Maulana Wahiduddin Khan
46 min left
0:00

← Tajdeed-e-Deen
Tajdeed-e-Deen

Fiqh.

Urdu · 46 min

فقہ: بعد کے زمانے میں جب احادیث کو باقاعدہ جمع کیا گیا تو معلوم ہوا کہ صحابہ کی روایتوں میں بعض امور میں اتفاق ہے اور بعض امور میں اختلاف۔ مثلاً پنج وقتہ نمازوں کی تعدادِ رکعت کے بارے میں تمام صحابہ کا بیان ایک تھا، مگر اس معاملے میں اختلاف تھا کہ آپ نے "آمین" آہستہ سے کہی یا بلند آواز سے۔ اب اہلِ علم کے درمیان دو گروہ ہو گئے: ایک محدثین کا، جن کا کہنا تھا کہ جن امور میں صحابہ کی روایتیں مختلف ہیں وہ جزئی امور ہیں، اور جزئی امور میں توسع مطلوب ہے۔ دوسری طرف فقہاء تھے، جو اثاثی امور کے ساتھ جزئی امور میں بھی توحد کے قائل تھے۔

چنانچہ انہوں نے ان اختلافی روایتوں پر زبردست بحثیں کیں، اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ فلاں روایت راجح ہے اور اس کے سوا جو روایت ہے وہ مرجوع ہے، وغیرہ۔ تاہم چونکہ عملاً ذخیرۂ حدیث میں ہر قسم کی روایتیں موجود تھیں، اس لیے ایک فقہ بنانے کی کوشش میں کئی فقہیں پیدا ہو گئیں۔ اس معاملے میں امام شافعی کا یہ قول بہت بامعنیٰ ہے کہ "رأیی ثوابٌ يحتمل الخطأ، ورأیی غیری خطأٌ يحتمل الصواب" ۔ "میری رائے درست ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ غلط ہو، اور دوسرے کی رائے غلط ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ درست ہو۔

" یعنی جس طرح میرے پاس اپنے حق میں روایت ہے، اسی طرح دوسرے کے پاس بھی اپنے حق میں روایت ہے۔ اس لیے دونوں کے لیے خطا کا امکان بھی ہے اور ثواب کا امکان بھی۔ اس عجیب و غریب تطبیق سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ جن امور میں روایتوں میں اختلاف ہے، وہ دراصل توسع کی بنا پر ہے، وہ حقیقی اختلاف نہیں۔ فقہ کے راستے سے جو خرابی آئی، اس کی بابت شاہ ولی اللہ دہلوی نے لکھا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فقہ کی تدوین نہیں ہوئی تھی، اور نہ اس وقت مسائل میں ایسی بحثیں ہوتی تھیں جیسی یہ فقہاء کرتے ہیں، کہ نہایت کوشش سے ارکان و شروط اور ہر شے کے آداب ایک دوسرے سے جدا جدا ماں دلائل بیان کرتے ہیں، اور صورتیں فرض کر کے ان مفروضہ صورتوں میں گفتگو کرتے ہیں، اور جو حد کے قابل ہے اس کی حد بیان کرتے ہیں، اور جو حصر کے قابل ہے اس کا حصر کرتے ہیں، اور اسی قسم کے دوسرے امور کرتے ہیں۔

مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یہ تھا کہ آپ وضو کرتے تھے، پس صحابہ آپ کے وضو کو دیکھتے اور خود بھی ویسا ہی کرتے، بغیر اس کے کہ آپ یہ کہیں کہ یہ رکن ہے، وہ مستحب ہے۔ اور آپ نماز پڑھتے، پس صحابہ آپ کی نماز کو دیکھتے اور خود بھی اسی طرح نماز پڑھتے، جس طرح آپ کو نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ اور آپ نے حج کیا، پس لوگوں نے آپ کے حج کو دیکھا اور ویسا ہی کیا جیسا آپ نے کیا تھا۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غالب حال تھا۔

آپ نے یہ بیان نہیں کیا کہ وضو میں فرائض 6 یا 4 ہیں، اور نہ آپ نے اس احتمال کو فرض کیا کہ انسان بغیر پے در پے کے وضو کرے تاکہ اس کے صحیح یا فاسد ہونے کا حکم کیا جائے۔ الا ماشاءاللہ۔ اور صحابہ اس قسم کی باتیں آپ سے بہت کم دریافت کرتے تھے۔ عبداللہ ابن عباس سے مروی ہے کہ میں نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر لوگ نہیں دیکھے۔

انہوں نے آپ سے صرف 13 مسئلے دریافت کیے، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔ حجۃ اللہ البالغہ، جلد اول، باب اسباب اختلاف الصحابۃ والتابعین فی الفروع۔ فقہ کا لفظ اپنے موجودہ اصطلاحی مفہوم میں قرآن و حدیث میں استعمال نہیں ہوا ہے، بحیثیت فن اس کی تدوین کا آغاز قرن اول کے بعد ہوا، جبکہ مسائل نے نئی وسعت اختیار کر لی۔ اسلام پھیلتا جا رہا تھا، یہاں تک کہ وہ چین کی سرحدوں سے لے کر فرانس کی سرحدوں تک جا پہنچا۔

بے شمار نئے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے، اور ان کی وجہ سے نئے نئے سوالات پیدا ہونے لگے۔ اس وقت ان سوالات کا جواب دینے کا پہلا مرکز عراق بنا۔ عراقی فقہاء نے قیاس اور استخراج کے ذریعے نئے سوالات کے جوابات دینے شروع کیے۔ اس وقت حدیثیں مدون نہ ہوئی تھیں، اس لیے کسی فقیہ کے پاس سارا ذخیرۂ حدیث اس طرح موجود نہ تھا جیسے وہ آج ہم کو اپنے کتب خانے میں رکھا ہوا نظر آتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ابتدائی فقہاء کے یہاں کثرت سے اپنی سابق رائےوں سے رجوع ملتا ہے۔ فقہ کی کتابیں اس قسم کے اندراجات سے بھری ہوئی ہیں۔ "هذا رأي أبي حنيفة الأول وأنه رجع عنه" ۔ "هذا مذہب الشافعي القديم وهو في العراق، وهذا مذهبه الجديد في مصر"۔

"هذا إحدى الروايات عن مالك وعن أحمد بن حنبل، وأن هناك روايات أخرى"۔ حدیث کی جمع و ترتیب کا کام، جو نمایاں شکل میں دوسری صدی ہجری کے نصف ثانی میں شروع ہوا، اس کی بڑی وجہ وہ ردعمل تھا جو اربابِ حدیث کے درمیان عراقی فقہاء کے خلاف پیدا ہو گیا تھا۔ گویا حدیث کی تدوین اس تحریک کا ایک جز تھی کہ مسائل کی بنیاد رائے کے بجائے احادیث و آثار پر ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی دور کی حدیث کی کتابوں میں وہی حدیثیں جمع کی گئیں جن سے فقہی احکام معلوم ہوتے تھے۔

اس کی ایک مثال مؤطہ امام مالک ہے، بعد کی کتبِ حدیث جن میں ہر قسم کی حدیثیں جمع کی گئیں، ان میں بھی ابواب کی ترتیب فقہی طرز پر نظر آتی ہے۔ اسی کا اثر تھا کہ امام بخاری نے اپنی کتاب کی تالیف سے پہلے یہ نقشہ بنایا کہ ایک ضابطہ قانون میں کیا کیا ابواب ہونے چاہییں۔ ایک ضابطہ قانون میں کیا کیا ابواب ہونی چاہییں، اور اس کے مطابق پیش کیے ابواب مقرر کیے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں بہت سے عنوانات کے تحت تو کئی کئی روایتیں ملتی ہیں، بعض عنوان کے تحت صرف قرآن کی ایک آیت درج ہے، اور بعض عنوانات دونوں سے خالی ہیں۔

تاہم جہاں تک فقہ کا سوال ہے، حدیث کی جمع و ترتیب کے بعد بھی اس کی ضرورت باقی تھی۔ عبادت کے طریقے اگرچہ بنیادی طور پر تمام صحابہ کے یہاں ایک ہی تھے، مگر حدیث نے بتایا کہ اس کے ضمنی پہلوؤں میں مختلف صحابہ کے عمل میں بعض فرق پایا جاتا ہے۔ اب سوال تھا کہ کیا کیا جائے، اور عبادت کا کون سا ڈھانچہ مقرر کیا جائے۔ یہاں لوگوں کی دو رائیں ہو گئیں۔

ایک طرف محدثین تھے، دوسری طرف فقہاء۔ محدثین کی رائے یہ تھی کہ "الصحابة كلهم عدول" کے مطابق کسی بھی صحابی کی رائے پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ اسامہ بن زید کہتے ہیں: میں نے قاسم بن محمد ابن ابو بکر سے پوچھا، غیر جہری نماز میں امام کے پیچھے قرأت کیسی ہے؟ فرمایا: قرأت کرو، تب بھی "اصحاب رسول اللہ" میں تمہارے لیے سوا ہے، اور نہ کرو، تب بھی "اصحاب محمد" میں سوا ہے۔

80۔ عمر ابن عبدالعزیز کا قول ہے: ہر صحابی امام ہے، اور ہر صحابی کی پیروی درست ہے۔ 80۔ محمد ابن عبدالرحمن سیروی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا، اگر کسی مسئلے میں صحابہ کا اختلاف ہو تو کیا تنقید و تمحیص کرنا چاہیے تاکہ جس کے ساتھ حق نظر آئے اس کی پیروی کی جائے؟

جواب دیا: نہیں۔ انہوں نے کہا، پھر کیا کریں؟ کہا: جس صحابی کے قول کو چاہو لے لو۔ تُقَلِّدْ أَيُّهُمْ أَحْبَبْتَ 83۔

ائمہ حدیث کے فقہی مسلک کے بارے میں علماء کے درمیان جو اختلاف ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ معروف معنوں میں ان کا کوئی ایک فقہی مسلک ہی نہ تھا۔ جامع بیان العلم، جز ثانی۔ مگر فقہاء کی رائے اس سے مختلف تھی۔ ابو عمر کہتے ہیں کہ امام شافعی، لیث ابن سعد، اوزاعی، ابو ثور، اور دیگر فقہاء کی رائے یہ ہے کہ جب ایک ہی مسئلے میں دو متضاد قول ہوں تو دونوں حق نہیں ہو سکتے۔

لازمی طور پر ایک ہی صحیح ہوگا، دوسرا غلط۔ ما لحق إلا واحد 82۔ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ کتاب و سنت، اجماع امت، اور اصول مسلمہ پر قیاس کر کے ایک کو راجح اور دوسرے کو مرجوع قرار دیا جائے۔ اس بحث میں حق بلاشبہ محدثین کی طرف تھا۔

بعض امور ایسے ضرور ہیں جن میں فرق کا معاملہ حق اور ناحق کا معاملہ ہوتا ہے، مگر ہر فرق کی نوعیت یہی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر بعض روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گمان تھا کہ بعض جانور، مثلاً چوہا، گوہ، یہود کی مسخ شدہ نسلوں کی اولاد ہیں۔ لعلّه من القرون التي مسخت مسلم۔ مگر دوسری روایت کے مطابق آپ نے فرمایا کہ تمام جانور پہلے سے ہیں۔

کوئی جانور کسی مسخ شدہ قوم کی نسل سے نہیں۔ إن الله لم يلعن قوما قط فيمسخهم فكان لهم نسل ولكن هذا خلق كان ابو داؤد۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک ہی بات صحیح ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہم مجبور ہیں کہ ایک روایت کو ترک کر کے دوسری کو اختیار کریں۔

اسی طرح بعض روایات کے مطابق اولادِ مشرکین کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے آباء کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ هم مع آبائهم ابن کثیر۔ دوسری طرف ایسی بھی روایات ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ کوئی بچہ حالتِ طفلی میں مر جائے تو وہ جنت میں جائے گا۔ المولود فی الجنة احمد طبرانی کی ایک روایت کے مطابق آپ سے اطفالِ مشرکین کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ اہلِ جنت کے خادم ہوں گے۔

هم خدام أهل الجنة ظاہر ہے کہ ایک لڑکا بیک وقت جنت اور دوزخ دونوں جگہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ہمارا فرض ہوگا کہ دونوں قسم کی روایات کی چھان بین کر کے صحیح تر قول کو تلاش کریں۔ مگر جہاں تک عبادت کے طریقوں میں مذکورہ فرق کا تعلق ہے، وہ نہ صرف انتہائی ضمنی اور فروعی ہیں، بلکہ ایک ایسے دائرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں فرق کے معنی لازماً یہ نہیں ہیں کہ ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط۔ اس معاملے میں فرق دراصل تنوع اور توسع کو بتاتا ہے، نہ کہ حق اور ناحق کو۔

یہی وجہ ہے کہ ہم ایک ہی صحابی کو بسا اوقات مختلف عمل کرتے ہوئے پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر امام مالک اور امام شافعی نے بروایت عروہ نقل کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق نے ممبر پر آیتِ سجدہ تلاوت کی اور اتر کر سجدہ کیا، اور آپ کے ساتھ دوسروں نے بھی کیا۔ اگلے جمعہ کو دوبارہ آپ نے آیتِ سجدہ تلاوت کی اور سجدہ نہیں کیا۔ لوگوں نے قصد کیا کہ سجدہ کریں تو منع فرمایا، اور کہا کہ اپنی جگہ بیٹھے رہو۔

إزالة الخفاء مقصد دوم صفحہ 169۔ حضرت عمر مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی، اور امام شافعی یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ اگلے دن آپ مسجد میں آئے اور ایک رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ کہا گیا: آپ نے ایک ہی رکعت نماز پڑھی؟ فرمایا: یہ نافلہ تھی، جو چاہے زیادہ پڑھے اور جو چاہے کم۔

178۔ اسی طرح حضرت عمر کے بارے میں روایت کیا گیا ہے کہ نماز میں آپ "بسم اللہ الرحمن الرحیم" عام طور پر باآواز بلند نہیں پڑھتے تھے، مگر کبھی کبھی آپ نے "بسم اللہ" باآواز بلند بھی پڑھا۔ 162۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کو معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اوقات بارش کے موقع پر منادی کے ذریعے اعلان کرایا تھا کہ "ألا صلّوا في الرحال" اس کے باوجود ان کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابن عباس نے جمعہ کے روز بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہا: جب تم اذان میں "اشھد ان محمد رسول اللہ" کہو تو اس کے بعد "حی علی الصلاح" مت کہنا، بلکہ یہ فقرہ کہنا: "صلّوا في بيوتكم" اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔

مؤذن نے جب اس طرح اذان دی تو لوگوں کو عجیب معلوم ہوا۔ ابن عباس نے فرمایا: یہ اس ہستی نے کیا ہے جو مجھ سے بہت بہتر تھا، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ انہوں نے کہا: مجھے پسند نہیں ہوا کہ تم کو کیچڑ اور پھسلن میں گھر سے نکالوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی عبادت اپنے بنیادی ڈھانچے کے اعتبار سے ایک مقرر عمل ہونے کے باوجود اپنی ساری تفصیلات میں ایک مخصوص عمل کی یکساں تکرار کا نام نہ تھی۔

جیسا کہ آج ایک شخص کو اپنے مسلک کی مدون فقہ میں نظر آتا ہے، بلاشبہ اس کی ایک متعین شکل تھی، مگر مختلف وجوہ سے اس میں بار بار فرق بھی پیدا ہو جاتا تھا۔ فرق کی ایک وجہ وہ ہے جو کسی اتفاقی سبب سے پیدا ہوئی۔ مثال کے طور پر طوافِ کعبہ کے وقت رمل، یعنی کندھوں کو ہلاتے ہوئے چلنا، اگرچہ بعد کے فقہاء کے نزدیک سنت ہے، مگر عبداللہ ابن عباس کا قول ہے کہ آپ نے اس کو وقتی مصلحت کی بنا پر اختیار کیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو محض اتفاقی طور پر ایک امرِ عارض کی وجہ سے کیا تھا، اور وہ یہ کہ مشرکینِ مکہ نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو مدینے کے بخار نے کمزور کر دیا ہے، ورنہ طواف میں رمل کرنا مستقل سنت نہیں ہے۔

حجة الله البالغه اسی طرح ایک فرق وہ ہے جو کیفیتِ عبادت کے وفور سے پیدا ہوتا ہے۔ ترمذی، ابو داؤد، نسائی نے روایت کیا ہے کہ رفاعہ ابن رافع نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، درمیان میں انہیں چھینک آ گئی تو ان کی زبان سے باآواز بلند نکلا: الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه كما يحب ربنا ويرضى آپ نے سلام پھیرنے کے بعد پوچھا: نماز میں کون بولا تھا؟ من المتكلم في الصلاة؟ کسی نے جواب نہ دیا۔

آخر تیسری بار پوچھنے پر رفاعہ نے کہا کہ: "أنا يا رسول الله میں اے خدا کے رسول" آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اس کلمے کو لینے کے لیے 30 سے زیادہ فرشتے دوڑ پڑے تھے۔ مشكاة ما لا يجوز في الصلاة وما يباح 91۔ صفحہ نمبر 91۔ اسی طرح فرق کی ایک وجہ یہ ہوئی کہ اسلام میں اصل اہمیت حقیقتِ عبادت کی ہے، نہ کہ شکلِ عبادت کی۔

اس لیے عبادت کی ادائیگی کے دوران اگر اس کی شکل میں معمولی فرق ہو گیا تو آپ نے اس کو نظر انداز کیا اور عبادت کی اصل حقیقت پر زور دیا۔ اسامہ بن شریک کہتے ہیں کہ نبی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلا، پس لوگ آپ کے پاس آتے، کوئی کہتا: "یا رسول اللہ، میں نے طواف سے پہلے سعی کر لیا"، کوئی کہتا: "میں نے فلاں چیز پہلے کر لی"، "میں نے فلاں چیز بعد میں کی"۔ آپ ان کو جواب دیتے: اس میں کوئی حرج نہیں۔ حرج کی بات اور ہلاک کرنے والی بات تو یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت پر حملہ کرے۔

مشکات، کتاب المناسک۔ قرآن میں نماز کی ادائیگی پر بے حد زور دیا گیا ہے، مگر نماز کی متعین صورت نہیں بتائی گئی ہے۔ حدیث سے نماز کی شکل معلوم ہوتی ہے، مگر اسی کے ساتھ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ نماز کی ضمنی شکلوں میں تنوع اور توسع ہے۔ یہ کوئی کمی کی بات نہیں ہے جس کی تلافی کے لیے ہمیں ایک نیا فن ایجاد کرنے کی ضرورت ہو۔

یہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ نماز ایک زندہ عمل ہے، اور زندہ عمل کبھی بھی مشینی یکسانیت کا پابند نہیں ہوتا۔ فقہ نے بالکل غیر ضروری طور پر یہ کوشش کی کہ اس فطری توسع اور تنوع کو ختم کر کے عبادت کا یکساں نظام بنائے۔ اس مصنوعی تدبیر نے نمازیوں کو نماز کے حقیقی فائدے سے محروم کر دیا۔ وہ نماز کو ایک قسم کا عملیاتی ضمیمہ سمجھنے لگے، نہ کہ ایک ربانی سرچشمہ جو زندگی اور حرارت کی خوراک لینے کے لیے تلقین کیا گیا ہو۔

تاہم اگر فروغِ عبادت میں ترجیح ڈھونڈنا اور یکسانیت پیدا کرنا ضروری ہو، جب بھی اس کا وہ طریقہ کسی طرح صحیح نہ تھا جو فقہاء نے اختیار کیا۔ انہوں نے یہ کیا کہ بطور خود اپنے اپنے مدارسِ فکر قائم کیے، اور ہر ایک ذاتی طور پر ترجیح تلاش کرنے میں لگ گیا۔ اب چونکہ بطور واقعہ عبادات میں تنوع پایا جا رہا تھا، کلی یکسانیت کی تلاش مختلف طبائع کو ایک ہی نتیجے پر نہیں پہنچا سکتی تھی۔ کسی نے ایک طریقے کو ترجیح دی، کسی نے دوسرے طریقے کو۔

اس طرح ایک ڈھانچہ بنانے کی کوشش میں کئی ڈھانچے وجود میں آ گئے۔ مسیب ابن رافع تابعی کہتے ہیں کہ اگلے زمانے میں دستور تھا کہ ایسا کوئی معاملہ پیش آتا جس کا حکم کتاب و سنت میں نہ ملتا، تو ایسے معاملے کو "صواب فی الامراء" یعنی امراء کا میدان کہتے تھے۔ حکام کو اطلاع دی جاتی، وہ علماء کو جمع کرتے، اور ان کے متفقہ فیصلے پر عمل کیا جاتا۔ جامع بیان العلم، جز ثانی، 144۔

یہ طریقہ ایسا ہے جس میں اختلاف نہیں ہوتا۔ حکومت کا زور انتشار و اختلاف کو ختم کرنے کا ضامن بن جاتا ہے۔ صدر اول میں قرآن کی تدوین کے سلسلے میں اسی پر عمل کیا گیا۔ یہ کام اگر حکومت کی سرپرستی میں انجام نہ پاتا اور لوگ اپنے اپنے طور پر صحیفہ الہی کو مرتب کرتے تو شدید اختلافات کا اندیشہ تھا۔

اسی طرح فقہ میں اگر بالفرض یکساں ڈھانچہ بنانا ضروری ہو تو اس کا طریقہ بھی یہی تھا کہ یہ کام حکومت کی ماتحتی میں واحد ادارے کے تحت انجام پاتا۔ اس کی بعض مثالیں بھی موجود ہیں۔ مثلاً تکبیراتِ جنازے کی تعداد پر صحابہ کے درمیان اختلاف ہوا تو حضرت عمر نے سب کو چار تکبیروں پر جمع کر دیا۔ 85۔

عبداللہ ابن مقفہ نے خلیفہ منصور عباسی کو ترغیب دی تھی کہ وہ ایک متفقہ قانون مقرر کر کے ریاست کی طرف سے جاری کر دے۔ رسالت الصحابہ فقہ اپنے پہلے مرحلے میں مختلف روایات کے درمیان ترجیح تلاش کرنے کا نام تھی، مگر سوالات بڑھ رہے تھے۔ لوگوں کو محسوس ہوا کہ جمع شدہ آثار و احادیث میں تمام سوالات کا جواب نہیں ہے۔ اب انہوں نے معلوم احکام کی بنیاد پر مزید استخراج کا طریقہ اختیار کیا۔

اس طرح فقہ کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا، اور وہ دورِ ترجیح سے گزر کر دورِ تخریج میں داخل ہو گئی۔ شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں: جب علماء نے فقہ کو ان قواعد پر مرتب کیا تو ان مسائل میں سے جن میں قدماء نے کلام کیا تھا، اور وہ جو ان کے زمانے میں واقع ہوئے تھے، کوئی مسئلہ ایسا نہ تھا جس کے متعلق کوئی نہ کوئی حدیث انہوں نے نہ پائی ہو۔ اس کے بعد اللہ نے ایک دوسرے زمانے کی پیدائش کی۔ پس حدیث، فقہ اور مسائل کو دوسرے طرز پر مدون کرنے کی ضرورت واقع ہوئی، اور یہ اس واسطے کہ ان کے پاس اتنی احادیث اور آثار نہ تھے جن سے ان اصولوں کے موافق جن کو اربابِ حدیث نے پسند کیا ہے، استنباطِ فقہ پر قادر ہوتے۔

چنانچہ انہوں نے تخریج کے قاعدے پر فقہ کی ترتیب دی۔ حجة الله البالغه جلد اول صفحہ 53 348۔ تخریج کے قاعدے پر فقہ کی تدوین معاملات اور قانونی مسائل کی حد تک صحیح تھی، کیونکہ قانونی اور معاملاتی امور میں ہمیشہ نئے نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں، اور ان میں قیاس و اجتہاد کے بغیر چارہ نہیں۔ مگر عباداتی امور تک اس کی توسیع بلاشبہ ایک اجتہادی غلطی تھی جس نے عبادت کو ایک فن بنا دیا۔

آپ نے فرمایا تھا کہ میں سیدھے سادے آسان دین کو لے کر بھیجا گیا ہوں۔ بعثت بالحنیفیت السمہ مگر عباداتی امور میں نئے نئے فقہی مسائل ایجاد کرنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ دین ایک ایسا پیچیدہ فن بن گیا جس کو فنِ فقہ کا متخصص ہی جان سکتا ہو۔ جس طرح فنون میں موشگافیاں کی جاتی ہیں اور نئی نئی باریکیاں پیدا کر کے قانون وضع کیے جاتے ہیں، اسی طرح عبادات میں باریکیوں کی تلاش شروع ہو گئی۔ اس میں سے یہ ہے کہ اکثر لوگ ہر فن کی باریک بینی کی طرف متوجہ ہو گئے۔

بعض نے اصولِ فقہ کے متعلق بڑی قیل و قال کی، پس نہایت درجہ چھان بین کی، ہر امر کی تعریف و تقسیم کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عبادات میں ایسی بحثیں ہونے لگیں جن کا صحابہ کے زمانے میں کوئی وجود نہ تھا۔ امام شافعی 150-204 ہجری پہلی بار کوفہ پہنچے تو مسجد میں ایک نوجوان کی نماز انہیں ٹھیک دکھائی نہ دی۔ انہوں نے کہا: "نماز ٹھیک طرح پڑھا کرو تاکہ خدا تمہارے حسین چہرے کو عذابِ دوزخ میں مبتلا نہ کرے۔

" نوجوان نے کہا: "میں 15 برس سے اسی مسجد میں محمد ابن حسن 189 ہجری اور ابو یوسف 182 ہجری کے سامنے نماز پڑھ رہا ہوں۔ ان اماموں نے کبھی کچھ نہیں کہا، اور تم میری نماز پر اعتراض کرتے ہو۔ " دونوں امام اتفاق سے اس وقت مسجد کے باہر موجود تھے۔ نوجوان نے جا کر ان سے کہا: "آپ لوگوں نے میری نماز میں کبھی کوئی خرابی دیکھی ہے؟

" انہوں نے جواب دیا: "خدایا کبھی نہیں۔ " نوجوان نے کہا: "مگر مسجد میں ایک شخص بیٹھا ہے جس نے میری نماز پر اعتراض کیا ہے۔ " دونوں اماموں نے کہا: "تم اس شخص کے پاس جاؤ اور سوال کرو کہ نماز میں تم کس طرح داخل ہوتے ہو۔ " نوجوان مسجد میں واپس آیا اور امام شافعی سے کہا: "اے وہ شخص جس نے میری نماز پر اعتراض کیا ہے، بتاؤ کہ تم نماز میں کس طرح داخل ہوتے ہو؟

" یا من عاب علی الصلاة بما تدخل في الصلاة امام شافعی نے جواب دیا: "بفرضین وسنت دو فرض اور ایک سنت کے ساتھ نماز میں داخل ہوتا ہوں۔ " نوجوان نے یہ جواب امام محمد ابن حسن اور امام ابو یوسف کو پہنچایا تو انہوں نے جواب دیا۔ انہوں نے کہا: "جواب ایسے آدمی کا ہے جس کی علم پر نظر ہے۔ " اب انہوں نے لڑکے کو دوبارہ بھیجا کہ جاؤ پوچھو وہ دونوں فرض اور سنت کیا ہیں۔

اس نے آ کر پوچھا تو امام شافعی نے کہا: "پہلا فرض نیت ہے، دوسرا فرض تکبیر تحریمہ ہے، اور سنت دونوں ہاتھوں کا اٹھانا ہے۔ " رحلة الإمام الشافعي المطبعة السلفية قاہرہ 1350 ہجری صفحات 13 تا 14۔ یہی واقعہ اگر دو صحابی کے درمیان ہوتا تو کیا ان کا سوال و جواب بھی اسی قسم کا ہوتا؟ فضل ابن موسی کا بیان ہے کہ مشہور محدث اعمش 147 ہجری بیمار پڑے اور امام ابو حنیفہ 80 تا 150 ہجری ان کی عیادت کے لیے گئے۔

میں بھی ساتھ تھا۔ امام ابو حنیفہ نے اعمش سے کہا: "ابو محمد، یہ خیال نہ ہوتا کہ بار بار آنے سے آپ کو تکلیف ہوگی تو میں جلد جلد عیادت کو آتا۔ " اعمش نے جواب دیا: "جب آپ اپنے گھر میں ہوتے ہیں، اس وقت بھی میرے اوپر بوجھ ہوتے ہیں۔ عیادت کا کیا ذکر؟

" فضل کا بیان ہے کہ واپسی پر امام ابو حنیفہ نے مجھ سے کہا: "اعمش کا کبھی نہ کوئی روزہ صحیح ہوا ہے، نہ غسلِ جنابت۔ " فضل کہتے ہیں کہ سحری اور غسل کے بارے میں امام اعمش کا مسلک امام ابو حنیفہ سے مختلف تھا۔ ابن عبدالبر ابن عبدالبر جامع بیان العلم وفضلی جز ثانی صفحہ 157۔ کیا کسی صحابی سے توقع کی جا سکتی ہے کہ محض فروعی مسائل میں فرق کی وجہ سے وہ کسی کے روزے اور غسل کی صحت اور عدم صحت کے بارے میں اس قسم کا حکم لگاتا؟

اس قسم کے مباحث و مسائل کا نتیجہ یہ ہوا کہ فقہ اسلامی فقہ اسلامی کے نام سے ایک ایسا فن وجود میں آ گیا جس سے اصحاب رسول بھی ناواقف تھے۔ کسی صحابی کو خبر تھی کہ وضو میں مثلاً چار فرض ہیں، تیرہ سنتیں ہیں اور آٹھ مستحبات۔ علم دین کے بارے میں فقہ کے ایجاد کردہ اس فنی معیار نے بعض اوقات بڑی ناپسندیدہ چیزیں پیدا کر دیں۔ کہا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے امام اوزائی 157 ہجری سے کہا تھا: لولا فضل الصحابة لقلت أن علقمة أفقه من عبدالله ابن عمر حجت اللہ صفحہ 327۔

اگر صحابی ہونے کی فضیلت عبداللہ ابن عمر میں نہ ہوتی تو میں کہتا کہ علقمہ عبداللہ ابن عمر سے زیادہ فقیہ ہے۔ امام ابو حنیفہ کے ذہن میں یہ بات اسی لیے آئی کہ فقہ ان کے زمانے میں جس فن کا نام بن گیا تھا، اس فن میں انہیں عبداللہ ابن عمر صحابی علقمہ تابعی سے پیچھے نظر آتے تھے۔ بعض اوقات یہ ذہن اور بھی زیادہ ناپسندیدہ شکل میں ظاہر ہوا۔ زحاق مشک کو مکروہ سمجھتے تھے، لوگوں نے کہا مگر اصحاب محمد تو مشک کا استعمال کرتے تھے۔

زحاق نے جواب دیا: "ہم اصحاب محمد سے زیادہ جانتے ہیں" نحن أعلم منهم جز ثانی 155۔ صحابہ سوالات کا جواب دینے سے بچنے کی کوشش کرتے اور نئے نئے سوالات کی حوصلہ شکنی کرتے تھے۔ اب ایسے لوگ پیدا ہو گئے جو بے باکی کے ساتھ نئے نئے سوالات کر دیتے۔ اب ایسے لوگ پیدا ہو گئے جو بے باکی کے ساتھ نئے نئے سوالات کریدتے اور ان کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔

مثال کے طور پر امام خجندی سے کسی نے پوچھا کہ ایک شخص شافع المذہب نے ایک سال یا دو سال کی نماز ترک کر دی، اس کے بعد اس نے ابو حنیفہ کا مذہب اختیار کر لیا، تو اس پر کس طرح سے قضا واجب ہے؟ آیا امام شافعی کے مذہب کے موافق قضا نماز ادا کرے یا امام ابو حنیفہ کے مذہب کے موافق؟ حجت اللہ البالغہ جلد اول صفحہ 378۔ اس قسم کی باتیں صحابہ کے زمانے میں معدوم تھیں، حتیٰ کہ کوئی شخص اگر کسی صحابی سے ایسا سوال کرتا تو وہ اس کا جواب دینے کے بجائے اس پر لعنت بھیجتا کہ "کیا تم دین محمدی کو دین یہودیت بنانا چاہتے ہو؟

" مگر بعد کو یہ حال ہوا کہ لوگ نہایت دلیری کے ساتھ اس قسم کے سوالات کرتے اور جواب دینے والے فخر کے ساتھ ان کا جواب دیتے، کیونکہ فقہ ان کے نزدیک سب سے بڑا علم تھا۔ ان کے بعد ایسے لوگ ہوئے جو مسائل کو بیان کرنے میں کوئی برائی محسوس نہیں کرتے تھے اور فتوی دینے سے خوف نہیں کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ دین کی بنیاد ہی فقہ پر ہے، اس لیے اس کی اشاعت ضرور ہونی چاہیے۔ حجت اللہ البالغہ صفحہ 352۔

یہی وہ زمانہ ہے جب کہ اصحاب حدیث اور اصحاب رائے یعنی فقہاء کے درمیان زبردست اختلاف پیدا ہوا۔ حضرت ابوہریرہ کی یہ روایت محدثین کے درمیان خوب پھیلی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ امت کچھ زمانے تک کتاب اللہ اور کچھ زمانے تک سنت رسول اللہ پر چلے گی، پھر رائے پر عمل شروع ہوگا اور اسی وقت سے گمراہی میں پڑ جائے گی۔ " جامع بیان العلم جز ثانی صفحہ 134۔ قاسم ابن محمد محمد ابن ابوبکر نے فقہی خوض کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا: "تم ایسی باتیں دریافت کرتے ہو جن کو ہم صحابہ سے دریافت نہیں کرتے تھے، اور ایسی باتوں کی تفتیش کرتے ہو جن کی ہم تفتیش نہیں کرتے تھے۔

" حجت اللہ البالغہ صفحہ 317۔ فقہی خوض کے نتیجے میں جب عبادت الہی کے ایسے ایسے احکام و مسائل وجود میں آئے جن سے اصحاب رسول اللہ بھی ناواقف تھے، تو اہل نظر چیخ اٹھے۔ بقیۃ ابن الولید کا بیان ہے کہ امام اوزائی 157 ہجری نے مجھ سے کہا: "اے بقیہ! علم وہی ہے جو اصحاب محمد سے پہنچا ہے، اور جو کچھ اصحاب محمد سے نہیں پہنچا، وہ علم ہی نہیں۔

" ثانی 29۔ سعید ابن جبیر تابعی 95 ہجری نے کہا: "جو بات اصحاب بدر کو نہیں معلوم، وہ دین بھی نہیں۔ " ما لم یعرفہ البدریون فلیس من الدین 97۔ شعراء نے اس پر نظمیں لکھیں۔

ایک شاعر اپنی طویل نظم میں کہتا ہے: قد نقر الناس حتى أحدثوا بدعا فی الدين بالرأي لم تبعث به الرسل 98۔ لوگوں نے کھود کرید کی، یہاں تک کہ دین میں ایسی نئی چیزیں نکالی جنہیں پیغمبر نہیں لائے تھے۔ عبداللہ ابن مسلمہ قانبی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں امام مالک کے پاس گیا تو دیکھا کہ رو رہے ہیں۔ میں نے سلام کیا، انہوں نے جواب تو دیا مگر روتے رہے۔

میں نے کہا: "ابو عبداللہ! کیوں آپ اس قدر رو رہے ہیں؟ " فرمایا: "میرا معاملہ اب خدا کے ہاتھ میں ہے، مجھ سے بہت زیادتی ہوئی۔ کاش اس معاملے میں میرے لفظ لفظ پر ایک ایک کوڑا مجھے مارا جاتا اور میں نے اپنی رائے سے کچھ نہ کہا ہوتا۔

اتنے زیادہ فتوے نہ دیے ہوتے" جز ثانی صفحہ 145۔ امام مالک کہتے ہیں: "اگلے لوگ جن کو میں نے دیکھا، ان کا یہ دستور نہ تھا کہ بے دھڑک کہہ دیں: یہ حلال ہے، وہ حرام ہے۔ " ما كانوا يجترئون على ذلك وإنما كانوا يقولون نكره هذا ونرى هذا حسناً جز ثانی صفحہ 146۔ عبداللہ ابن مسلمہ قرشی سے روایت ہے کہ امام مالک نے کہا: "یہ معاملہ برابر استوار رہا، یہاں تک کہ ابو حنیفہ ظاہر ہوئے اور مسلمانوں میں رائے کو رواج دے گئے۔

" خالد خالد ابن نزار نے امام مالک کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ابو حنیفہ تلوار لے اس امت پر ٹوٹ پڑتے تو اتنا نقصان نہ پہنچا سکتے جتنا اپنی رائے و قیاس سے پہنچا گئے۔ ابن عیینہ نے کہا: "کوفہ کا معاملہ درست رہا، یہاں تک کہ ابو ابو حنیفہ کا ظہور ہوا" جز ثانی صفحہ 147۔ امام ابو یوسف 182 ہجری نے جب عباسی سلطنت میں قانون کا عہدہ سنبھالا تو فقہ کے پھیلاؤ کے لیے ایک مادی محرک بھی پیدا ہوگیا۔ امام ابو حنیفہ کے شاگردوں میں سب سے مشہور امام ابو یوسف ہیں۔

وہ ہارون رشید کے عہد میں قاضی القضات مقرر کیے گئے۔ پس وہ امام ابو حنیفہ کے مذہب کی شہرت کا اور اطراف عراق، خراسان اور ماوراء النہر میں معمول بہی ہونے کا سبب بن گئے۔ حجت اللہ البالغہ صفحہ 334۔ امام ابو یوسف کو اسلام میں سب سے پہلے قاضی القضات کہا گیا۔

وہ تین عباسی خلفاء مہدی، ہادی اور ہارون الرشید کے زمانے میں قاضی کے منصب پر فائز رہے۔ اس زمانے کے لحاظ سے ان کا عہدہ بیک وقت چیف جسٹس اور وزیر قانون دونوں کا تھا۔ چنانچہ پوری حکومت اسلامی میں فقہ، خاص طور پر فقہ حنفی کو خوب ترقی ہوئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ حکومت کے عہدوں کے لیے فقہ میں مہارت حاصل کرنے لگے۔

محمود وراق 845 عیسوی کی ایک طویل نظم کے چند شعر یہ ہیں: جامع بیان العلم وفضلی جز اول صفحہ 166۔ ركبوا المراكب واغتدوا زمرا الی باب الخلیفہ صبح ہوئی اور سوار ہو کر خلیفہ کی دیوڑی کی طرف دوڑے۔ وصلوا البكور الی الرواح ليبلغوا الرتب الشريفہ اونچے عہدوں کی طلب میں رات دن ایک کر دیتے ہیں۔ ضاقت قبور القوم واتسعت قصورهم المنيفہ ان کی قبریں تو تنگ ہو چکی ہیں مگر اونچے محل خوب وسیع ہیں۔

متفقہ جمع الحدیث الی قیاس ابی حنیفہ متفقہ ہیں، انہوں نے احادیث کو قیاس ابو حنیفہ کے مطابق کر لیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مذاہب فقہ کے ابتدائی بانیوں کے ذہن میں ہرگز وہ تفریقی شدت نہ تھی جو بعد کو وقوع میں آئی۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ عبادتی فقہ کو مختلف مذاہب میں تقسیم کرنے کا کوئی دوسرا نتیجہ بھی نکل نہ سکتا تھا۔ ساری تاریخ بتاتی کہ ما بعد الطبیعیاتی امور میں، دوسرے لفظوں میں وہ امور جن کی صداقت کو عقلی طور پر جانچا نہ جا سکتا ہو، انسان بے حد حساس واقع ہوا ہے۔

اس قسم کے امور میں معمولی اختلاف بھی دو انسانی گروہوں کے درمیان ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دینے کے لیے کافی ہے۔ مثال کے طور پر قصاص کے بارے میں امام شافعی نے سورہ حج کی آیت 60 سے استدلال کیا ہے کہ کسی شخص سے قیاس اسی خاص ڈھنگ پر لیا جائے گا جس ڈھنگ پر اس نے ظلم کیا ہو۔ مثلاً کسی نے اگر ایک آدمی کو پانی میں ڈوبا کر مارا ہے تو اس کو بھی ڈوبا کر ہی مارا جائے گا۔ کسی نے آگ میں جلا کر مارا ہے تو اس کو بھی جلا کر مارا جائے گا۔

مگر حنفیہ اس کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قتل خواہ کسی طریقے سے کیا گیا ہو، قاتل سے قصاص ایک ہی معروف طریقے پر لیا جائے گا۔ قانون کے ماہرین اور علماء کے درمیان قانون کی تعبیر میں اس قسم کے اختلافات ہمیشہ ہوتے ہیں۔ مگر یہ اختلاف فرقہ بندی اور باہمی تعصب پیدا نہیں کرتا۔

اس کے برعکس عباداتی امور میں اتنا سا اختلاف بھی ایک ہی جگہ عبادت گاہیں بنوا دیتا ہے کہ نماز باجماعت کے لیے تکبیر کہی جائے تو مقتدیوں کو شروع ہی میں صف بنا کر کھڑا ہو جانا چاہیے، یا اس وقت جب مکبر قد قامت الصلاۃ کہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے: الخلاف فی الدین ینتیج من الخصومۃ اکثر مما ینتیج الخلاف فی السياسہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ مسلمانوں میں باہمی اختلاف کی واحد سب سے بڑی وجہ وہ عبادتی اختلاف ہے جس کو الگ الگ فقہ کی شکل میں مرتب کیا گیا۔ حالانکہ یہ اختلاف جو حقیقتاً انتہائی ضمنی تھا، بااعتبار حقیقت کوئی اہمیت نہ رکھتا تھا۔ وہ چیز جس کو فقہاء متعارض روایتوں میں ترجیح یا افضلیت تلاش کرنا کہتے ہیں، عباداتی امور میں اکثر اوقات غیر ضروری ہوتا ہے، کیونکہ یہ تعارض حقیقتاً عبادت کی ضمنی شکلوں میں تنوع کی تصدیق کرتا ہے، نہ کہ اختلاف کو بتاتا ہے۔

جس کو ختم کرنے کے لیے کسی علمی مشقت کی ضرورت ہو۔ اسی کے ساتھ ایک نقصان اور بھی ہوا۔ ان جزئیات یا دوسرے لفظوں میں تکمیلی احکام کی اہمیت ابتدائی فقہاء کے نزدیک اگرچہ اس سے زیادہ نہ تھی کہ عوام کو ایک بنا بنایا مکمل ڈھانچہ دے دیا جائے تاکہ وہ با آسانی ان عبادات کو ادا کر سکیں۔ مگر یہاں بھی انسان کی تاریخی کمزوری ان کے معصوم ارادوں پر غالب آ گئی۔

لوگوں نے یہ سمجھا کہ عبادت ایک انتہائی مقررہ عمل کو یکسانیت کے ساتھ دہرانے کا نام ہے۔ اس طرح اگرچہ اعتقادی طور پر نہیں، مگر عملی طور پر حقیقت عبادت کے بجائے شکل عبادت لوگوں کا مقصود بن گیا۔ موجودہ عبادتی فقہ نے اس طرح بیک وقت مسلمانوں کو دو تحفے دیے ہیں: ایک اختلاف، دوسرے مذہبی جمود۔ اہل حدیث کا گروہ اسی فقہی خرابی کو ختم کرنے کے لیے وجود میں آیا تھا، مگر وہ خود ایک شدید تر قسم کا فقہی گروہ پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بھی وہی غلطی کی جو ان کے پیش روؤں نے کی تھی۔ آمین آہستہ کہی جائے یا بلند آواز سے، امام کے پیچھے فاتحہ پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے، اس قسم کے ضمنی فروغ جو عبادتی افعال کے بارے میں روایات میں ملتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو تسلیم کرنے کے بجائے وہ دوبارہ اس کوشش میں لگ گئے کہ ایک کو راجح قرار دے کر بقیہ کو مرجح ثابت کریں، اور اس طرح دوسروں کے بالمقابل خود اپنا ایک صحیح تر نظام عبادت مقرر کریں۔ اس قسم کی کوشش صرف ایک نیا فقہی فرقہ وجود میں لا سکتی تھی، اور اس نے وہی انجام دیا۔ اس صورتحال کی اصلاح کی صورت یہ ہے کہ عبادتی فقہ کو معاملاتی فقہ سے الگ کر دیا جائے، جیسا کہ وہ دوسری صدی ہجری سے پہلے تک الگ تھی۔

معاملاتی فقہ میں اجتہادی تفصیلات یا مزید تعینات نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہیں، مگر عبادتی فقہ کو صرف انہی طریقوں کو جمع ترتیب تک جمع و ترتیب تک محدود رہنا چاہیے جو صحیح روایات میں موجود ہیں۔ یہاں نہ ترجیح پسندیدہ ہے نہ تخریج۔ جہاں ایک سے زیادہ طریقے ملیں، وہاں ضروری حوالوں کے ساتھ تمام طریقوں کو رواج دے، وہاں ضروری حوالوں کے ساتھ تمام طریقوں کو درج کر دینا چاہیے۔ جہاں ایک سے زیادہ طریقے ملیں، وہاں ضروری حوالوں کے ساتھ تمام طریقوں کو درج کر دینا چاہیے، بجائے اس کے کہ ایک کو راجع اور دوسرے کو مرجح ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔

خلیفہ ہارون رشید نے ایک بار ارادہ کیا کہ تمام لوگوں کو حکم دے دیا جائے کہ وہ مسائل میں صرف امام مالک کی فقہی رائے پر عمل کریں۔ امام موصوف نے خلیفہ کو روک دیا اور فرمایا کہ ایسا نہ کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب فروعات میں مختلف ہوئے ہیں۔ لا تفعل فان اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اختلفوا فی الفروع حجت اللہ فروعی اختلاف اگر صحابہ کے لیے اجتماعی عبادت گزاری میں معنی نہ تھا تو ہمارے لیے وہ کیوں معنی ہو جائے گا کہ عوامی ضرورت کے نام پر دین میں ایسے اضافے کریں جو خدا اور رسول کے دیے ہوئے توسعات کا دروازہ بند کر دے؟ اس کا غیر مطلوب ہونا اس تاریخی واقعے سے ثابت ہے کہ ان اختلافات کے باوجود صحابہ کا یہ حال تھا کہ وہ بنیاد مرسوس، بنیان مرسوس سورہ الصف بنے ہوئے تھے، اور جب اختلافات کو ختم کر کے یکساں عبادتی نظام بنایا گیا تو امت میں ایسا اختلاف پڑا کہ آج تک ختم نہ ہوا۔

دوسری انتہائی ضروری چیز مدارس دینیہ میں تعلیم کے موجودہ نہج کی تبدیلی ہے۔ اس برائی کو امت کے اندر مسلسل باقی رکھنے کا واحد موثر عامل یہی ادارہ ہے۔ ہمارے دارالعلوم موجودہ حالات میں صرف اس بات کا ذریعہ بن گئے ہیں کہ اپنے مخصوص فقہی مسلک کو قرآن و سنت کے مطابق ثابت کر کر دکھائیں۔ 1330 ہجری میں رشید رضا مصری ہندوستان آئے تھے۔

اس سلسلے میں وہ دارالعلوم دیوبند بھی گئے۔ وہاں ان کے خیر مقدم کے لیے ایک جلسہ ہوا۔ اس موقع پر موصوف نے دارالعلوم کے ایک استاد سے پوچھا کہ یہاں حدیث کے درس کا طریقہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جب حدیث پڑھی جاتی ہے تو محدث پہلے اس کے علمی نکات کو بیان کرتا ہے۔

اگر بادر رائے میں حدیث امام ابو حنیفہ کے مسلک کے خلاف ہوتی ہے تو محدث حنفی مسلک سے اس کی مطابقت ثابت کرتا ہے۔ رشید رضا نے یہ سن کر کہا: "کیا یہی تمام احادیث میں ہوتا ہے؟ " کہا گیا: "ہاں۔ " انہیں یہ بات بہت عجیب معلوم ہوئی۔

مولانا محمد یوسف نبوری 1908 تا 1977 کی روایت کے مطابق نفخۃ العنبر صفحہ 71 انہوں نے کہا: هل الحديث حنفی وكيف يمكن ذلك وهل هذا الا عصبیه ما لها من سلطان کیا حدیث بھی حنفی ہے؟ ایسا کس طرح ہو سکتا ہے؟ یہ تو محض عصبیت ہے جس کے لیے کوئی دلیل نہیں۔ مولانا انور انور شاہ کشمیری اس زمانے میں دارالعلوم میں حدیث کے استاد تھے۔

انہیں یہ خبر پہنچی تو انہوں نے اپنی خیر مقدمی، انہوں نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں اسی کو اپنا موضوع بنایا اور ثابت کر دیا کہ تمام حدیثیں فقہ حنفی کے مطابق ہیں۔ تاہم انور شاہ کشمیری 1875 تا 1934 کو آخر عمر میں اس طریق تعلیم کی خامی کا احساس ہو گیا۔ تاہم انور شاہ کشمیری 1875 تا 1934 کو آخر عمر میں اس طریق تعلیم کی خامی کا احساس ہو گیا تھا۔ موصوف کے شاگرد مولانا مفتی محمد شفیع 1897 تا 1976 ناقابل ناقل ہیں کہ مولانا کشمیری نے ان سے کہا: "ہماری تمام قد و کاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کریں۔

" مگر کیا حاصل ہے اس کا؟ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنے مسلک کو ثواب محتمل الخطا ثابت کریں اور دوسرے مسلک کو خطا محتمل الثواب کہیں۔ ہم تمام تر تحقیق و کاوش کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ صحیح ہے لیکن احتمال موجود ہے کہ یہ خطا ہو اور وہ خطا ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ ثواب ہو۔ قبر میں منکر نکیر یہ نہیں پوچھیں گے کہ رفع دین حق تھا یا ترک رفع دین حق تھا۔

آمین بالجہر حق تھی یا بالسر حق تھی۔ جس چیز کو نہ دنیا میں نکھرنا ہے نہ محشر میں، اس کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی۔ اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی، جس کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے، آج وہ دعوت تو نہیں دی جا رہی۔ ہم لگے ہوئے ہیں ان فروعی بحثوں میں۔

وحدت امت صفحہ 20 ہمارے عربی مدارس خواہ وہ کسی بھی مسلک کے تحت قائم ہوئے ہوں، ان میں شیخ الحدیث کا منصب اسی قسم کی فقہی پہلوانی کے لیے خاص ہو گیا ہے۔ یہاں ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو بظاہر عالم دین کی سند لے کر نکلتے ہیں مگر حقیقتاً وہ عالم اختلاف ہوتے ہیں۔ وہ علم دین کا کمال یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے فقہی مذاہب کے مقابلے میں اپنی فقہ کو صحیح ثابت کر دکھائیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے دینی فروغ کو لے کر ان کی بنیاد پر اکھاڑے قائم کرتے ہیں اور ساری امت کو ایسے جدال و نزاع میں الجھا دیتے ہیں جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

مزید یہ کہ غیر اہم فقہی فروغ کو اہم ترین دینی مسئلہ بنا کر وہ عوام کے اندر یہ ذہن پیدا کرتے ہیں کہ عبادت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ فلاں مخصوص اشکال کے بجائے فلاں مخصوص اشکال کے ساتھ اس کو دہرا لیا جائے۔ مدارس دینیہ میں جب تک اس قسم کی نسل پیدا کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا جائے، عوام کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ ان مدارس کے سلسلے میں کم سے کم جو بات کہی جا سکتی ہے وہ یہ کہ امت واحدہ کو انہوں نے امت متفرقہ میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ الذین فرقوا دینهم و كانوا شیعہ کل حزب بما لديهم فرحون سورہ الروم آیت 32 جنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اپنے دین کو اور ہو گئے فرقے فرقے۔

ہر گروہ اسی میں خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔ امام احمد بن حنبل کے بارے میں روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے جزئیات احکام میں اختلاف کو وسعت قرار دیا تھا۔ انہ سمي الخلاف سعة یہی تعبدی مسائل میں اختلاف کا صحیح ترین شرعی حل ہے۔ یہ تمام اختلافات ظاہر ہے عبادت کے جزئی اداب سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں فرق و اختلاف ہونا عین فطری ہے۔

صحابہ کرام کا ان امور میں مختلف ہونا بتاتا ہے کہ یہ اختلافات اسی کے ساتھ شرعی بنیاد بھی رکھتے ہیں۔ ایسی حالت میں ان کو توسع پر محمول کرنا ہی صحیح مسلک ہے اور یہی تمام محدثین کا مسلک تھا جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.