساتھ قبول کر لیا، حالانکہ قرآن و حدیث میں اس کے لیے قطعاً کوئی سند موجود نہ تھی۔ تصوف کے ابتدائی موجدین خواہ کتنے ہی نیک نیت ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ تصوف اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ٹھیک وہی چیز تھی جس کو قرآن میں ابتداء سورہ حدید آیت 27 کہا گیا ہے۔ کچھ بزرگوں نے سادہ طور پر یہ سوچا کہ دین کی اصل حقیقت تعلق باللہ کو لوگوں کے اندر پیدا کرنے کے لیے کچھ ایسے اضافی طریقے وضع کریں جن کو اسلام کی منصوص عبادتوں کے ساتھ بطور معاون تدبیر کے استعمال کیا جا سکتا ہو۔ مگر وہ بھول گئے کہ ایسا کر کے وہ خدا پرستی کے بجائے انسان پرستی کو اسلام میں داخل کر رہے ہیں۔
جب اللہ سے تعلق پیدا کرنے اور اس سے تقرب ڈھونڈنے کا علم ایک ایسا علم بن جائے جس کو قرآن، جس کو صرف قرآن و سنت سے معلوم نہ کیا جا سکتا ہو، تو لازماً ایسا ہوگا کہ وہ لوگ مرشد اور مرجع قرار پا جائیں جن کے متعلق یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ نفوسِ مزکات ہیں اور سینہ بسینہ اس پراسرار علم کے وارث بنتے چلے آ رہے ہیں۔ مزید یہ کہ اس تدبیر کو اختیار کر کے ہمارے یہ بزرگ خدا کی ممنوعہ چراگاہ میں داخل ہو گئے، کیونکہ عبادتی امور میں کسی بھی قسم کا اضافہ مطلق طور پر ناجائز ہے۔ اسلام کی بعد کی تاریخ میں انحراف کی جو صورتیں پیدا ہوئیں، ان میں دو چیزیں نہایت عجیب تھیں: ایک، معاملات کے باب میں اجتہاد کا دروازہ بند کرنا؛ دوسرے، عبادات کے باب میں اجتہاد کا دروازہ کھولنا۔ حالانکہ شریعت کے حقیقی منشا کے اعتبار سے معاملہ اس کے برعکس تھا۔
معاملات کے بارے میں صحیح طور پر اجازت دی گئی تھی کہ نئے پیش آمدہ امور پر اسلام کی اصولی تعلیمات کی روشنی میں غور کر کے حکم لگایا جائے۔ ابتدائی دور کے فقہاء نے اسی پر عمل کرتے ہوئے اجتہادات کیے تھے، مگر بعد کے لوگوں کے لیے یہ کہہ دیا گیا کہ "إن الأوائل لم يتركوا للأواخر شيئًا" پچھلے لوگوں نے بعد والوں کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ حالانکہ یہ دین میں حیرت انگیز حد تک ایک اندوہناک جسارت ہے۔ جب خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کے باوجود دوسری صدی ہجری کے ائمہ فقہ کے لیے یہ گنجائش تھی، جب خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کے باوجود دوسری صدی ہجری کے ائمہ فقہ کے لیے یہ گنجائش تھی کہ وہ اجتہاد کریں، تو کیا ان ائمہ کے فتاویٰ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت سے بھی زیادہ جامعیت کے حامل ہیں کہ ان کے بعد خواہ حالات کتنے ہی بدل جائیں، کسی کو اجتہاد کی ضرورت نہ ہوگی؟
وہ لوگ جنہوں نے براہ راست پیغمبر کی صحبت سے اسلام سیکھا تھا، ان کے لیے یہ بات انتہائی طور پر اجنبی تھی کہ دین میں بزرگی کا ایک مستقل ادارہ وجود میں آ جائے۔ لوگ دینی پیشوائی کی گدیوں پر اسی طرح بیٹھنا شروع کر دیں جس طرح بادشاہی نظام میں ایک کے بعد دوسرا تخت نشین ہوتا ہے۔ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کے سوا کسی چیز کو نہیں جانتے تھے جس سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ وہ عمر فاروق پر بھی اسی طرح تنقید کرتے تھے جیسے کسی عام انسان کے اوپر۔
ان کی بات کو جب وہ مانتے تھے تو شخصی عقیدت مندی کے تحت نہیں، بلکہ اس وقت جب کہ انہوں نے اپنی بات کی صداقت ثابت کر دی ہو۔ قاضی شریح کے سامنے جب خلیفہ چہارم علی ابن ابی طالب نے نصرانی کے خلاف زراہ کا مقدمہ پیش کیا، تو حضرت علی کی طرف سے گواہی میں ان کے غلام قمبر اور ان کے لڑکے حسن تھے۔ قاضی شریح نے حضرت حسن کی ساری بزرگی کے باوجود ان کی گواہی نہیں مانی۔ فقال: "أترد شهادة الحسن وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة؟
" قال: "لا، ولكن حفظت عنك أنه لا تجوز شهادة الولد على والدي. " کنز العمال جلد 4 صفحہ 6 حضرت علی نے کہا: "کیا تم حسن کی گواہی کو رد کرتے ہو؟ " حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ قاضی شریح نے کہا کہ نہیں، کیونکہ میں نے آپ ہی سے سن کر یاد کیا ہے کہ لڑکے کی گواہی باپ کی موافقت میں جائز نہیں۔
رجال کے سلسلے میں ان کا تصور یہ تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کی اقتداء کرنا چاہتا ہے تو اس کو مردوں کی اقتداء کرنی چاہیے، نہ یہ کہ کسی زندہ شخص کو اپنا شیخ بنا لیا جائے۔ کیونکہ کوئی بھی شخص اس دنیا میں معصوم نہیں ہے۔ نبی کے سوا ہر شخص زندہ نبی کے سوا ہر زندہ شخص کے لیے یہ امکان ہے کہ وہ کسی بھی وقت فتنے میں پڑ جائے۔ "من کان مستن فلیستن بمن قد مات فإن الحي لا تؤمن عليه الفتنہ" حضرت علی نے فرمایا: "إياكم والاستنان بالرجال فإن الرجل يعمل بعمل أهل الجنة ثم ينقلب لعلم الله فيه فيعمل بعمل أهل النار فيموت وهو من أهل النار وإن الرجل ليعمل بعمل أهل النار فينقلب لعلم الله فيعمل بعمل أهل الجنة فيموت وهو من أهل الجنة فإن كنتم لابد فاعلين فبالأموات لا بالإحياء." ابن عبدالبر جامع بیان العلم جلد 2 صفحہ 114 رجال کی سنت پکڑنے سے بچو اس لیے کہ آدمی جنت والوں کا عمل کرتا ہے پھر اللہ کے علم کے مطابق پلٹ جاتا ہے اور آگ والوں کا عمل کرنے لگتا ہے پھر اسی حال میں مر جاتا ہے اور وہ آگ والا ہوتا ہے اور بے شک آدمی آگ والوں کا عمل کرتا ہے پھر اللہ کے علم کے مطابق پلٹ جاتا ہے اور جنت والوں کا عمل کرنے لگتا ہے پھر اسی حال میں مر جاتا ہے اور جنت والوں میں سے ہوتا ہے۔
پس اگر تمہیں لوگوں کی اقتداء ہی کرنی ہے تو مرے ہوئے لوگوں کی اقتداء کرو نہ کہ زندہ لوگوں کی۔