Maulana Wahiduddin Khan
21 min left
0:00

← Tajdeed-e-Deen
Tajdeed-e-Deen

تصوف

Urdu · 21 min

تصوف ایک روحانی فن کی حیثیت سے قرآن و حدیث میں اجنبی ہے۔ تصوف کے نام سے سلوک اور تزکیے کے جس فن کو کتابوں میں مدون کیا گیا ہے، یا شیوخ اپنے مریدوں کو جس کی تعلیم دیتے رہے ہیں، وہ تمام تر ایک اضافہ ہے۔ اپنی موجودہ شکل میں وہ قرآن و سنت کے اندر موجود نہیں۔

پہلا شخص جس کو اسلام کی تاریخ میں "صوفی" کے لفظ سے پکارا گیا، وہ غالباً ابو ہاشم الصوفی، متوفی 150 ہجری تھے۔ تاہم اس وقت تک صوفی کے معنی صرف یہ تھے کہ وہ شخص جو زہد اور عبادت میں غلو کرے۔ چونکہ یہ لوگ اچھے لباس کو چھوڑ کر صوف یعنی اون کے معمولی کپڑے اپنے جسم پر لپیٹ لیتے تھے، اس لیے انہیں صوفی کہا جانے لگا۔ اس کے بعد اس کے قواعد اور اصطلاحات بننے لگے، یہاں تک کہ تیسری صدی ہجری میں پہنچ کر تصوف نے اسلامی روحانیات کے ایک باقاعدہ فن کی شکل اختیار کر لی۔

اشراقی فلسفہ، رہبانیت، اور ویدانت میں اس کے لیے کافی مواد تھا۔ اس طرح مختلف بیرونی عناصر کی مدد سے ایک ایسی چیز وجود میں آئی جس پر اگرچہ اسلام کا لیبل لگا ہوا تھا، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک متوازی مذہب تھا جو اسلام کے اندر اسلام کے بالمقابل بنایا گیا۔ تصوف کی ایک قسم وہ ہے جس کو باطنیّت کہا جاتا ہے۔ تیسری صدی ہجری میں، خاص طور پر ایران میں، کچھ لوگ ایسے پیدا ہوئے جن کا کہنا تھا: "إن للقرآن ظاهر وباطن، والمراد باطنه" "قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے، اور مقصود باطن ہی ہے"۔

اسی لیے وہ "باطنیہ" کے نام سے مشہور ہوئے۔ علماء کے متفقہ فیصلے کے مطابق یہ زنادقہ کا گروہ تھا جس نے اپنی اباحیت اور بے عملی کو چھپانے کے لیے یہ نظریہ گڑھ لیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ "الصوفی لا مذہب له" یعنی صوفی کا کوئی مذہب نہیں۔ اس فرقے کے ایک شخص سے کہا گیا: تم نماز نہیں پڑھتے؟

ألا تصلي؟ اس نے جواب دیا: أنتم مع أورادكم ونحن مع وارداتنا "تم اپنے اوراد میں ہو اور ہم اپنی واردات میں" "أنتم مع أورادكم ونحن مع وارداتنا" "تم اپنے اوراد میں ہو اور ہم اپنی واردات میں"۔ ان کا عقیدہ تھا کہ شریعت کے مکلف عوام ہیں، نہ کہ خواص۔ "إن التكليف خاص بالعوام، ساقط بالخواص" اسی طرح وہ لوگ جو حلول اور اتحاد کے قائل تھے، اور کہتے تھے کہ سالک جب اپنے سلوک کی آخری منزل پر پہنچتا ہے تو خدا اس کے اندر اتر آتا ہے۔

اس وقت بندے اور خدا میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا، حتیٰ کہ اس کے لیے یہ کہنا صحیح ہو جاتا ہے کہ "هو أنا وأنا هو" "وہ میں ہے، میں وہ ہوں"۔ اسی طرح وحدت الوجود کا نظریہ، جس کے تحت ابو حسین الحجاج نے کہا تھا: "ما فی الجبة إلا الله" چنانچہ علماء نے ان کے ارتداد کا فتویٰ دیا، اور وہ مقتدر کی خلافت میں 301 ہجری میں قتل کر دیے گئے۔ اسی طرح تصوف کے وہ طریقے جو سماع اور رقص کو خدا تک پہنچنے کا ذریعہ بتاتے ہیں، حتیٰ کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو امرت پرستی کو قربتِ الہی کا سبب سمجھتے ہیں۔ اس کے جواز کے لیے انہوں نے ایک حدیث بھی گڑھ رکھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ "میں نے اپنے رب کو جوان مرد کی صورت میں دیکھا" "رأيت ربي في صورة شابٍ أمرض" تاہم تصوف کی ان شکلوں پر یہاں ہم کوئی گفتگو نہیں کریں گے، کیونکہ علماء متفقہ طور پر ان کی ذلالت کا فتویٰ دے چکے ہیں۔

ہماری گفتگو تمام تر تصوف کے ان طریقوں تک محدود ہوگی جن کو امت کے اندر قبولیتِ عام حاصل ہوا، اور جن کو اب تک بے شمار لوگ نجات کا سب سے قریبی ذریعہ سمجھے ہوئے ہیں۔ اس تصوف کی دو قسمیں ہیں: ایک، مسنون تعبدی طریقوں میں مقداری اضافہ؛ دوسرے، مسنون تعبدی طریقوں میں نوعی اضافہ۔ پہلے طریقے کے بارے میں ابو القاسم جنید بغدادی 297 ہجری نے کہا ہے: "مذهبنا هذا مقید بالكتاب والسنة" "ہمارا یہ طریقہ کتاب و سنت کے ساتھ مقید ہے"۔ ابتدائی دور کے صوفیاء، اگر انہیں یہ لقب دیا جا سکے، میں یہی پہلی قسم کا تصوف رائج تھا۔

ان لوگوں نے نماز، روزہ، تلاوتِ قرآن وغیرہ، جو بذاتِ خود مسنون طریقِ عبادت ہیں، ان کی مقدار میں وہ حد بندی باقی نہ رکھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت تھی۔ مثلاً پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ آپ رات کے پچھلے پہر کی کچھ رکعتیں، یعنی اکثر 11 رکعتیں، ادا فرماتے تھے۔ ان بزرگوں نے ساری رات نماز پڑھنی شروع کر دی۔ آپ فرض روزوں کے علاوہ مہینے میں چند دن مزید روزہ رکھ لیتے تھے۔

ان حضرات نے مسلسل روزے رکھنے شروع کر دیے، جس کو صومِ وصال کہا جاتا ہے۔ آپ مخصوص اوقات میں قرآن کا کوئی حصہ پڑھ لیا کرتے تھے۔ انہوں نے ہر وقت بس قرآن ہی پڑھنا شروع کیا، حتیٰ کہ اگر امام نووی کا بیان صحیح ہو تو ان میں سے ان میں ایسے لوگ بھی ہوئے جو ہر روز آٹھ بار قرآن پورا قرآن ختم کر لیتے تھے وغیرہ۔ عبادت کے مسنون طریقوں میں اس قسم کا اضافہ صراحتاً ممنوع قرار دیا گیا تھا۔

بخاری و مسلم نے حضرت انس سے روایت کیا ہے: "جاء ثلاثةُ رهطٍ إلى بيوتِ أزواجِ النبي صلى الله عليه وسلم يسألون عن عبادةِ النبي صلى الله عليه وسلم فلما أخبروا كأنهم تقالوها فقالوا وأين نحن من رسول الله وقد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر فقال أحدهم أما أنا فأصلي الليل أبداً وقال آخر أنا أصوم الدهر ولا أفطر وقال آخر أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبداً فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أنتم الذين قلتم كذا وكذا أما والله لأني أخشاكم الله وأتقاكم له لكني أصوم وأفطر وأصلي وأرقد وأتزوج النساء فمن رغب عن سنتي فليس مني" تین مسلمان ازواجِ رسول کے گھروں پر آئے اور آپ کی عبادت کے بارے میں دریافت کیا۔ جب انہیں پتہ جب انہیں بتایا گیا تو انہیں آپ کی عبادت بہت کم معلوم ہوئی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا کیا مقابلہ؟ آپ کے تو تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں۔

پھر ان میں سے ایک نے کہا: میں تو رات بھر نمازیں پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا: میں مسلسل روزے رکھوں گا۔ تیسرے نے کہا: میں تجرد کی زندگی اختیار کروں گا اور عورتوں سے کوئی تعلق نہ رکھوں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔

آپ نے فرمایا: کیا تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسا اور ایسا کہا ہے؟ سنو! خدا کی قسم، میں تم میں میں تم میں خدا کی قسم، میں تم سب میں زیادہ خدا سے ڈرنے والا اور متقی ہوں۔ مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔

نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ اور عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ یہ میری سنت ہے، اور جو میری سنت کو چھوڑے وہ مجھ سے نہیں۔ ایک اور روایت اس طرح سے ہے: آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ دنیا کو ترک کر دیں اور عورتوں سے قطع تعلق کر لیں اور راہب بن جائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ وعظ کے لیے کھڑے ہوئے اور ان کے متعلق سخت گفتگو فرمائی۔ آپ نے کہا: تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے وہ اسی قسم کی شدت کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ انہوں نے اپنے اوپر شدت کی تو اللہ نے بھی ان پر شدت کی۔ انہی کی بقایا ہے جو سوامع میں ہے۔

تم لوگ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ حج کرو، عمرہ کرو، اور سیدھے رہو۔ تمہارے ساتھ سیدھا معاملہ کیا جائے گا۔ ان عباد الظہات کی مدافعت میں جو لٹریچر تیار ہوا، اس کا خلاصہ مولانا عبدالحی لکھنوی 1264 تا 1304 ہجری کی کتاب "اقامت الحجت علی ان الاكثار فی التعبد لیس بدعت" حلب 1966 میں دیکھا جا سکتا ہے۔

تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تمام دلائل کی قدر و قیمت صرف اس وقت تک ہے جب کہ متعلقہ اکابر کے عمل کا لازماً صحیح ہونا بطور پیشگی مفروضے کے مان لیا جائے۔ اگر اس مفروضے کو ذہن سے نکال دیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان توجیحات کی علمی اعتبار سے کوئی حقیقت نہیں۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اسلام نے اپنی امت پر شفقت کی وجہ سے کم عبادتیں کیں، کیونکہ آپ اگر زیادہ عبادت کرتے تو ساری امت پر ویسا ہی کرنا فرض ہو جاتا۔ "كان يترك كثرة العبادات شفقةً على أمته ورحمةً على اتباعه لئلا يتحرجوا باتباعهم في ذلك" اس استدلال کی کمزوری اس واقعے سے ثابت ہوتی ہے کہ عبادات میں تشدد کے بجائے آپ کا اعتدال اگر امت پر شفقت کی وجہ سے تھا تو آپ نے دوسرے معاملے میں "لعلك باخع نفسك ألا يكونوا مؤمنين" شعراء تین کا اسوہ اپنی امت کے لیے کیوں چھوڑا؟

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے مومن بندوں سے یہ مطلوب ہی نہیں کہ وہ اس قسم کے کرشمے دکھائیں کہ مغرب کے وضو سے فجر کی نماز 50 سال تک پڑھتے رہیں اور روزانہ آٹھ آٹھ بار قرآن ختم کر ڈالیں۔ اپنے جسم کو غیر ضروری مشقت میں ڈالنا یا رات دن کچھ اشکال عبادت کو دہراتے رہنا، وہ چیز نہیں جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہو۔ اس کو جو چیز اس کو جو چیز مطلوب ہے، وہ اندرونی طور پر یہ ہے کہ اس کے بندے اس کی محبت اور خوف سے سرشار ہوں، اور خارجی طور پر یہ کہ ایک طرف اپنے عمل کو زندگی، ایک طرف اپنے عمل کو زندگی کی تمام سرگرمیوں میں خدائی تعلیم کے مطابق بنائیں، اور دوسری طرف دوسرے بندگان خدا کو اللہ کے دائرے میں لانے کی کوشش کریں۔ بعد کے بزرگوں کے بارے میں کثرت عبادت کے افسانے اگر بالفرض صحیح ہوں، جب بھی یہ وہ دین نہیں جو پیغمبر عربی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے لائے، اور جو قرآن و سنت کی شکل میں اب بھی ہمارے پاس پوری طرح محفوظ ہے۔

اس قسم کے کمالات جو بعد کے لوگوں سے منقول ہیں، بلاشبہ ان کا ہدی محمدی سے کوئی تعلق نہیں۔ بلاشبہ ان کا ہدی محمدی سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر دور زوال کی علامتوں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ اپنے رجال پر تنقید کی جرات ختم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس قسم کے اعمال پر نکیر کے بجائے ان کی توجیح بلکہ تحسین شروع ہوگئی، حتیٰ کہ رفتہ رفتہ وہ اس قدر مقدس ہو گئے کہ اب کسی کے لیے یہ سوچنا بھی محال ہو گیا کہ ان میں کوئی نقص ہے۔

حافظ ذہبی 748 ہجری اور ابن تیمیہ 728 ہجری کا تشدد صوفیاء کے بارے میں مشہور ہے، مگر ان کا بھی یہ حال ہے کہ کسی کی مدح و ستائش کے ذیل میں کثرت عبادت کے قصے نقد و جرح کے بغیر نقل کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ قصے بااعتبار واقعہ بھی اکثر ناقابل اعتبار ہوتے ہیں اور دین کی حقیقت سے تو ان کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ یہی حال ہماری اکثر کتابوں کا ہے۔ تصوف کی دوسری شکل تعبدی امور میں نوعی اضافے کا معاملہ پہلی شکل سے بھی زیادہ شدید ہے۔ پہلا اگر قرآن کے الفاظ میں "اعتداء" سورہ اعراف آیت 55 ہے تو دوسرا "ابتداء" سورہ حدید آیت 27۔

اور معلوم ہے کہ دین میں احداث اور ابتداء، خواہ وہ اچھی نیت ہی سے کیوں نہ ہو، قطعاً مردود ہے۔ بخاری و مسلم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے: "من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد" جو ہمارے دین میں کوئی نئی چیز لائے، وہ رد ہے۔ امام زادہ جوغی سمرقندی 573 ہجری نے اپنی کتاب "شرعت الاسلام" میں صحابہ کے بارے میں لکھا ہے: "وقد كانت الصحابة ينكرون أشد الإنكار على من أحدث أو ابتدع رسماً لم يتعهدوه في عهد النبوة قبل ذلك أو كثر صغر ذلك أو كبر صفن" صحابہ اس شخص کے خلاف شدید ترین انکار کرتے تھے جو کوئی ایسا طریقہ نکالے جس کو انہوں نے نبوت کے زمانے میں نہ دیکھا ہو، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، چھوٹا ہو یا بڑا۔ صحابہ کا یہ شدید رویہ عبادات کے بارے میں تھا، معاملات کے بارے میں نہ تھا۔

معاملات انسانی کا بہت گہرا تعلق دنیا کے عملی حالات سے ہے جو ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ اس لیے اس میں صراحتاً نئے فیصلوں کی اجازت دی گئی ہے، جس کو قرآن میں "استنبات" سورہ نساء آیت 83 اور حدیث میں "اجتہاد" معاذ ابن جبل کہا گیا ہے۔ مگر عبادت کا تعلق ازلی اور ازلی و ابدی ہستی کے ساتھ انسان کے رویے سے ہے، اس لیے اس میں کسی تبدیلی اور اضافے کا سوال نہیں۔ تدریجی حکمت یا معذوری کی بنا پر کسی کے ساتھ رعایت تو کی جا سکتی ہے، مگر اپنی طرف سے قیاسی اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔

عبادات کے معاملے میں صرف اتباع ہے۔ عبداللہ ابن عبداللہ ابن مسعود نے فرمایا: "اتبعوا ولا تبتدعوا" یعنی اتباع کرو، نئی چیز نہ نکالو۔ معاملات کے باب میں مسلسل اجتہاد کیا گیا، مگر کسی صحابی نے نکیر نہ کی۔ مگر عبادات میں ذرا سا نیا پن بھی ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتا تھا۔

عبداللہ ابن مغفل کے صاحبزادے کہتے ہیں: "سمعني أبي وأنا في الصلاة أقول بسم الله الرحمن الرحيم فقال لي: اے بني محدث إياك والحدث" ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، بیہقی۔ میرے باپ نے مجھ کو نماز میں کہتے ہوئے سنا: "بسم الله الرحمن الرحيم" تو مجھ سے کہا: میرے بیٹے، یہ نئی چیز ہے اور تم کو چاہیے کہ نئی چیز سے بچو۔ معاملات انسانی کی نوعیت چونکہ دنیاوی حالات کی تبدیلی سے بدلتی رہتی ہے، اس لیے اس میں اجتہاد کی اجازت دی گئی تھی۔ مگر عبادات و روحانیات کے پہلو سے جو کچھ مطلوب ہے، اس میں کمی بیشی کا سوال نہیں۔

اس میں صرف اتباع ہے۔ ابن عبدالبر نے "جامع بیان العلم وفضله" میں سعید ابن مسیح سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمر نے خطبہ دیا اور اس میں فرمایا: "يا أيها الناس إنه قد سنت لكم السنن وفرضت لكم الفرائض وتركتم على الواضح إلا أن تضلوا بالناس يمينا وشمالا" جز ثانی، صفحہ 187۔ اے لوگوں! تمہارے لیے طریقے جاری کر دیے گئے اور تمہارے لیے فرائض مقرر کر دیے گئے، اور تم ایک واضح امر پر چھوڑ دیے گئے۔

خبردار! لوگوں کے ساتھ دائیں بائیں نہ بھٹک جانا۔ نبوت کے بعد امت مسلمہ کے اندر جو فتنے پیدا ہوئے، ان کو شاہ ولی اللہ نے 30 تک شمار کیا ہے۔ دسواں فتنہ ان کے الفاظ میں یہ ہے: سنت معصورہ میں جو اوراد و وظائف آ گئے ہیں، ان کے علاوہ اپنی طرف سے مزید اوراد و وظائف کا یہ اوراد و وظائف کا بنیت تقرب الی اللہ عزوجل، یعنی ثواب پانے کی غرض سے اختراع کرنا، اور امور مستحبہ کو اور امور مستحبہ کو مثل واجبات کے اپنے ذمے لازم کر لینا، اور لوگوں میں ان وظائف کے پھیلانے کی رغبت کا دلوں میں پیدا ہونا، ازالۃ الخفاء۔

شاہ صاحب نے اس سلسلے میں جو روایتیں نقل کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے: دارمی نے حکم ابن مبارک سے روایت کی ہے، وہ کہتے تھے: ہمیں عمر ابن یحیی نے خبر دی، وہ کہتے تھے: میں نے اپنے والد سے سنا، وہ اپنے والد سے نقل کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم نماز فجر سے پہلے عبداللہ ابن مسعود کے دروازے پر جا کر بیٹھ بیٹھ رہے رہتے، بیٹھ رہتے تھے۔ جب وہ اپنے گھر سے نکلتے تو ہم ان کے ساتھ مسجد میں جاتے تھے۔ ایک روز ابن مسعود کے مکان پر بوقت معہود ابو موسی اشعری آئے اور ہم سے پوچھا کہ کیا ابو عبدالرحمن یعنی عبداللہ ابن مسعود گھر سے نکلے؟ ہم نے جواب دیا کہ ابھی نہیں نکلے۔

یہ سن کر وہ ہمارے پاس بیٹھ گئے، یہاں تک کہ عبداللہ ابن مسعود گھر سے برآمد ہوئے اور ہم لوگ ان کے ساتھ اٹھ کر چلے۔ پھر ان سے ابو موسی نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! میں نے ابھی مسجد میں ایک نئی بات دیکھی، مگر الحمدللہ میں نے اچھی بات دیکھی۔ عبداللہ ابن مسعود نے پوچھا: تم نے کیا دیکھا؟

ابو موسی نے کہا کہ اگر مسجد پہنچنے تک آپ زندہ رہے تو آپ بھی دیکھ لیں گے۔ پھر کہا: میں نے مسجد میں لوگوں کو دیکھا کہ وہ جدا جدا حلقے کر کے بیٹھے ہیں اور نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر حلقے میں ایک ایک شخص ہے جس کے ہاتھ میں سنگریزے ہیں، وہ کہتا ہے: سو مرتبہ اللہ اکبر کہو۔ سب لوگ سو بار اللہ اکبر کہتے ہیں اور ان سنگریزوں پر گنتے جاتے ہیں۔

پھر وہ کہتا ہے: سو بار لا الہ الا اللہ کہو۔ سب لوگ سو بار لا الہ الا اللہ کہتے ہیں۔ پھر وہ کہتا ہے: سو بار سبحان اللہ کہو۔ سب لوگ سو بار سبحان اللہ کہتے ہیں۔

یہ سن کر عبداللہ ابن مسعود نے پوچھا کہ پھر تم نے ان سے کیا کہا؟ ابو موسی نے جواب دیا: آپ کی رائے اور آپ کے حکم کے انتظار میں میں نے ان سے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے کہا: تم نے کیوں نہ ان کو حکم دیا کہ ان سنگریزوں پر تکبیر و تحلیل و تسبیح کے بجائے وہ لوگ اپنے اپنے گناہوں کو شمار کریں؟ اور تم نے ان سے اس بات کی ذمہ داری کیوں نہ لی کہ ان کی نیکیوں میں سے کچھ ضائع نہ ہوگا؟

شمار کرنا بیکار ہے۔ یہ کہہ کر ابن مسعود چلے اور ہم سب ان کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ وہ ان حلقوں میں سے ایک حلقے کے پاس پہنچ کر ٹھہر گئے اور ان لوگوں سے پوچھا کہ تم کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: اے اے ابو عبدالرحمن! ہم ان سنگریزوں سے تکبیر اور تحلیل اور تسبیح کے کلمات شمار کرتے ہیں۔

ابن مسعود نے کہا: اس کے بجائے تم لوگ اپنے اپنے گناہوں کو شمار کرو اور میں ضامن ہوتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کوئی نیکی ضائع نہ ہوگی۔ اے امت محمد! تمہارا برا ہو، تمہاری ہلاکت کتنی جلد آ گئی؟ ابھی تمہارے نبی کے اصحاب کثرت سے موجود ہیں، تمہارے نبی کے کپڑے ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے اور آپ کے برتن ابھی نہیں ٹوٹے۔

مگر تم ابھی سے بدعتیں ایجاد کرنے لگے؟ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یا تو تم ایک ایسے دین پر ہو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے زیادہ راہ راست پر ہے، یا تم گمراہی کے دروازے پر پہنچ گئے ہو اور وہ دروازہ کھلنے والا ہے۔ ان لوگوں نے جواب دیا: اے ابو عبدالرحمن! خدا کی قسم، ہم اس فعل سے نیکی ہی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ابن مسعود نے کہا: بہت سے نیکی کا ارادہ کرنے والے ایسے ہیں کہ انہیں نیکی نہیں ملتی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن پڑھیں گے، مگر قرآن ان کے گلے سے تجاوز نہ کرے گا۔ خدا کی قسم، میں نہیں جانتا، شاید تم میں اکثر ایسے لوگ ہوں۔ ازالۃ الخفاء عن خلفاء عن خلافت الخلفاء مقصد مقصد اول یہ روایت جس کو دارمی کے علاوہ طبرانی نے اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے، یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ عبادتی امور میں صحابہ کس قدر حساس تھے اور معمولی جدت کو بھی انتہائی طور پر ناپسند کرتے تھے۔

کجا کہ یہ اضافے اتنے زیادہ ہو جائیں کہ وہ متوازی مذہب بن جائے اور باقاعدہ اس کے ماہرین اور معلمین پیدا ہونے لگیں۔ اور آج بدقسمتی سے امت مسلمہ کی صورتحال یہی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.